Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  کرشن چندر
  پياسا
نواب بڑا تريلا اور زنخا سا لونڈا تھا۔ زرينہ کو اس لئے پسند تھا کہ وہ زرينہ کے ہاتھوں سے پٹ کر رو دھو کر صبر کرليتا تھا۔وہ دوسرے لوگوں کي طرح بوريا بستر باندھ کر رخصت نہيں ہو جاتا تھا۔
اس کے گندمي چہرے پر چيچک کے داغ تھے۔ اور وہ بہت دبلا تھا اور بہت کھاتا تھا۔ اور سمجھ ميں نہ آتا تھا جو تھا وہ کھاتا تھا کہاں جاتا ہے اس کي آواز ميں ہلکي سے تتلاہٹ تھي۔ جب وہ کھڑا ہوتا تھا تو کبھي سيدھا کھڑا نہيں ہوسکتا تھا۔ کسي ديوار يا کسي دروازے سي لگ کر نيم دراز حالت ميں يوں کھڑا ہوتا تھا کہ پاؤں فرش پر گھسيٹ رہے ہيں سر بائيں طرف لٹکا ہوا ہے تو کولھا دائيں نکلا ہوا ہے۔ايک ہاتھ ماتھے پر ہے تو دوسرے سے پيٹھ کھجا رہا ہے۔نواب کي عورتوں کي طرح ہاتھ ہلا ہلا کر بات چيت کرنے کا شوق تھا۔انہي کي طرح وہ فقرے چبا کے چٹا کرکے يا ربڑ کي طرح کھينچ کے بولتا تھا۔ مگر باہر کے کام ميں بہت ہو شيار تھا۔ اس لئے اپني تمام مضحکہ خيز اداؤں اور غمزدوں کے باوجود قابل برداشت تھا۔ گھر کا باورچي تين دن سے غائب تھا اور نواب کو کچن ميں کام کرنا پڑ رہا تھا حالانکہ اس صرف اوپر کے کام کيلئے رکھا گيا تھا۔زرينہ لڑکيوں کے کالج ميں پڑھانے جاتي تھي، ميں اپنے دفتر جاتا تھا۔ اس لئے اگر نواب کھانا نہ پکائے تو کون پکائے اور اس سے مشکل مسئلہ يہ تھا۔ باورچي کون ڈھونڈے اور کب؟ يہاں کسي کو فرصت ہي ميسر نہ تھي۔
نواب کو جب تين دن اور کچن ميں بينگن بگھارنا پڑے اور لہسن کي چٹني پيس کر کھڑے مسالے کا قورمہ تيار کرنا پڑا تو اس کي ساري تتلاہٹ اور نسائينت ختم ہوگئي۔ مردوں کو طرح بڑے کرخت اور جھجلائے ہوئے لہجے ميں بول پڑا صاحب ہم سے نہيں ہوتا۔ ہم کو ايک دن کي چھٹي دو۔ ہم آپ کے لئے ايک باورچي ڈھونڈ کے لائے گا۔
کوئي باورچي ہے تمہاري نظر ميں، زرينہ نے اس کي جھجھلاہٹ پر مسکرا کر پوچھا۔
کچن سے باہر آکر نواب کو جو ٹھنڈي ٹھنڈي ہوا کے جھونکے لگے تو اس کے مزاج کي نسائيت پھر ابھرنے لگي اس پر اسے گھر کي مالکن کي مسکراہٹ جو ملي اور بھي پھيل گئے۔آپ نے ايک کندھا اوپر اچکايا اور دوسرا نيچے کيا باياں کولہا اندر کي طرف جھکايا، داياں کولہا ذرا سا باہر نکالا اور اپنے دونوں ہاتھ ادا سے ملتے ہوئے بولے اب لائيں گے، کہيں نہ کہيں سے آپ کے لئے باورچي۔
نواب نے اپنے ديدے گھماتے ہوئے باورچي کا مسئلہ ايک پراسرار سياسي راز کي طرح ھمارے سامنے کچھ اس طرح پيش کيا کہ جي جل کے کباب ہوگيا۔ جي چاہا سالے کو کو دوں جھانپڑاور اس کي ساري اتراہٹ نکال دوں مگر ضرورت باورچي کي تھي۔ اور باورچي ڈھونڈنے کي فرصت مجھے نہ تھي۔ نہ زرينہ کو اس لئے نواب کو ايک دن کي چھٹی ديني پڑي۔
ايک دن کے بعد اتوار تھا۔ميں اپنے کمرے ميں بيزار بيٹھا ہوا تھا ملجگي صبح کي نيلي نيلي روشني ميں اپنا سر خود ہي ہولے ہولے دبا رہا تھا۔کبھي کبھي مجھے اپنا سر ٹوتھ پيسٹ کے ٹيوب کي طرح معلوم ہوتا تھا۔ جب تک دباؤ نہيں کچھ نلکتا نہيں اتنے ميں کيا ديکھتا ہوں کہ نواب دونوں ہاتھوں سے دروازے کي پٹی تھامے گردن ايک طرف لٹکاے نيم باز آنکھوں سے مجھے ديکھ رہے ہيں۔ميں۔ميں۔۔۔۔۔وہ ہنس پڑے۔۔۔۔ہم باورچي لے آئے
کدھر ہے۔ميں نے ڈپٹ کر پوچھا۔
نواب خائف ہو کر زرا سے سيدھے ہوئے اپنے دونوں بازوں دروازے کي پٹی اتار کر اپني کم رپر رکھ لئے۔ پھر ذرا پيچھے ہٹ کر کسي اور کو راستہ دے کر بولے، اندر چلے آؤ۔
کالا دبلا پتلا کرنجي آنکھوں والا آدمي اندر آيا، عمر کوئي پينتيس برس کي ہوگي۔ چھوٹے چھوٹے کالے ہونٹ چھوٹی چھوٹي چھوٹي کرنجي آنکھيں تنگ ماتھا، بال لجھے ہوئے گال اندر دھنسے ہوئے، دانتوں کي ريخوں ميں پان کا بھورا ميل نماياں شيو کے باوجود ٹھوڑی پر کہيں بال رہ گئے تھے، عجب کراہت سي محسوس ہوئي۔
تم باورچي ہو ميں نے اس سے پوچھا۔
جي۔
کيا نام ہے تمہارا؟
اوم پر کاش۔
ميں نے اسے سر سے پاؤں تک ديکھا۔ پھر نواب سے کہا۔ اسے بگيم صاحب کے پاس لے جاؤ۔وہ ديکھ ليں اور چاہيں تو رکھ ليں۔
دوپہر کے کھانے ميں شاہجہاني قورمہ اور شملہ مرچ ميں بھرا قيمہ تھا۔ اور دم کئے ہوئے آلو تھے۔ مٹر پلاؤ اور رائتہ اور دو طرح کا ميٹھا شاہي ٹکڑے اور وردھي حلوہ ہر چيز عمدہ اور نفيس تھي۔ صيح ذائقے والي ميں نے خوش ہو کر کہا اوپ پر کاش کھانا تم ٹھيک پکاليتے ہو۔
اوپ پرکاش، زرينہ ميري طرف حيرت سے ديکھ کر بولي مگر اس کا نام تو اشتياق ہے؟
ميں نے باورچي کي طرف ديکھا ، جو ايک کونے ميں دونوں ہاتھ اپني ناف پر رکھے کھڑا تھا اور مجھے ديکھنے کي بجائے زمين کو ديکھ رہا تھا۔
کيوں بے تم نے مجھے اپنا نام غلط کيوں بتايا، ميں نے باورچي سے پوچھا۔
بولا۔ صاحب آپ کے کمرے ميں آيا اور آپ کو ديکھا تو ايسا لگا کہ شايد آپ ہندو ہيں تو ميں نے آپ کو اپنا نام اوم پرکاش بتايا، پھر ميں بيگم صاحب کے کمرے ميں گيا تو مجھ کو ايسا لگا جيسے وہ مسلمان ہيں تو ميں نے ان کو اپنا نام اشتياق بتاديا۔
مگر بے وقوف ، تم اک کمرے ميں اوم پرکاش اور دوسرے ميں اشتياق کيسے ہو سکتے ہو۔
دلي ميں ايسا کرنا پڑتا ہے۔صاحب ايک گھر ميں اوم پرکاش تو دوسرے گھر ميں اشتياق بتانا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔پيٹ روٹی مانگتا ہے صاحب، اس نے کسي قدر شکايت لہجے ميں کہا، اور اس کے لہجے سے يہ بھي معلوم ہوتا تھا جسيے شکايت اس امر کي نہيں ہے کہ اسے اپنا نام غلط کيوں بتانا پڑا بلکہ اس بات کي ہے کہ پيٹ روٹي کيوں منگتا ہے۔
اگر گرميوں کے دن تھے دوپہر ميں جب حبس بڑھنے لگا، تو ميں گھبرا کر دوبارہ نہانے کے لئے باتھ روم ميں جا گھسا ٹونٹی گھما کر معلوم کيا کہ شاور خراب ہوچکا ہے نواب کو آواز دي تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے تلوؤں ميں تيل چڑھا رہا ہے، اشتياق بھاگا بھاگ آيا، ميں نے اس سے کہا۔چوک ميں جاگرا منشي پلمبر کو بلاؤ۔شاور خراب ہے۔
يں ٹھيک کئيے ديتا ہوں۔اشتياق بولا
تم۔
وہ سر جھکا کر بڑي عاجزي سے بولا، جي ميں پلمبنگ کا کام بھي جانتا ہوں۔
پانچ منٹ ميں اس نے شاور ٹھيک کرديا۔
شام کو بجلي کا پيڈسٹل پنکھا جو صحن ميں خراب ہوگيا۔ زرينہ نے نواب کو آواز دي تو معلوم ہوا کہ وہ ابھي دوپہر کي نيند سے فارخ نہيں ہوا ہے۔ لہذا اشتياق کو بلايا گيا اور اس سے کہا گيا کہ وہ چوک ميں پنکھے والے کے پاس چلا جائے اور اپنے سامنے پنکھا درست کرا کے لائے، بہت گرمي ہے آج تو رات بھر صحن ميں پنکھا چلے گا اشتياق نے گہرے تجسس سے پنکھے کا معائنہ کيا معائنہ کرنے کے بعد اس نے اپنے دونوں بازو اپني ناف پر رکھ لئے۔بولا حضور ميں يہ پنکھا ٹھيک کرسکتا ہوں۔
کيا تم پنکھے کا کام بھي جانتے ہو۔ميں نے اس سے پوچھا۔
سر جھکا کر بولا جي بجلي کا کام بھي جانتا ہوں، پنکھا فت کرليتا ہوں، ابھي کرکے دکھاتا ہوں۔
اگلا صفحہ (1) پچھلا صفحہ

New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu