|
|
| |
خميازہ |
بڑي خوبصورت جگہ تھي، جيسا کہ سجاتا نے بيان کيا تھا صاف شفاف
پاني گنگناتا ہوا، اور جنگلي پھولوں کے قطعے قطار اندر قطار ڈھلانوں پر ديوار
کے پيڑا اور بادل سفيد بطخوں کي طرح آسمان پر تيرتے ہوئے، يکا يک ايک آدمي
جھرنے کے قريب سے اٹھا، ميں نے اسے ديکھا جہاں سے وہ اٹھا تھا، اس کے قريب ايک
ابزال بھي اپنے لکڑي کے چوکھنے کو لئے کھڑا تھا، ميں نے اس آدمي کو
پہچان ليا تھا، يہ وہي آدمي تھا جو اپني ہري فياٹ ميں سجاتا سے ملنےسجاتا کے
گھر آتا تھا۔
وہ آدمي مسکراتے ہوئے سجاتا کي طرف بڑھا بڑي دير کر دي، اس کے منہ سے نکلا۔
سجاتا اس کا ہاتھ پکڑ کر بڑي لجاجت سے بولي کيا کرتي ڈارلنگ کوئي گاڑي ہي
نہيں ملي، بڑي مشکل سے ان کو ميري طرف اشارہ کرکے تيار يہاں تک آئي ہوں،
يہ ہيں مسٹر اکرام، اور مسٹر اکرام يہ ہيں ميرے شوہر نورشاہ۔
نورشاہ نے زبردستي ميرا ہاتھ کھينچ کر مجھے سے مصافحہ کيا اور بولا آپ لنچ تک
تو ٹھيريں گے نا؟ ميں نے اس کي آواز سني اور پھر چند لمحوں کيلئے ساري وادي
ميري نگاہوں ميں گھوم گئي۔
شکريہ ايک پھنسي ہوئي آواز ميرے گلے سے نکلي، پھر ميں وادي ميں سے مڑااور اپنا
ٹويوٹا ميں بيٹھ کر واپس چلا گيا۔
چلے چلتے دير تک سجاتا فاتحانہ قہقہ ميرے کانوں ميں ہونجتا رہا۔
اکرام نے اتنا کہہ کر قصہ ختم اور گلاس ختم کرديا، پھر بار ميں بيٹھے
ہوئے اپنے ساتھيوں کي طرف ديکھ کر بولا۔
تو صاحب يہ ہے کل کي داستان، آئيے عورت کي بے وقوفي اور حماقت کو ٹوسٹ کرتے
ہوئے ايک جام پئيں، بيرہ ايک ڈبل ڈمپل اور مارو۔ |
|
 |