|
|
| |
کچرا بابا |
گردے کے دوسرے آپريشن کے بعد اس کي نوکري جاتي رہي، طويل علالت ميں ہہي ہوتا
ہے، کوئي کہاں تک انتظار کرسکتا ہے، بيماري انسان کا اپنا ذاتي معاملہ ہے،اس
لئے اگر وہ چاہتا کہ اس کي نوکري قائم رہے تو اسے زيادہ دير تک بيمار نہ پڑنا
چاھئيے، انسان مشين کي طرح ہے، اگر ايک مشين طويل عرصے کے لئے بگڑي رہتي ہے تو
اسے اٹھا کے ايک طرف رکھ ديا جاتا ہے اور اس کي جگہ نئي مشين آجاتي ہے کيونکہ
کام رک نہيں سکتا، بزنس بند نہيں ہوسکتا اور وقت تھم نہيں سکتا، اس لئے جس
سےمعلوم ہو کہ اس کي نوکري بھي جاتي رہي ہے تو اسے شديد دھچکا سا لگا، جسيے اس
کا دوسرا گردہ بھي نکال ليا گيا، اس دھچکے سے اس کے آنسو بھي خشک ہوگئے، اصلي
اور بڑي مصيبت ميں آنسو نہيں آتے، اس نے محسوس کيا صرف دل کے اند ايک خلا محسوس
ھوتا ہے، زمين قدموں کے نيچے سے کھسکتي معلوم ہوتي اور رگوں ميں خون کے بجائے
خوف دوڑتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔
کئي دنوں تک وہ آنے والي زنگي کے خوف اور دہشت سے سو نہيں سکا تھا، طويل علالت
کے خرچے بھي طويل ہوتے ھيں، اور زير بار کرنے والے ہولے ہولے گھر کي سب قيمتي
چيزيں چلي گئيں، مگر دلاري نے ہمت نہيں ہاري، اس نےساڑھے چار ماہ تک ايک ايک
چيز بيچ دي اور آخر ميں نوکري بھي کرلي، وہ ايک فرم ميں ملازم ہوگئي تھي، اور
روز اپني فرم کے مالک کو لے کر ھسپتال بھي آئي تھي، وہ ايک دبلا پتلا، کوتاہ
قد، ادہيڑ عمر کا شرميلا آدمي دکھائي ديتا تھا، کم گو اور ميٹھي مسکڑاہٹ
والا، صورت شکل سے وہ کسي بڑي فرم کا مالک ہونے کے بجائے کتابوں کي کسي دکان کا
مالک معلوم ہوتا تھا،دلاري اس کي فرم ميں سو روپے مہينے پر نوکر ہوگئي
تھي، چونکہ وہ زيادہ پڑھي لکھي نہيں تھي، اس لئے اس کا کام لفافوں پر ٹيکٹس
لگانا تھا۔
يہ تو بہت آسان کام ہے؟ دلاري کے شوہر نے کہا۔
فرم کا باس بولا کام تو آسان ہے، مگر جب دن ميں پانچ چچ سو خطوں پر ٹيکٹس لگان
پڑیں تو اسي طرح کا کام بہت آسان کام کے بجائے بہت مشکل کام ہوجات ہے۔
|
|
 |