|
|
| |
مہا لکشمي کا
پل |
يہ کوئي برا عہدہ،کوئي بڑي موٹر کار، کوئي پرمٹ کوئي ٹھيکا کوئي پراپرٹي،يہ
ايسي کسي چيز کي تم سے طالب نہيں ہيں، يہ تو زندگي کي بہت ہي چھوٹي چھوٹي چيزيں
مانگتي ہيں، ديکھئيے يہ شانتا بائي کي ساڑھي ہےجو اپنےبچپن کي کھوئي ہوئي دھنک
تم سے مانگتي ہے، يہ جيونا بائي کي ساڑھي ہے جو اپني آنکھ کي روشني اور اپني
بيٹي کي عزت مانگتي ہے۔
يہ ساوتري کي ساڑھي ہے جس کے گيت مر چکے ہيں اور جس کے پاس اپنے بچوں کے اسکول
کيلئے فيس نہيں ہے، يہ لڑيا ہے جس کا خاوند بے کار ہے اور جس کے کمرے ميں ايک
توتا ہے جو دو دن سے بھوکا ہے، يہ نئي دلہن کي ساڑھي ہے جس کے خاوند کي زندگي
چمڑے کے پٹے کي قيمت سے بھي کم ہے، يہ بڑي بھنگن کي لال ساڑي ہے، جو بندوق کي
گولي کو ہل کي پھال ميں تبديل کرنا چاہتي ہے تاکہ دھرتي سے انسان کا لہو پھول
بن کر کھل اٹھے اور گندم کے سنہرے خوشے ہنس کر لہرانے لگيں۔
ليکن وزيراعظم صاحب کي گاڑي نہيں رکي اور وہ ان چھ ساڑيوں کو نہيں ديکھ سکے اور
تقرير کرنے کيلئے، چوپاٹي چلاے گئے، اسلئے اب ميں آپ سے کہتا ہو کہ اگر کبھي آپ
کي گاڑي ادھر سے گزرے تو آپ ان چھ ساڑھيوں کو ضرور ديکھئے جو مہا لکشمي کے پل
کے بائيں جانب لٹک رھي ہيں، اور پھر آپ ان رنگا رنگ ريشميں ساڑھيوں کو بھي
ديکھيں جنھيں دھوبيوں نے اسي پل کے دائيں طرف سوکھنے کيلئے لٹکايا ہے۔
اور جو ان گھروں سے آئي ہيں جہاں اونچي اونچي کمپنيوں والے يا کارخانے والے يا
اونچي اونچي تنخواہ پانے والے رہتے ہيں، آپ اس پل کے دائيں بائيں دونوں طرف
ديکھيں اور پھر اپنے آپ سے پوچھئيے کہ آپ کس کي طرف جانا چاہتے ہيں، ديکھئيے
ميں آپ سے اشترا کي بننے کيلئے نہيں کہہ رہا ہوں، ميں آپ کو جماعتي جنگ کي
تلقين کر رہا ہوں، ميں صرف يہ جانتا ہوں، کہ آپ مہا لکشمي کے پل کے دائيں طرف
ہيں يا بائيں طرف۔۔۔۔۔۔
|
|
 |