|
|
| |
ايراني پلائو |
نرگس اور نمي ايک دم بول اٹھے، تو سالہ
پھر گڑ بڑ گھوٹا لاکرتا ھے، صاف صاف کيوں نہیں بولتا کيا کام کرتا ھے۔
ميں نے کہا۔ميرا نام بش ھے، ميں کہانياں لکھتا ھوں۔
اوہ تو بابو ھے نمي بولا، نمي ايک چھوٹا سا لڑکا تھا ، يہاں دائرے ميں جتنے
لڑکے تھے ان سب ميں سب سے چھوٹا ، مگر اس کي آنکھوں ميں ذہانت تيز چمک
تھي اور چونکہ وھ اخبار بھي بيچتا تھا، اس لئيے اسے مجھ سے دلچسپي پيدا
ھوگئي تھي، اس نے ميرے قريب قريب آرک کيا ، کون سے اخباروں ميں لکھتے ھو؟ پھري
ريس ،سنٹل ٹايث، بمبئے کرانيکل، ميں اب اخباروں کو جانتا ھوں۔
وھ بڑھ کر ميرے قريب آگيا۔
ميں نےکہا ميں شاھراہ ميں لکھتا ھوں۔
ساہرھ؟ کون نوز پيپر ھے؟
دہلي سے نلکتا ھے ۔
دلي کے چھاپے خانے سے وھ؟ نمي کي آنکھيں ميرے چہرے پر پھيل گئيں۔
اور اب ادب لطيف ميں لکھتا ھوں، ميں نے رعب ڈالنے کيلئےکہا۔
کلديب کور ھنسنے لگا۔ کيا کہا بدبے خليف ميں لکھتا ھے،سالے يہ تو کسي انگلش فلم
ايکٹريس کا نام معلوم ھوتا ھے،بدبے خلطيف آہاآہا آہا، ابے نمي تو اپنا نام
بدلکر خلطيف رکھ لے، بڑا اچھا نام مالوم ھوگا،ہاہاہاہا جب سب لڑکے ھنس چکے تو
ميں نے بڑي سنجيدگي سے کہا، بدبے خلطيف نہیں، ادب ، ادب، لطيف، لاھور سے
نکلتا ھے، بہت اچھا پيپر ھے ۔
نرگس نے بے پرواہي سر ھلا کے کہا، ہاں سالے ھوگاادب لطيف ھي ھو گا ھم کو کيا،
ھم اس کو بيچ کے ادھير پيسہ تھوڑي کماتے ھيں۔
تقريبا اتنا ھي جتنا تمہيں ملتا ھے ، اکثر کچھ بھي نہيں ملتا جب ميں لفظوں پر
پالش کرچکتا ھوں تو اخبار والے شکريہ کہہ کر مفت لے جاتے ھين اور اپني رسالے يا
اخبار کو چمکاليتے ھيں۔
|
|
 |