|
|
| |
بگھت رام |
جيسي بےمعني بے مطلب اس کي زندگي تھي، ويسي ہي اس کي موت تھي۔
ميں نے اسے مرتے ہوئے نہيں ديکھا، ليکن جن لوگوں نے اسے مرتے ہوئے ديکھا ہے، وہ
بھي اس کے پاگل پن پر آج تک ہنستے ہيں، کہتے ہيں، مرنے سے پہلے وہ بالکل ہشاش
بشاش تھا، ندي کے کنارے رام دائي کے ساتھ کھڑ ا تھا اور ان طوفاني لہروں
کا تماشہ ديکھ رہا تھا، جو برساتي بارش کي وجہ سے ندي کے سطح کو گرداب فنا
بنائےہوئے ہے، يکا يک اس نے اپنے کنارے کے قريب بھيڑ کے تين چار بچوں کو ديکھا
جو ان ہلاکت آفرين لہروں کي گود ميں خوفزدہ آواز ميں ابا ابا کہتے ہوئے بہتے
چلے جا رہے تھے، ايک لمحے کيلئے بگھت رام ان کي طرف ديکھا دوسرے لمحے ميں
وہ ندي کي طوفاني لہروں کي گود ميں تھا، اور بھيٹ کے بچوں کو بچانے کي
ناکام کوشش کر رہا تھا، اسي کوشش ميں اس نے اپني جان گنوا دي، دوسرے دن جب
طوفان تھم گيا، تو اس کي لاش ندي کے غربي کنارے تنک کے ايک موڑ پر ايک تنے سے
لپٹي ہوئي پائي گئي، جس کا آدھا حصہ پاني ميں ڈوبا ھوا تھا کيسي جاہلانہ،
احمقانہ، بيوقوفانہ موت تھي، يہ حيواني زندگي ہے۔۔۔۔ليکن اس کے
اچھے بھائيوں نے اچھا کيا، اسے معاف کرديا، اور گو وہ برادري سے خارج ہوچکا
تھا، اور اب وہ نہ ہندو رہا نہ مسلمان نہ اچھوت، پھر بھي انہوں نے اپنے دھرم کے
مطابق اس سے اچھا سلوک کيا، وہ اس کي لاش گھر لے گئے، اسے نہلايا دھلايا۔۔۔اور
اپنے رسوم و روا کے مطابق اسے شمشان گھاٹ لے جا کر آگ لگا دي۔
ليکن يہ ١٩٢٠ کي بات ہے، آج انہوں نے ١٩٤٤ ہے اورميرے نھنے بچے نے ميري چھيگليا
کو زور سے کاٹ کھايا تھا اور ميں نے غصے ميں آکر اسے دو تين طمانچے جڑ دئيے ہيں
اور معصوم بچہ صوفے ميں منہ چھپائے رو رہا ہے اور ميں سوچ رہا ہوں آج ميں يہ
سوچتا ہوں۔ |
|
 |