Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  کرشن چندر
  کچرا بابا
آٹھ دس روز اسي نيم غنودگي اور نيم بے ہوہوشي کے عالم ميں گزرے، وہ گھسٹ  گھسٹ کر ٹب کے قريب جاتا اور جو کھانے کو ملتا کھاليتا اور جب اشتہا آميز بوؤں کي تسکين ہوجاتي اور وہ دوسري گندي بوئيں ابھرنے لگتيں تو وہ گھسٹ گھسٹ کر ٹب سے فٹ پاتھ کے ٹکڑ پر چلا جاتا، اور عقبي ديوار  سے ٹيک لگا کر بيٹھ جاتا يا سو جاتا۔
پندرہ بيس روز کے بعد ہولے ہولے اس کے جسم ميں طاقت ابھرنے لگي، ہولے ہولے وہ اپنے ماحول سے مانوس ہونے لگا، يہ جگہ کتني اچھي ہے، يہاں دھوپ نہيں تھي، يہاں درختوں کا سايہ تھا ، اندھي گلي سنان اور ويران تھي يہاں کوئي نہيں آتا تھا، کبھي کبھي عقبي عمارت سے کوئي کھڑکي کھلتي تھي اور کوئي ہاتھ پھيلا کر نيچے کے ٹب میں روز مرہ کا کوڑا پھينک ديتا تھا، يہ کوڑا جو اس کا روزي رساں تھا، اس کے شب و روز کا رازق تھا، اس کي زندگي کا محافظ تھا، دن مين سڑک چلتي تھي، دکانيں کھلتي تھيں، لوگ باگ گھومتے تھے، بچے ابابيلوں کيئ طرح چہکتے ھوئے سڑک سے گزر جاتے تھيں، عورتيں رنگين پتنگوں کي طرح ڈولتي ھوئي گزر جاتي تھيں، ليکن يہ ايک دوسري دنيا تھي، اس دنيا ميں اس کو کوئي علاقہ نہ تھا، اس دنيا میں اب اس کا کوئي نہ تھا، اور وہ اس کے لئے موہوم سائے بن گئے اور اس سے باہر ميدان اور کھيت اور کھلا آسمان ايک بے معني تصور، گھر، کام کاج،زندگي سماج،جدوجہد بے معني الفاظ جو گل سٹ کر اس کوڑے کچرے کے ڈھير ميں مل کر غتر بود ہوگئے، اس دنيا سے اس نے منہ موڑ ليا تھا اور اب يہي اس کي دنيا تھي،پندرہ فٹ لمبي اور تيس فت چوڑي۔
ماہ و سال گزرتے گئے اور اس نکٹر پر بيٹھا بيٹھا ايک پرانے ٹھنٹھہ کي طرح اور کسي پراني ياد گار کي طرح سب کي نظروں ميں مانوس ھوتا چلاگيا وھ کسي سے بات نہيں کرتا تھا کسي کو فيض نہيں پہنچاتا تھا، کسي سے بھيک نہيں مانگتا تھا، ليکن اگر وہ کسي دن وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا تو اس علاقے کے ہر فرد کو اس مر پر حيرت ہوتي اور شايد کسي قدر تکليف بھي ھوتي۔
سب لوگ اسے کچرا بابا کہتے تھے، کيونکہ يہ سب کو معلوم تھا کہ وہ صرف کچرے کے ٹب ميں سے اپني خوراک نکال کر کھاتا ہے اور جس دن اسے وہاں سے کچھ نہ ملتا وہ بھوکا ہي سو جاتا، برسوں سے راہ گير اور ايراني رسٹوران والے اس کي عادت کو پہچان گئے تھے، اور اکثر عمارت کي عقبي کھڑکيون سے اب کوڑے کے علاوہ خوردہ نوش کي دوسري چيزيں بھي پھينکي جاتيں، صيح و سالم پوريان اور بہت سي بھاجي اور گوشت کے ٹکڑے اور ادھ چوسے آم اور چٹني اور کباب کے ٹکڑے اور کھير ميں لتھڑے ھوئے پتل، ناؤنوش کي ہر نعمت  کچرا بابا کو اس ٹب ميں سے مل جاتي ھيں، کبھي کبھي کوئي پھٹا ھوا پاجامہ، کوئي ادھڑي ھوئي نيکر، کوئي تار تار شکتہ قيمض پلاسٹک کا گلاس، يہ کچرے کا ٹب کيا تھا، اس کے لئے ايک کھلا بازار تھا، جہاں وہ دن دہاڑے  سب کي آنکھوں کے سامنے مڑ گشت کيا کرتا تھا، جس دکان سے جو سودا چاھتا مفت ليتا تھا، وہ اس بازار کا اس نعمت غير مترقبہ کا واحد مالک تھا، شروع شروع ميں چند گرسنہ بليوں اور خارش زدہ کتوں نے شديد مزاحمت کي تھي، مگر اس نے مار مار کر سب کو باہر نکال ديا، اور اب اس کچرے کے ٹب کا واحد مالک تھا اور اور اس کے حق کو سب نے تسليم کرليا تھا، مہينے ميں ايک بار ميونسپلٹي  والے آتے ہيں، اور اس ٹب کو خالي کرکے چلے جاتے تھے اور کچرا بابا ان سے کسي طرح کي مزاحمر نہيں کرتا تھا، کيونکہ اسے معلوم تھا کہ دوسرے دن ٹب پھر اسي طرح بھرنا شروع ہوجائے گا اور اس کو اعتقاد تھا کہ  اس دنيا سے نيکي ختم ہوسکتي ہے ليکن غلاظت ختم نہيں ہوسکتي رفاقت ختم ھوسکتي ہے، ليکن غلاظت اور گندگي کبھي ختم نہيں ہوسکتي، ساري دنيا سے منہ توڑ کر اس نے جينے کا آخري طريقہ سيکھ ليا تھا۔
مگر يہ بات نہيں ہے کہ اسے باہر کي دنيا کي خبر نہ تھي، جب شہر ميں چيني مہنگي ہوجاتي تو مہينوں کچرے کے ٹب ميں مٹھائي کے ٹکڑے کي صورت نظر نہيں آتي، جب گندم مہنگي ھو جاتي تو ڈبل روٹي کا ايک ٹکڑا تک نہ ملتا، جب سگريٹ مہنگے ہو تو تو سگريٹ کے جلے  ھوئے ٹکڑے اتنے چھوٹے ملتے کہ انہيں سلگا کر پيا بھي نہيں جاسکتا۔
جب بھينگوں نے ھٹرتال کي تھي تو مہينے تک اس کے ٹب کي کسي نے صفائي نہيں کي تھي،اور کسي روز اس کو ٹب ميں اتنا گوشت نہيں ملتا تھا، جتنا بقر عيد کے روز اور ديوالي کے دن توٹب کے مختلف کونوں سے مٹھائي کے بہت سے ٹکڑے مل جاتے تھے۔باہر کي دنيا کا کوئي حادثہ يا واقہ ايسا نہ تھا۔ 
پچھلا صحفہ (5) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu