Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  کرشن چندر
  بگھت رام
تم جو ايک گنوار اجڈ، جھوٹے پنساري تھے،  اور جڑي بوٹياں بيچتے تھے، اور لوگوں کو ٹھگتے تھے اور ان سے پيسے بٹورتے تھے ايک مسلمان فقيرني سے نکاح کئے ہوئے تھے، اور ايک اچھوت بيوہ سے جھوٹ موٹ کا بياہ رچائے ہوئے تھے، بگھت رام تم جو جيلکي ہوا کھا چکے تھے، اور گائوں بھر کے  مانے ہوئے لفنگے اور غنڈے تھے۔۔۔۔ تم جس سے لوگ نفرت کرتے تھے، اور آج بھي کرتے ہيں، ايک ميرے گائوں ميں ہي نہيں ہر گائوں ميں  ہر شہر ميں ہر جگہ پر۔۔۔آج ميں سوچتا ہوں بگھت رام شايد ميں نے تمہيں پہچانا نہيں، شايد ميں نے تم کو پہچانے ميں غلطي کي، شايد تم ان تمام بڑے آدميوں ہو اچھے ہو بہتر جو مليں بناتے ہيں اور لوگوں کو بھوکا مرجانے ديتے ہيں، جو اونچي اونچي عمارتيں بناتے ہيں اور خدا کي مخلوق کو گاليوں  ميں پھرنے پر مجبور کرتےہيں، جو نادرا عورتوں سے ان کي عصمت چھين کر عصمت پرست بنتے ہيں جو اپني وقتي بيويوں کيلئے قبحہ خانے اور اپني اولادکيلئے يتيم خانے تعمير کرتے ہيں اور سماج کے مندر ميں بيٹھ کر ان پر لعنت  بيجھتے ہيں، ہاں تم ان سب آدميوں سے بڑے ہو جو ٹريکٹر، ہوائي جہاز، اسکول، مشين گن، تھئيڑ، سينما، ايمپائر بلڈنگ، ناچ گھر، بنک،  يونيورسٹي سلطنت، تخت طائوس، کتبے، اسپند، فلسفہ،  زبان، اور ادب کي تخليق کرتے ہيں،  اور آدمي کي نسل کو کائنات کي تاريکي ميں ہميشہ ہميشہ کيلئے حيران و پريشان چھوڑ ديتے ہيں تم ان سب آدميوں سے بڑے ہوں،  بگھت رام کيونکہ تم پنساري ہو، جڑي بوٹيان فروخت کرتے ہو،  آوارہ مزاج ہو نہيں نہيں تم سچ مچ شاعر ہو، ليکن لوگ اچھے لوگ ہو جو ہر صدي ميں ہر برس ميں جگہ ہر گائوں ميں پيدا ہوتا ہے، ليکن لوگ اچھے لوگ ، نيک لوگ بڑے لوگ اسے سمجھنے سے انکار کر ديتے ہيں، تم وہ شاعر ہو دوست آئو۔۔۔۔۔ہاتھ ملائو۔
ليکن بگھت رام اب مجھ سے ہاتھ نہيں ملا سکتا کيونکہ وہ مر گيا ہے ١٩٢٠ ميں طغياني ميں بھيڑ کے بچے کو بچاتے ہوئے مرگيا، اور وہيں ندي کے کنارے اس کي چتا سے شعلے بلند ہوئے، لال لال شعلے شعلوں کے پتے شعلوں کي کلياں ، شعلوں کے پھول اس کي چتا سے کھل رہے تھے، اور چتا جل رہي تھي، اور کسي کي آنکھ ميں آنسو نہ تھے، قدرت بھي اداس نہ تھي، آسمان صاف تھا، نيلا گہرا، خوبصورت، دھوپ بھي صاف تھي، کھلي ہوئي چمکدار، نرم اور گرم اور کہيں کہيں بادلوں کي سپيد سبک اندام راج ہنس تير رہے تھے اور ندي کا پاني گيت گاتا ہوا، بھنور بناتا ہوا،  لہروں کے جال تنتا ہوا اس کي چتا کے قريب سے گزر رہا تھا، اور چٹا کي پاس ہي کھٹے اناروں کے جھنڈ ميں شعلہ بداماں پھول دہک رہے تھے، کائنات خوش تھي، خدا خوش تھا خود شاعر خوش تھا، کيونکہ آج اس کا سل شعلہ بن گيا تھا اور اسکي دفعہ پھول يہ شعلے جو تمہارے دل ميں ہيں، يہ پھول جو ہر جگہ ہيں، تمہارے اندر ہيں اور ميرے اندر ہيں اور پھر اندر اور باہر سب جگہ  ہر جگہ کائنات اور شاعر اور آدمي ايک ہوگئے تھے، ايسي موت کسے نصيب ہوتي ہے، بگھت رام۔۔۔۔۔۔۔
پچھلا صحفہ (14) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu