Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  کرشن چندر
  پياسا
ميں نے چند لمحوں کے سکوت کے بعد پوچھا۔مگرزہر کھانے سے پہلے اس کمبخت نے لڑکي سے کوئي بات نہيں کي؟
بالکل نہيں صاحب۔حامد خفاء ہو کر بولے۔بالکل يکطرفہ عشق تھا۔دس دن تو ہوئے ہيں۔گلشن کوآئے ان دس دنوں ميں انہوں نے اس لڑکي سے نفرت بھي کي دوستي بھي کي محبت بھي کي پھر آپ ہي آپ مر بھي گئے۔ سب کچھ دس دنوں ميں کرليا۔ اس لڑکي کو تو کچي خبر ہي نہيں ہے صاحب۔وہ تو ايسي بدصورت ہے ايسي بھيجے کي خالي ہے کہ اسے تو گمان تک نہيں گزر سکتا کوئي اس سے عشق کرسکتا ہے۔
حامد چونکہ بڈھے تھے اور زندگي کے اس دور سے گزر رہے تھے جب کوئي کسي سے محبت نہيں کرسکتا ہے۔ اس لئے داستان سناتے وقت ان کے لہجے کي شديد تلخي جس طرح ان کي مجبوري کي غمازي کررہي تھي اس سے مجھے بڑا لطف آيا۔
کوئي ساڑھے چھ بجے کے قريب ڈاکڑ کوٹھاري کمرہ نمبر سات سے برآمد ہوئے، اور مجھے ديکھ کر بولے، ابھي کچھ کہا نہيں جاسکتا، مگر اگلے چوبيس گھنٹے اس پر بہت نازک ہيں۔ ميں نے اس کا معدے صاف کرديا ہے۔گلوکوز کے سيلائين پر رکھ ديا ہے کھانے کو دوا دے دي ہے انجکشن دے دئيے ۔کچھ لکھ دئيے ہيں۔
شکريہ ڈاکڑ صاحب۔مگر کيا مريض اس وقت ہوش ميں ہے۔
ہوش ميں تو ہے مگر ابھي بہت کمزور ہے ابھي زيادہ لوگ اس سے نہ مليں تو بہتر ہوگا، ڈاکڑ نے ميري طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، صرف آپ اس سے چند منٹ کے لئے مل ليں۔ميں نے تھانے ٹيليفون کرديا ہے۔کسي وقت بھي پوليس انسپکٹر اس کا بيان لينے کے لئے آسکتا ہے کيونکہ مريض کي حالت بہت نازک ہے۔
اتنا کہہ کر ڈاکڑ کو ٹھاري چلے گئے۔ تو نصرت کا چھوٹا بھائي بر فروختہ ہو کے بولا، خان صاحب گھر پر نہيں ہيں۔اور يہاں پوليس کے سامنے نہ جانے کس کس کے بيان ہونگے۔الو کے پٹھے کو اتني عقل نہيں آئي کہ اگر مرنا ہي تھا تو سمندر ميں ڈوب کے ہي مرجاتا، کسي گاڑي کے نيچے آکر مرجاتا، کہيں مرجانا اس گھر سے دور رہ کر ہي مرتا اور يوں ہي ہم سب کو پريشان کرکے تو زہر نہ کھاتا۔
بجا فرمايا آپ نے۔ مرنے والوں کو ہميشہ اپنے بعد زندہ رہنے والوں کي سہولت کا خیال کرکے مرنا چاہئيے۔اس سلسلے ميں اگر آپ رہمنائے خود کشي شائع کريں، تو بتوں کا بھلا ہوگا، اتنا کہہ کر کمرہ نمبر سات ميں داخل ہوا۔
اتفاق سے اس کمرے ميں کوئي نہيں تھا۔نرس کوئي دوا لانے کے لئے گئي تھي۔اشتياق گہرے تکيوں ميں سر جھکائے ليتا تھا۔اس کے دائيں بازو کي رگ ميں سيلائين جا رہا تھا، دوسرا بازو اس کے سينے پر تھا۔ اس کي آنکھيں بند تھيں اس کے سياہ چہرے کے پچھے سفيد تکيوں سے پرے کھڑکي کي پلکوں پر بارش کے قطرے لرز رہے تھے اور کانچ کي سطح پر روشني اور سائے اميد و بيم کي کشمکش طرح لرزاں تھے۔
اشتياق ميں نے اس کے بستر کے قريب جاکر سرگوشي ميں کہا۔اشتياق سنو ميں پھر ذرا اونچي سرگوشي ميں کہا۔کان کھول کر سنو ميرے پاس زيادہ وقت نہيں۔ نرس آرہي ہے۔
اشتياق نے آنکھيں کھوليں اور جب ميں نے ديکھا کہ اس نے مجھے پہچان ليا ہے تو مين نے اس کے قريب جھک کر کہا،کسي وقت بھي پوليس انسپکٹر تمہارے پاس بيان قلم بند کرنے کے لئے آجائے گا، اس سے صرف يہ کہنا ہو گا کہ تمہارے پيٹ ميں درد تھا اور تم امرت دھارا لے کر سو گئے تھے اتفاق سے کچن ميں تمہارے سرہانے ٹونٹيکي شيشي بھي پڑي تھي۔وہ بھي اتني ہي بڑي تھي۔ جتني امرت دھارا کي اس لئے رات کو جب تمہارے پيٹ کا درد بڑھا تو تم نے غلطي سے امرت دھارا کي جگہ ٹیک ٹونٹی پي لي غلچي سے پي لي بس اور کچھ مت کہنا، سمجھے ہو۔
اشتياق نے ميري طرف ديکھ کر خاموشي سے سر ہلا ديا، آنکھوں کي پتلياں نيم ساکت،ہونٹ اندر بھنچے ہوئے رخساروں کے گڑھے گہري اور اتھاھ تاريکي ميں کھوئے ہوئے، سينہ کھلا اور اجاڑ خشک بالوں سے ڈھکا ہوا۔کسي ويران جزيرے کے مانند اور دبلي پتلي پسلياں کسي شکتہ معبد کي سيڑھيوں کي طرح زندگي کے سوکھے تالاب کي طرف جاتي ہوئي۔
اشتياق۔اشتياق تم نے ايسا کيوں کيا؟ميں نے اس کے سر پر جھک کر پوچھا۔ اس کا چہرہ دير تک بالک ساکت رہا، جيسے اس نے ميرا سوال نہ سنا تھا۔ پھر اس کا ہاتھ اس کے سينے پر سرکنے لگا دھيرے دھيرے وہ اپنا سينہ اپني انگليوں سے سہلاتے ہوئے ہوا کي سي سرگوشي ميں بولا سينہ خالي ہے۔
سينہ خالي ہے۔کتني صديوں سے انسان کا سينہ خالي ہے اور انسان کا يہ خالي سينہ دم نہ بھر سکے۔ مسيح نہ بھر سکے اور حسين نہ بھر سکے تو تم کيا بھر سکو گے احمق باورچي ارے اس سينہ کے اندر خوف ناک گڑھے ہيں اور گہري کھائيں، کيسے کيسے خلا بھر جائے پہلے تو تم نے اس زنخے نواب کو اس ميں پھيکا پھر ايک بلي کو دم سے باندھ کر دم سے اٹکا ديا۔ پھر سيکنڑوں کپ چائے کے اس ميں انڈيل دئيے اور ڈبل روٹياں کاٹ کاٹ کر اس اندر پھينکتے رہے۔ تم ميري ٹوتھ پيسٹ بناتے رہے۔ اور خود بے گھر رہ کر دوسروں کے لے ہھر ڈھونڈتے رہے۔ اور اپنے بچوں کي مايوسي ميں دوسروں کے بچوں سے محبت کرتے مگر تم گلشن کو کبھي بھول نہ سکے اور کسي طرح يہ خلا پر نہ ہوسکا۔ گلشن گلشن تم کانٹے چنتے رہے اور بے قرار اور مضطرب ہو کر ايک پيشے سے دوسرے پيشے کي چکي ميں گھستے ہے تاکہ کسي طرح تم وہ خلا بھر سکو۔جسے صرف ايک عورت کي محبت بھر سکتي ہے۔۔۔۔۔۔۔پگلے
نرس اندر آگئي، ميں نے ايک لمحے کيلئے اشتياق کا خاموش ستا ہوا بدہئيت چہرہ ديکھا۔ تکيوں کے پيچھے بند کھڑکي کي پلکوں سے چند قطرے ہوا سے لرز کر ٹوٹے اور کانچ کے رخساروں پر بہتے ہوئے چلے گئے۔۔۔۔۔ميں کمرے سے باہر نکل آيا۔
اگلا صفحہ (12) پچھلا صفحہ

New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu