|
|
| |
خميازہ |
ہم سب پہلگام کلب کي بار کے اونچے اونچے اسٹولوں پر بيٹھے ہوئے
عورتوں کي معصوميت ، انجان پن اورحماقتوں کے قصے بيان کر رہے تھے، کيونکہ ہم
ميں کوئي عورت نہيں تھي اور تين تين پيگ اندر جاچکے تھے، اکرام علي کا البتہ يہ
پانچواں ہو گا، اس کا چہرہ انار کي طرح سرخ تھا، اس نے پولو نيک کا گلابي رنگ
کا موٹا سوئيٹر پہن رکھا تھا اور گہري بزکارڈ مخمل کي بيل باٹ، دونوں
گھني بھويں ماتھے کے بيچ آکر مل گئي تھيں، اس کي آنکھوں ميں ايک تيز عيار
چمک تھي، جب ہنستا تھا تو اس کے چہرے پر ايک کامياب اور کھڑے ہوئے لفنگے کي
مطمئن بے فکري چھاجاتي، مگر ايسي بے فکري جس ميں ايک رنگ ذہانت کا بھي
تھا اور وہ ذہانت اس کي آنکھوں ميں تھي۔
اکرام علي وہسکي کے دو گھونٹ لئے، گلاس اٹھا کر اسے دو تين بار مختلف زاويو سے
ابر کي سنگ مر مر سطح پر دائرے بنائے، غالبا وھ سوچ رہا تھا، کہاں سے شروع کرے،
پھر جيسے اس کي سمجھ ميں پورا واقعہ آگيا۔
يہ چار دن پہلے کا واقعہ ہے اور اب اسے سنانے ميں کوئي انديشہ بھي نہيں ہے
کيونکہ وہ لڑکي يہاں سے جاچکي ہے، آج سے چار دن پہلے ميں نے اس لڑکي کو غلام بٹ
کے جنرل اسٹور ميں خريداري کرتے ہوئے ديکھا تھا، کندھے سے لٹکے ہوئے جھولے ميں
لنچ باکس تھي اور وہ غلام بٹ کے پھلوں کے ڈبے ، مکھن کا ڈبہ، سامن مچھلي کا ڈبہ
اور دوسري بہت سي Tinned Foods خريد رہي تھي، ميں اسے
ديکھ کر ٹھٹھک گيا، کيونکہ ميں نے پہلي نظر ميں اسے پہچان ليا تھا، جيسےآپ نے
پہلي نگاہ ميں مجھے پہچان ليا، يہ سجاتا تھي۔ |
|
 |