Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  کرشن چندر
  خميازہ
سجاتا کو آپ نھيں جاتے ؟ حيرت ہے، سجاتا کا شمار بمبئي کي حيسن ترين لڑکيوں ميں ہوتا تھا، ايک زمانے ميں اس کا بڑا غلبہ تھا کچھ عرصے تک اس نے فلموں ميں بھي کام کيا، مگر چلي نہيں،  فلم ميں چلنے کيلئے مشکل کے علاوہ تھوڑي سي عقل بھي چاہئيے، خوب صورت عورت کو زيادہ عقل کي ضرورت نہيں، ليکن پھر بھي تھوڑي سي تو چاہئيے، يعني آٹے ميں نمک کے برابر، ميں نہيں کہہ سکتا ہوں فلموں ميں کيوں نہيں چلي کيونکہ ميرا تعلق کسي فلم نہيں ہے، اس کے بعد سنا ہے، وہ لندن جاکر ماڈلنگ کرنے لگي، مگر وہاں بھي زيادہ نہيں چلي ، کيونکہ ہندوستاني لڑکي تھي اور يورپين لوگ زيادہ تر يورپين  لڑکيوں کے خدوخلا ہي پسند کرتے ہيں، پھر وہ واپس ہندوستان آگئ اور کرمان اينڈ سنن بک سيلز اينڈ پبلشز کے ہاں کتابيں بيچنے لگے، مگر وہاں بھي اس کا دل نہيں لگا، کيونکہ خوب صورت عورت خود ايک کتاب ہوتي ہے، کئي باب ميں تقسيم کے بعد اس نے توبہ کرلي اور اپنے لئے ايک شوہر ڈھونڈ نے لگي۔
يہ سب باتيں ميں اس لئے جانتاہوں کہ ميں ايڈور ڈايوسي نيو ميں رہتا ہوں اور سجاتا آرام ايوي نيو ميں رہتي ہے،  جو ايڈورڈ  ايوي  نيو سے ملحق ہے،  ايڈورڈ ايو نيو کے نکڑ پر جي وائين کا جنرل اسٹور ہے،  يہاں پر کبھي کبھار ميري اور اس کي ملاقات ہوجاتي ہے،  گو گفتگو کي کبھي نوبت نہيں آئي، اس جنرل اسٹور ميں وہ تصوير کشي کے کاغذ خريدنے آتي تھي اور ميں اپني فوٹو گرافي کا سامان، کئي بار ہم کائونٹر پر ساتھ ساتھ کھڑے ديکھے گئے، ايک دو بار ميري اور اس کي کہني کے درميان ايک دو انچ کا فاصلہ رہ گيا، مگر اس بات چيت کي نوبت نہيں آئي کيونکہ، سجاتا اپنے حسن  پر اپنے سنہري بالوں پر اپنے کٹيلے سرخ لبوں  پر اپني بھوري بھوري آنکھوں پر بے حد مغرور نظر آتي ہے،  شايد  وہ چاہتي تھي کہ ميں پہل کرو اور ميں چاہتا تھا کہ وہ پھل کرے اور ميں نے ديکھ ليا ہے جس معاشقے ميں مرد پہل کرتا ہے، اسے اس کا ضرورت سے زيادہ خميازہ بگھتنا پڑتا ہے، پھر کچھ يہ بات بھي ہے،  کہ ميں اپني ٹويوٹا پر بے حد نازاں تھا،  اور سوچتا تھا کہ جس مرد کے پاس ايسي خوبصورت گاڑي ہوگي اس کا دروازہ کھول کر لڑکي کو خود بخود بيٹھ جانا چاہئے۔
چناچہ يہ دلچسپ کشمکش دير تک چلتي رہي۔
ميں اسےاکثر مختلف مردوں کے ساتھ ديکھنے لگا، وہ لوگ بھي گاڑي والے تھے اور خوش پوش اور کھاتے پيتے چہرے والے ، جب وہ بار بار جلدي جلدي اپنے بوئاے فرينڈز بدلنے لگي تو مجھے اس کے اخلاق پر شبہ ہونے لگا، حالانکہ جلدي جلدي بوائے فرينڈز بدلنا آج کل ہر شريف لڑکي کا شيوہ بن گيا ہے، کيونکہ يہي فيشن ہے۔
پچھلا صحفہ (3) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu