|
|
| |
کچرا بابا |
چند لمحوں کے لئے اس نے اپني آنکھيں بند کرکے سوچا شايد وہ کسي مہربان سمندر کے
پانيوں میں ڈوب رہا ہے۔
مگر اس احساس سے وہ اپنے آپ کو صرف چند لمحوں تک دھو دے کيونکہ اب اس نے محسوس
کرليا کہ اس پر شديد بھوک طاري ہوچکي ہے، چند لمحوں کي خوشگوار خنکي کے
بعد اس نے محسوس کرليا کہ وہ شديد طور پر بھوکا ہے، جس سے کي آنتوں کے فعل کو
بيدار کرکے اس کے ساتھ کسي طرح کي بھلائي نہيں کي، اس کے معدے کے اندر عجيب
اينٹھن سي ھو رہي تھي اور آنتيں اندر ہي اندر تڑپ تڑپ کر روٹي کا سوال کر
رہي تھيں اور اس وقت اس کے نتھنے کسي شہري انسان کے نتھنوں کي طرح نہيں
کسي جنگلي جانور کے نتھنوں کي طرح کام کر رہے تھے، عجيب عجيب سي بوئيں اس
کي ناک ميں آرہي تھيں، بوئوں کي ايک سمفني تھي جو اس کے احساس پر پھيلي ہوئي
تھي اور حيرت کي بات يہ تھي کہ وہ اس سمفني کے ايک ايک دسر کا الگ الگ
وجود پہچان سکتا تھا، يہ جامن کي خوشبو ہے، يہ امرود کي ، يہ رات کي راني کے
پھولوں کي، يہ تيل ميں تلي ھوئي پوريوں کي، يہ پياز اور لہسن ميں بگھارے ھوئے
آلوؤں کي، يہ مولي کي ، يہ ٹماٹر کي، يہ کسي سڑے گلے پھل کي، يہ پيشاب کي،
يہ پاني ميں بھيگي ھوئي مٹي کي جو غالبا بانسوں ميں کے جھنڈ سے آرہي ہے۔
وہ ہر
بو کي نوعيت، شدت، سمت اور فاصلے تک کا اندازہ کرسکتا ہے، يکايک اسے يہ احساس
بھي ہوا اور وہ اس بات پر چونکا بھي کہ کس طرح سے بھوک نے اس منحفي قوتوں کو
بيدار کرديا۔ مگر اس امر پر زيادہ غور کئے بغير اس نے اس طرف گھسٹنا شروع
کر ديا، جدھر سے اسے تيل ميں تلي ہوئي پوريوں اور لہسن سے بگھارے ہوئے آلوؤں کي
بو آئي تھي، وہ دھيرے دھيرے اندھي گلي کے اندر گھسٹنے لگا، کيونکہ وہ اپنے جسم
ميں چلنے کي سکت بالکل نہيں پاتا تھا، پھر اسے ايسا محسوس ہوتا جيسے کوئي دھوبي
اس کي آنتوں کو پکڑ کر مروڑ رہا ہے، پھر اس کے نتھنے ميں پوريون اور آلو
کي آشتہا بو آئي اور وہ بے قرار ہو کر ادھ مندھي آنکھوں سے اپنے تقريبابے جان
سے جسم کو ادھر گھسيٹنے کي کوشش کرتا،جدھر سے آلو ، پوري کي بو آرہي تھي، کچھ
عرصے کے بعدجب وہ اس جگہ پر پہنچا تو اس نے ديکھا کہ مغربي ديوار اور اس کے
سامنے کي پچھواڑے کے پائيوں کے درميان پچيس تيس فٹ کے فاصلے ميں مستطيل نما
کچرے کا ايک بہت بڑا کھلا آہني ٹب رکھا ہے۔
يہ ٹب کوئي پندرہ فٹ چوڑا ہوگا اور
تيس فٹ لمبا اور اس ميں طرح طرح کا کوڑا کرکٹ بھرا ہے گلے سٹرے پھلوں کے چھلکوں
اور ڈبل روٹيوں کے غليظ ٹکڑے اور چائے کي پتياں اور ايک پراني جيکٹ اور بچوں کے
گندے پوتڑے اور انڈے کے چھلکے اور اخبار کے ٹکڑ اور رسالوں کے پھٹے اوراق اور
روٹي کے ٹکڑے اور لوہے کي لونياں اور پلاسٹ کے ٹوٹے ہوئے کھلونے اور مٹر
کے چھلکے اور پودينے کے پتے اور کيلے کي تپل پر چند ادھ کھائي پورياں۔۔۔۔۔۔۔اور
الو کي بھاجي، پوريوں اور آلو کي بھاجي کو ديکھ کرگويا اس کي آنتيں ابل پڑيں،
اس نےچند لمحوں کے لئے اپنے بے قرار ہاتھ روک لئے، مگر دوسري بدبوؤں کے مقابلے
ميں اس کے نتھنوں ميں اگلے چند ثانيوں تک پوري اور بھاجي کو ديکھ کي اشتہار
آميز خوشبو اسي طرح تيز تر ھوگئي جيسے کسي سمفني ميں يکايک کوئي خاص سر ايک دم
اونچے ہوجاتے ھيں اور يکا يک تہذيب کي آخري ديواریں ڈھے گئيں اور اس کے
کانپتے ھوئے بے قرار ہاتھوں نے کيلے کے اس پتل کو دبوچ ليا اور وہ اک وحشيانہ
گرسنگي سے متاثر ہو کر ان پورياں پر ٹوٹ پڑا۔
پوري بھاجي کھاکے اس نے کيلے کے پتے کو بار بار چاٹا اور اسے شفاف کر
کے چھوڑ ديا، جيسے قدرت نے اسے بنايا تھا، پتل چاٹنے کے بعد اس نے اپني انگلياں
چاٹيں اور لمبے لمبے ناخنوں ميں بھري ہوئي آلو کي بھاجي زبان کي نوک سے نکال کے
دکھائي اور جب اس سے بھي اس کي تسلي نہ ہوئي تو اس نے ہاتھ بڑھا کر کوڑے
کے ڈھير کو گھنگھولتے ھوئے اس ميں سے پودينے کے پتے نکال کر کھائے اور مولي کے
دو ٹکڑے اور ايک آدھا ٹماٹر اپنے منہ ميں ڈال کر مزے سے اس کا رس پيا اور
وہ سب کچھ کھا چکا تو اس تو اس کے سارے جسم ميں نيم گرم غنودگي کي اک لہر اٹھي
اور وہ ہيں ٹب کے کنارے گر کر سوگيا۔
|
|
 |