Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  کرشن چندر
  بگھت رام
يہ پچيس تيس سال کا سويا ہوا ناگ بيدار ہوجاتا ہے، اور پھن پھيلا کر ميرے ذہن کي چار ديواري ميں لہرانے لگا، ابکوئي اسے کس طرح مار بھگائے، اب تو اسے دودھ پلانا ہوگا، خير تو وہ واقعہ بھي سن ليجئے، جيسا کہ ميں ابھي عرض کرچکا ہوں يہ ميرے بچپن کا واقعہ ہے جب ہم لوگ رنگپور کے گائوں ميں رہتے تھے، رنگپور کا گائوں تحصيل جوڑي کا صدرمقام ہے اس لئے اس کي حيثيت اب ايک چھوٹے موٹے قصبے کي ہے، ليکن جن دنوں ہم وہاں رہتے تھے، رنگپور کي آبادي بہت  زيادہ نہ تھي، يہي کوئي ڈھائي تين سو گھر ہوں گے، جن ميں بيشتر گھر برہنموں اور کھتريوں کے تھے، دس بارہ گھر جلاہوں اور کمہاروں کے ہوں گے پانچ  چھ بڑھئي اتنے ہي چمار اور دھوبي اور يہي  سارے گائوں ميں لے دے کے  آٹھ دس گھر مسلمانوں کے ہوں گے ليکن ان کي حالت نگفتہ بہ تھي، اس لئے يہاں تو ان  کا ذکر کرنا بھي بيکار سا معلوم ہوتا ہے۔
گائوں کي برادري کے مکھيا لالہ کانشي رام تھے، يوں تو براہني سماج کے اصولوں کے مطابق برداري کا مکھيا کسي براہمن ہي کو ہونا چاہئيے تھا اور پھر برہنموں کي آبادي بھي گائوں ميں سب سے زيادہ تھي اس پر برادري نے لالہ کانشي رام کو جو ذات کے کھتري تھے، اپنا مکھيا چنا تھا، پھر وہ سب سے زيادہ لکھے پڑھے تھے،  يعني شہر تک پڑھے تھے،  جو خط ڈاکيہ نہيں پڑھ سکتا  تھا، اسے بھي وہ اچھي طرح پڑھ ليتے تھے،  تمسک ہنڈي، نالش، سمن ، گواہي، نشان دہي کے علاوہ نئے شہر کي بڑي عدالت کي ہر کاروائي سے وہ بخوبي واقف تھے، اس لئے گائوں کا ہر فرد اپني ہر مصيبت ميں چاہے وہ خود لالہ  کانشي رام ہي کي پيدا کردہ ہو، لالہ کانشي رام ہي کا سہارا ڈھونڈتے تھے، اور لالہ جي نے آج تک اپنے کسي مقروض کي مدد کرنے سے انکار نہ کيا،  اسي لئے وہ گائوں کے مکھيا تھے، گائوں کے مالک تھے اور رنگ پور سے باہر بھي دور دور تک جہاں تک دھان کے کھيت دکھائي ديتے تھے، لوگ ان کے گن گاتے تھے۔
ايسے شريف لالہ کا منجلہ بھائي لالہ بانشي رام، جو اپنے بڑے بھائي کے ہر نيک کام ميں اس کا ہاتھ بٹاتا تھا، ليکن گائوں کے لوگ اسے اتنا اچھا نہيں سمجھتے تھے، کيونکہ اس نے اپنے برہمن دھرم کو تياگ دياتھا، اور گورونانک جي کے چائے ہوئے پنتھ ميں شامل ہو گيا تھا، اس نے اپنے  گھر  ميں ايک چھوٹا سا گورودوارہ بھي تعمير کرايا تھا اور ان کے شہر سے ايک نيک صورت،  نيک طينت، نيک سيرت، گرنتھي کو بلا کر اسے گائون ميں سکھ کے پرچار کيلئے مامور کردياتھا۔۔۔لالہ کانشي رام کے سکھ بن جانے سے گائوں ميں جھٹکے اور حلال کا سوال پيدا ہوگيا تھا۔ مسلمانوں اور سکھوں کے لئيے تو گويہ  يہ اک مذہبي سوال تھا، ليکن بھيڑ بکريوں اور مرغے مرغيوں کيلئے تو زندگي اور موت کا سوال تھا، ليکن انسانوں کے نقار خانے ميں جانوروں کي کون سنتا ہے۔
پچھلا صحفہ (2) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu