|
|
| |
کچرا بابا |
اور وہ اس منزل سے گز چکا تھا جس وہ کسي کو قصور وار نہيں ٹہراسکتا تھا، اتني
چوٹيں پے در پے اس پڑي تھيں کہ وہ بالکل بولا گيا، بالکل سناٹے ميں آگيا
وہ باطل دم بخور تھا، اب اس کي مصيبت اور تکاليف ميں کسي طرح کا کوئي جذبہ يا
آنسو نہيں رہ گيا تھا، بار بار ھتہوڑے کي زربيں کھا کھا کراس کا دل دھات کے ايک
پترے کي طرح بے حس ہوگيا، اس لئے آج جب اسے ہسپتال سے نکال گيا تو اس نے ڈاکڑر
سے کسي ذہني تکليف کي دور کرنے کي شکايات نہيں کي تھي، اس نے اس سے يہ نہيں کہا
تھا کہ اب وہ اس ہسپتال سے نکل کر کہاں جائے گا؟اب اس کا کوئي گھر نہيں
تھا،کوئي بيوي نہيں تھي،کوئي بچہ نہيں،کوئي نوکري نہيں، اس کا دل خالي تھا، اس
کي جيب خالي تھي، اور اس کے سامنے ايک خالي اور سپاٹ مستقبل تھا۔
مگر اس نے يہ سب کچھ نہيں کہا تھا،اس نے صرف يہ کہا تھا؟ ڈاکڑ صاحب مجھ سے چلا
نہيں جارہا ہے، بس يہي ايک حقيقت تھي جو اسے اس وقت ياد تھي، باقي ہر بات
اس کے دل سے محو ہوسکتي ہے، اس وقت چلتے چلتے وہ صرف يہ محسوس کر سکتا
تھا کہ اس کا جسم گيلي روئي کا بنا ہوا ہے ،اس کي ريڑھ کي ھڈي کسي پراني
شکستہ چارپائي کي طرح چٹخ رہي ہے، دھوپ بہت تيز ہے، روشني نشتر کي طرح
چبھتي ہے، آسمان پر ايک ميلے اور پيلے رنگ کا وارنش پھرا ہوا اور فضا ميں تاريک
تر کرتے اور چستياں سي غليظ مکھيوں کي طرح بھنبھار رہي ہيں اور لوگوں کي
نگاھيں بھي گندے لہو اور پيپ کي طرح اس کے جسم سے چسپا کر رہ جاتيں، اسے بھاگ
جانا چاھئيے، کہيں ان لمبے الجھے بجلي کے تاروں والے کھمبوں اور ان کے درميان
گڈ مڈ ہونے والے راستوں سے کہيں دور تھا، اپنا بھائي بھي ياد آيا جو افريقہ ميں
تھا، سن سن سن ايک ٹرام اس کے قريب سے اندر گھستي چلي جار رہي تھي اور پوري
ٹرام کو اپنے جسم کے اندر چلتا ہوا محسوس کرسکتا تھا، اسے ايسا محسوس ہوا جسيے
وہ کوئي انسان نہيں ہے ايک گھسا پٹہ راستہ ہے۔
دير تک وہ چلتا رہا، ہانپتا رہا اور چلتا رہا، اندازے سے ايک موہوم سمت کي طرف
چلتا رہا، جدھر کبھي اس کا گھر تھا، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اب اسکا کوئي گھر
نہيں ہے، مگر وہ جانتے ہوئے بھي ادھر ہي چلتا رہا، گھر جانے کي عادت سے مجبور
ہو کر مگر دھوپ بہت تيز تھي، اس کے سارے جسم ميں جيونٹياں سي رينگ رہي تھيں،
اور وہ کسي مسافر سے راستہ ہي پوچھ کے،معلوم کر لے يہ شہر کا کونسا حصہ ہے،
ہولے ہولے اس کے کانوں ميں ٹراموں اور بسوں کا شور بڑھنے لگا، نگاہوں ميں
ديواريں ٹيڑھي ہونے لگيں، عمارتيں گرنے لگيں، بجلي کے کھمبے گڈ مڈ کرنے لگے،
پھر اس کي آنکھوں تلے اندھيرا اور قدموں تلے بھونچال سا آيااور وہ يکا يک زمين
پر گر پڑا۔
جب ہوش ميں آيا تو رات ہو چکي تھي، ايک نيم خنک سا اندھيرا چاروں طرف چھايا ہوا
تھا، اس نے آنکھيں کھول کرديکھا کہ جس جگہ پر گرا تھا اب تک وہيں پڑا ہے، يہ فٹ
پاتھ ايک ايسا تھا جس کے عقب ميں دو طرفہ دو ديواريں تھي دوسري شمال سے مغرب
کو، اور وہ دونوں ديوروں کے اتصال پر ليٹاہوا تھا، يہ دونوں ديورايں کوئي چار
فٹ کے قريب بلند تھيں، يہاں پر امرود اور جامن کے کے پيڑ تھے اور ان پيڑوں کے
پيچھے کيا تھا وہ اسے اس وقت تک نہيں نظر نہيں آيا تھا،دوسري طرف مغربي
ديوار کے سامنے پچيس تيس فٹ کا فاصلہ چھوڑ کر ايک پراني عمارت کا عقب تھا، سہ
منزلہ عمارت تھي اور منزل ميں پيچھے کي طرف صرف ايک کھڑکي تھي جو چھ بڑے عقبي
پائپ تھے، عقبئي پائپ اور مغربي ديوار کے بيچ ميں پچيس تيس فٹ چوڑي ايک اندھي
گلي بن گئي تھي، جس کے تين طرف ديوار تھي اور چوتھي طرف سڑک تھي، کہنيوں پر زور
دے کر ذرا سا اوپر اٹھا کر اور ادھر ادھر ديکھنے لگا، سڑک بالکل خالي تھي،
سامنے کي دکانيں بند تھيں اور فٹ پاتھ کے اندھے سالوں ميں کہيں کہيں بجلي کے
کمزور بلب جلھملا رہے تھي، چند لمحوں کے لئے اسے يہ ٹھنڈي تاريکي بہت بھلي
معلوم ہوئي
|
|
 |