|
|
| |
پياسا |
پھر ايک روز ہم نے يکايک اسے ايک دعوت ميں
ديکھا، سردار زور آر خان کے ہاں ہماري دعوت تھي، جن کي بيوي نصرت ميري بيوي کي
خاص سہيلي تھيں۔ ہم نے تو کھانے کے شروع کے دو لقمے کھاتے ہي سمجھ گئے تھے کہ
يہ کس کا اسٹائل تھا۔ لقمہ چکھتے ہي ميں نے زرينہ اورزرينہ نے ميري طرف
چونک کر ديکھا مگر ہم دونوں چپ رہے کھانے کے بعد جب دعوت کي تعريفيں ہونے
لگيں تو کچن سے خراماں خراماں اشتياق بر آمد ہوئےکالي پتلون کے اوپر لال
بش شرٹ اور اس کے اوپر بھورے رنگ کا ايک ميلا ايپرن پہنے ہوئے اور سر
جھکائے کو کورنش بجا لاتے ہوئے، شاعروں کے انداز ميں داد بٹورنے لگے۔
نہ ميں نہ زرينہ نے اس وقت انہيں پہچانا مناسب سمجھا اشتياق نے بھي اس وقت
ہمارا ريہ سمجھ کر مکمل اجنبيت اختيار کي۔
بعد ميں نصرت نے زرينہ کو الگ لے جا کر بتايا۔بہت اچھا کک مل گيا ہے۔ مجھے
اشتياق احمد خان نام ہے اس اپني طرف کا ہے قاضي خيل کا پشتو بہت اچھي بول ليتا
ہے حالانکہ بچپن ہي سے ادھر رہا ہے، پھر کھانا غضب کا پکاتا ہے، کچن ميں بڑي
بچت سے کام ليتا ہے، جب سے يہ آيا ہے۔ ميرے کچن کا خرچ ڈھائي سو روپے کم ہوگيا
ہے پورے ڈھائي سو روپے سنتي ہو؟ ميں اس کو صرف ستر ديتي ہوں حالانکہ
سو بھي دو تو سستا رہے گا۔
زرينہ انجان بن کر بولي۔آدمي شريف معلوم ہوتا ہے۔
ارے شريف اسيا شريف۔۔۔۔نصرت اشتياق کي تعريف کرتے ہوئے بوليں ميرے بچوں پر تو
جان چھڑکتا ہے او ميرے سب سے چھوٹے بچے نجو کو تو دل و جان سے چاہتا ہے کوئي
سگمي ماں اس کي کيا خدمت کرے گي جيسي وہ نجو کي کرتا ہے ابھي چار دن کي
بات ہے کہ نجو موٹر مانگ رہا تھا۔ميں نے کہا لادوں گي، ميں ٹال رہي تھي کيونکہ
گھر ميں دو کھلونے موٹر کے پہلے ہي پڑے ہيں۔ذرا پرنے ہيں تو کيا ہوا۔
نصرت زرينہ کا ہاتھ پکڑ کر وشي سے بولي۔يہ موا اشتياق دس روپے کي موٹر ميرے نجو
کے لئے لے آيا۔
تو ميں نے غصے سے جھلاکر کہا ميں تو اس موٹ رکے پيسے نہيں دوں گي۔ تو موا بولا
نہ ديجيئےگا۔ بيگم صاحب ميں تو اپنے پيسوں کي موٹر لايا ہوں، نجو کے لئے، اس پر
وہ غصے سے گرج کر بولے تم کو کس نےکہا تھا، نجو کے لئے موٹر
لانے کو تو اشتياق پہلے تو ان کي گرج سن کر سہم گيا۔ پھر بولے سر
اٹھا کر بولا، صاحب ميں نجو کا کہنا نہيں ٹال سکتا،جو کہيں گے ضرور
لاؤں گا۔ اس نے ايسے مضبوط لہجے ميں ان سے بات کي کہ ان کا سارا غصہ اتر
گيا۔ مسکراتے ہوئے ايک طرف کو سرک گئے ميں بھي کيا بولتي بہن؟ چپ
ہوکر سروتے سے سپاري کاٹنے لگي۔
زرينہ خاموشي سے مسکرا مسکرا کر نصرت کي باتيں سنتي رہيں۔مگر اس نے ايک دفعہ
بھي نہيں بتايا کہ وہ اشتياق کو جانتي ہےکہ نہيں نہ اگلے ايک سال ميں اشتياق نے
ايک بار بھي بتايا کہ وہ ہم کو جانتا ہے ، ہم نےسوچا کہ بے چارہ جہاں لگا
ہے لگا رہے اس کي خامياں بتانے ے کيا فائدہ؟ اور خان صاحب کے ہاں رہ کر
اشتياق بہت ٹھيک ہوتا چلا گيا، ماتھے پر بال نہيں لٹکتے تھے، ذہني طور پر بہت
کم غائب رہتا تھا۔ کپڑے صاف ستھرے پہنتا تھا، شعر و شاعري ترک کردي
تھي۔ دن بھر يا تو کچن ميں رہتا يا خان صاحب کے بچوں کي ديکھ بھال
کرتا حالانکہ ان کي ديکھ بھال کے لئے دو آيائيں الگ سے مقرر تھيں، مگر بچے جس
قدر اشتياق سے مانوس ہوگئے تھے۔اتنے گھر کے کسي ملازم سےنہ تھے۔ميں نے اور
زرينہ نے سکھ کا سانس ليا، چلو اشتياق نارمل تو ہوا۔
ايک رات زور کي گھنٹي بجي کوئي تين بجے کا وقت تھا ميں نے گھبرا ر دروازہ کھولا
سردار زور آور خان کا ڈرائيور حامد خان تھا۔
حضور جلدي چلئے۔بيگم صاحبہ نے گاڑي بھيجي ہے۔
کيا بات ہے حامد؟ ميں نے پوچھا۔
اشتياق نے زہر کھاليا ہے۔
ارے ميرے منہ سے نکلا۔
ہاں صاحب اشتياق نے زہر کھا ليا ہے۔اور خان صاحب پونا ميں ہيں۔ گھر پر بيگم
صاحب کے دو بھائي ہيں مگر ان کي سمجھ ميں نہيں آتا کہ کيا جائے، ڈاکٹر مقصود کو
ٹيلي فون کيا تھا۔بيگم صاحب نے مگر وہ بولے يہ پوليس کيس ہے ميں نہيں آسکتا اور
اشتياق مر رہا ہے۔
زرينہ ميرے پيچھے کھڑي تھر تھر کانپ رہي تھي لرزتے ہوئے لہجے ميں بولي تم
جلدي سے چلے جاؤ، بے چاري نچرت سخت پريشان ہوگي؟۔
خان صاحب کے ڈرائنگ روم ميں عين مرکز ميں فرش پر سر سے پاؤں تک ڈھکي ہوئي ايک
لاش رکھي ہوئي تھي۔ اور نصرت اور ان کے بھائي بہن اور گھر کے دوسرے ملازم حيرت
سے سم بکم کھڑے تھے۔کيا مر گيا؟
ميے منہ سے بے اختيار نکلا۔
نہيں ابھي تو زندہ ہے۔ ايک آيا آہستہ سے سسکتے ہوئي بلي۔
ميں نے چادر ہٹا کر نبض ديکھي سينے کے زيرو بم ميں نرخرے کي گھر گھراہٹ تھي،
اور نبض ٹوٹ رہي تھي۔نصرت ايک بھوري شال اوڑھے دنيا و فہيما سے بے نياز پھٹي
پھٹی آنکھوں سے چاروں طرف ديکھ رہي تھي۔
کب اس نے زہر کھايا؟ ميں نے نصرت سے پوچھا۔
نصرت کچھ نہيں بولي جيسے اس نے ميرا سوال سنا تک نہ ہو، نصرت کا چھوٹا بھائي
بولا،کوئي دو بجے کے قريب ميں نے اپنے بستر کے قريب کسي کي آواز سني اور کوئي
آہستہ آہستہ سے مجھے جھنجھوڑ رہا تھا جب جاگا تو معلوم ہوا اشتياق ہے وہ باورچي
خانے سے رينگتا ميرے کمرے ميں پہنچا تھا اور مجھ سے کہہ رہا تھا۔
مجھے بچا ليجئيے۔ ميں نے زہر کھاليا۔
ميں نے پوچھا۔کون سا زہر؟
بولا۔ٹک ٹو۔
ٹک ٹو کيا۔
ٹک ٹو ٹک ٹو۔اس کي زبان لڑکھڑا رہي تھي۔اور آوازميں لکنت تھي وہ کيا کہنا چاہتا
تھا ٹیک ٹونٹی ليکن اس کے منہ سے حرف نکلنا تھا صرف ٹک ٹو پھر وہ ميري
چارپائي سے لگ کر قے کرنے لگا ميںنے مزيد داستان سننابے کار سمجھ کر فورا
کہا اسے اٹھا کر نيچے گاڑي ميں فورا ڈال کر اسپتال لے جائيں گے؟
|
|
 |