|
|
| |
پياسا |
مگر پوليس، نصرت کانپ کر بولي۔
پوليس کو وہيں سے اطلاع کرديں
گے ميں نے کہا۔۔نزديک کا اسپتال کون سا ہے
جانا وتي۔
يہاں سے کتني دور ہوگا۔
کوئي چار ميل۔
جلدي کرو۔
جس وقت چار آدميوں نے مل کر اشتياق کو پہلي منزل سے نيچے اتارا اس وقت ہلکي
ہلکي بارش ہورھي تھي۔سڑک کے کنارے کنارے روشني کے قمقمے پاي ميں بھيگے ہوئے يوں
سر جھکائے کھڑے تھے جيسے اپني زرد زرد زندگي پر رو رہے ہوں، بھيگي ہوئي سڑک پر
کہيں کہيں روشني کے پھٹے چيتھڑے نظر آتے پھر اندھيرا انہيں کھا جاتا پھر پھر
تنگ و تاريک گڑھوں کي ماري ہوئي ايک سڑک پر کاريوں لڑکھڑا کر چلنے لگي
جيسے ايک عورت اپني عصمت لٹا کر رات کي اوٹ ميں اپنے گھر کي طرف بھاگ رہي ہو۔
ايمرجنسي وارڈ ميں۔
اے فارم بھرو۔
بي فارم بھرو۔
زندگي۔تم بھي رکو۔
اشتياق کا سر بھورے رنگ کے آئل کے گدوں پر ٹکا ہے اس کي آنکھيں کسي گہرے
بھورے گڑھے ميں جا گري ہيں ان پر يادوں کا ٹرک گھوں گھوں کرتا ہوا چل رہا تھا۔
پچھتر روپيہ ايڈوانس دو۔
يہ رسيد لو۔
وٹھل۔ مريض کو کمرہ نمبر٧ ميں لے جاؤ اوپر لفٹ سے ميں ابھي ڈاکٹر کوٹھاري
ٹيليفون کرتا ہوں۔
باہر سے کوئي ٹرک گزرتا ہےگھوں گھوں اشتياق کا سينہ ہو نکتا ہے ہوں ہوں۔
آئل کلاتھ کا بھورا بستر اپنے بالوں ميں لگي ہوئي ربڑ کي چرغیوں کے ذريعے رہٹ
کي جانب حرکت کرنے لگتا ہے۔ لفٹ اوپر کي منزل پر جا کر رک جاتي ہے۔بستر بر آمدے
سے گزر رہا ہے۔ کمرہ نمبر سات کے اندر جاتا ہے۔ ايک ڈاکٹر اور دو نرسيں اندر
آتي ہيں۔سات نمبر کا پردہ گراديا جاتا ہے ايک ڈاکٹر اور دو نرسيں اندر آتي
ہيں۔اور ہم باہر بينچ پر بيٹھ جاتے ہيں۔
لمبےکو ريڈيو ميں بے آواز نرسيں خاموشي سے گھوم رہي ہيں
اردلي نيند کي غننوگي سے بيزار ٹہل رہے ہيں کہيں کہيں ہولے کوئي
کراہتا ہے کوئي دھيرے دھيرے سسکتا ہے۔
اشتياق نے زہر کيوں کھايا؟ ميں پوچھتا ہوں۔۔۔
غبن کيا ہوگا۔نصرت کا چھوٹا بھائي اندازہ لگا کر کہتا ہے۔
بہن نے ہولے ہولے گھر کا ساراخرچا اشتياق کے سپرد کرديا تھا۔اور ہر وقت چار
پانسو روپے اشتياق کي جيب ميں رہتے تھے کل بہن نے اشتياق سے حساب دينے کو
کہا تھا۔ آج اس نے زہر کھا ليا ميرا خیال ہے کہ۔
تمہارا خيال غلط ہے۔ نصرت کا دوسرا بھائي بولا، اشتياق ميں دس برائياں ہوں، مگر
وہ چور نہيں ہے آج تک اس نے ايک دھيلے کي چوري نہيں کي،ميرے خيال ميں
پچھلے ہفتے جو مرادآباد سے اسے اطلاع ملي تھي۔کہ اس کے آبائي مکان والے مقدمے
کا فيصلہ اس کے خالف ہے معلوم ہوتا ہے اس کا غم اسے بہت ہوا ہے۔
اجي۔ نہيں بڈھا حامد اپني گھني بھنوؤں پر ہاتھ پھر کر بولا اشتياق کو مکان دکان
پيسے سے کبھي محبت نہيں تھي يہ سب اس لونڈيا کا چکر ہے گلشن کا۔
گلشن۔ ميرے کان کھڑے ہوئے گلشن کون ہے؟ ميرے ذہن ميں ايک بلي کودنے لگي۔
ايک نئي آيا رکھي ہے صاحب نے بڑي بد صورت لونڈيا ہے۔ مگر سولہ سترہ برس کي ہے۔
بھاگ بھاگ کام کرتي ہے۔اس کا نام گلشن ہے اور صاحب ہم نے سنا ہے کہ اشتياق کي
پہلي بيوي کا نام بھي گلشن تھا۔
ارے۔ ميں چونک گيا۔
وہ کسيے؟
پہلے تو صاحب سے کہتے رہے اس لڑکي کو نکال دو يہ کام ٹھيک سے نہيں کرتي ہے۔ پھر
ايک دن مجھ سے کہنے لگا کہ ميں اس وجہ سے اس کو نکلوانا چاہتا ہوں کہ اس نام
گلشن ہے ميں نے کہا بھلے مانس اس کا نام گلشن ہے تو کيا ہوا۔
کام تو ٹھيک کرتي ہے مگر اشتياق نہيں مانے برابر اس کي شکايت کرتے مگر جب صاحب
کسي طرح نہيں مانے تو معلوم نہيں کب انہوں نے ہار ماني اور کب اشتياق نے رويہ
بدلا، يہ اس لڑکي پر مہربان ہوگئے۔دوسرے نوکر چاکر تو چائے پيتے تھے۔ يہ اسکو
کافي پلاتے تھے۔جو صرف صاحب اور بيگم صاحب پيتي ہيں۔ پھر ايک دن گلشن کو جو پتہ
چلاکہ اسکو کافي ملتي ہے اور دوسرے نوکروں کو چائے ملتي ہے۔
تو ايک دم بدک گئي اور اس دن سے اس نے کافي پينے سے انکار کرديا
ايک دن اس نے اشتياق کو بازار سے ديسي گھي صابن لانے کو کہا تو اس کے لئے
انگريزي صابن لے آئے، اس نے کھوپرے کا تيل لگاليا۔ تو گلزار ھئير آئل اٹھا لائے
کل گلشن کي ماں کا خط آيا تھا۔جو بيگم صاحبہ نے پڑھ کر سنايا تھا۔
اب اشتياق کي تو عادت تھي چوروں کي طرح دروزے پر کھڑے ہو کر سننے کي۔گلشن کي
ماں نے لکھا تھا اس نے اس کي شادي کي بات چيت مکمل کر لي ہے۔لڑکا کسي سيمنٹ
فيکڑي ميں دربان ہے، يہ خالي باورچي تھے۔وہ انہيں منہ کيا لگاتي بس جب سے يہ
سنا کچن ہي ميں بيٹھے بيٹھے ٹھنڈي ٹھنڈي سانيسں لے رہے تھے۔ اور مجھ
سےکہتے تھے اب جينا بيکار ہے۔يہ آج دوپہر کي بات ہے۔رات کو انہوں نے زہر کھا
ليا۔۔۔۔۔حامد اتنا کہہ کر چپ ہوگئے۔
|
|
 |