|
|
| |
بگھت رام |
|
ابھي ابھي ميرے بچے نے ميرے بائيں ہاتھ کي چھينگليا کو
اپنے دانتوں تلے داب کر اس زور سے کاٹا کہ ميں چلائے بغير نہ رہ سکا اور غصے
ميں آکر اس کے دو تين طمانچے بھي جڑ دئيے ہيں، بيچارہ اسي وقت سے ايک معصوم
پلے کي طرح چلا رہا تھا، يہ بچے کم بخت ديکھنے سے کتنے نازک ہوتے ہيں، ليکن ان
کے نھنے نھنے ہاتھوں کي گرفت بڑي مظبوط ہوتي ہے، ان کے دانت يوں تو دودھ کے
ہوتے ہيں، ليکن کاٹنے ميں گلہيروں کو بھي مات کرتے ہيں، اس بچے کي معصوم شرارت
سے معا ميرے دل ميں بچپن کا ايک واقعہ ابھر آيا ہے، اب تک ميں اسے بہت
معمولي واقعہ سمجھتا تھا اور اپني دانست ميں اسے قطعا بھلا چکا تھا، ليکن
ديکھئے يہ لاشعور کا بھي کس قدر عجيب ہے، اس کے سہارے ميں بھي کيسے کيسے
عجائب مستور ہيں، بظاہر اتني سي بات ہے کہ بچپن ميں نے ايک دفعہ اپنے گائوں کے
ايک آدمي بگھت رام کےبائيں ہاتھ کا انگھوٹھا چبا ڈالا تھا، اور اس
نے مجھے طمانچے مارنے کے بجائے سيب اور آلوچے کھلائے تھے اور بظاہر ميں اس
واقعہ کو اب تک نہيں بھول چکا ہوں، ليکن ذرا اس بھان متي کے بارے پٹارے کي
بواالعجياں ملاحظہ فرمائيے، يہ معمولي سا واقعہ اک خوابيدہ ناگن کي طرح ذہن کے
پشتارے ميں دبا ہے اور جونہي ميرا بچہ ميري چھنگليا کو دانتوں تلے دباتا ہے اور
ميں اسے پيٹتا ہوں، يہ پچيس تيس سال کا سويا ہوا ناگ بيدار ہوجاتا ہے، اور پھن
پھيلا کر ميرے ذہن کي چار ديواري ميں لہرانے لگا، اب
کوئي اسے کس طرح مار
بھگائے، اب تو اسے دودھ پلانا ہوگا، خير تو وہ واقعہ بھي سن ليجئے، جيسا کہ ميں
|
|
 |