|
فضا ميں ايئر کنڈيشمنگ پلانٹ کي سونفي مہک کے ساتھ باريک ريشمي کپڑون کي لطيف سر
سراہٹ ، بجلي کي دھيمي روشني ميں روغني چہروں کي جھلملاہٹ ، چاندي کے سر پوش والي
چٹني مربہ کي شيشيوں کي چمک دمل اور مختلف قسم کے کھانون کي خوشبوئيں گھل مل رہي
ہيں۔ دھيمي دھمي باتوں کي بھنبھناہٹ ہے۔ مسرت اندوزي کے منصوبے ہیں۔ خود اطميناني
کي ہلکي ہلکي ہنسي ہے ، خود پرستي کي ادائیں ہیں۔ گہرے اسرا رو رموز والي پر اسرا
نگاہيں ہيں اور خواب ہیں صحت مند دھلے دھلائے چہرے ہیں۔ رگڑ رگڑ کر داڈھي مونڈھے
گال ہيں۔ گردن ، کندھے اور نظرو ں کے غير ملکي ٹکسال ميں ڈھلے ڈھلائے اشارے ہیں۔
پھنسي پھنسائي گردنيں ہیں۔ گھٹي گھٹي باتين ہين۔ برجي باردو کے ہونٹ ہیں ، لولو
بريجنڈا کے باوں ہيں ، ڈورس ڈے کے بال ہیں، امريکي ٹائياں ہيں۔ فرانسيسي عطر ہیں،
انگريزي جوتے ہيں، سوئٹرزلينڈ، جرمني ، سيلون اور سنگا پور کي باتين ہيں۔ کہيں چک
92 ايف کي دوپہر ميں ہل چلاتا کاشتکار نہيں۔ کہیں حلوائي کي دکان کے پھٹے پر بيٹھ
کر پيا جانے والا لسي کا گلاس نہيں، کہیں دور افتادہ گائوں ميں غوثيہ يونيورسٹي کي
بنياد رکھنے والا ڈاکٹر فريد نہيں، کہیں تاريک افريقہ کے جنگلون ميں انسانون کي
بھلائي کے لئے زندگي وقف کر دينے والا الرٹ شويٹرز نہیں۔ کہیں صغرا بيبي کے زرد
گالون اور کمر کي مستقل درد کے لئے کيلثيم نہيں۔ کہیں مشرقي پاکسان کے دريائوں کے
سيلاب سے برسر پيکار رہنے والے ماہي گير نہيں۔ وہ اداس آنکھيں نہیں، وہ ناريل کے
تيل لگے گہرے سياہ بال نہیں، کہيں وہ پہلي کي پہلي بيوي سے محبت کرنے والا اور
مہينے کے آخر ميں اس کي پٹائي کرنے والا مفلوک الحال ڈاکيہ نہیں، کوئي سيل زدہ
ديوار نہیں جس پر صرف تانبے کے چار گلاس اور تين تھالياں لگي ہون۔ کھيتوں کي کڑھکتي
دھوپ ميں اپني ہير کي راہ ديکھنے والا کوئي رانجھا نہیں۔ سب ڈرائينگ روم لورز ہیں،
ٹھنڈي نشست گاہوں ميں انناس کےقتلے اور کولڈ کافي کا گلاس سامنے رکھ کر محبت کي سرد
آہيں بھرنے والے عاشق ہيں۔ يوکلپٹس کي پتيوں کو فرنچ عطر کانون پر لگا کر کہانياں
لکھنے والے افسانہ نگا ہیں۔ قوم ، مذہب ، ملت او سياست کے نام پر اپني گاڑيوں ميں
پٹرول دلوانے والے اور اپني کوٹھيوں ميں نئے کمرے بنوانے والے درد مندان قوم ہیں۔
عشرت انگيزي ہے، تصنع آميزي ہے۔ سر پرستي ہے، خود پسندي ہے، جعلي سکے ہيں کہ ايک کے
بعد بنتے چلے جا رہے ہيں۔ روشني کے داغ ہيں کہ ايک کے بعد ايک ابھرتے چلے جا رہے
ہيں۔ انہیں صغرا بي بي کے بچوں کي پھنسيوں سے کوئي سروکار نہیح۔ انہيں اس کے ڈاکئے
خاوند کے تاج محل کي بربادي کا کوئي علم نہيں۔ انہیں کھري چرپائي پر گندے نالے کے
پاس رات بسر کرنے والون سے کوئي دلچسپي نہیں۔ دھان زمين ميں اگتا ہے يا درختوں پر
لگتا ہے انہيں کوئي خبر نہيں۔يہ اپنے ملک ميں اجنبي ہيں۔ يہ اپنےگھر ميں مسافر ہيں۔
يہ اپنوں ميں بيگانے ہيں۔ چيک بک ، پاسپورٹ ، کار کي چابي کوٹھي اور لائسنس ۔۔يہي
ان کي منزل ہے ،يہي ان کا محور ہے، يہي ان کا مرکز ہے، يہي ان کا مذہب ہے اور يہي
ان کا پاکستان ہے۔يہ وہ باسي کھانے ہيں جن کي تازگي ريفريجريٹر بھي برقرار نہ رکھ
سکا۔ يہ دو سورجوں کے درميان کا پردہ ہيں۔ يہ کھلے ہوئے متبسم لبون کے درميان کي
تاريک لکير ہيں يہ اس غار کے منہ پر تنا ہوا جالا ہيں جہاں چاند طلوع ہو رہا ہے۔اب رات
آسمان کي راکھ می سے تاروں کے انگارے کريدنے لگي ہے۔ لوہاري دروازے کي تنگ
و تاريک گلي میں حبس ہے بدبو ہے، گرمي ہے ، مچھر ہیں ، پسينہ ہے، ٹوٹي
پھوٹي کھري چارپائيوں کي سيدھي ٹيڑھي قاريں ہیں ، ناليون ميں جمي ہوئي
گندگي ہے۔ چارپائيوں سے نيچے لتکتي ہوئي گلي کے فرش پر لگي ہوئي ٹانگين
ہيں۔ کمزور باسي چہرے ہيں پھٹے پھٹے ہونٹ ہيں۔ صغرا بيبي اپنے چاروں بچوں
کو پنکھا جھل رہي ہے، کوتھري ميں حبس کے مارے دم گھتا جا رہا ہے۔ گندے نالے
والي کھڑکي ميں گرم ايشيائي رات کے سبز چاند کي جگہ اوپلو کا ڈھير پرا سلگ
رہا ہے ۔ اس کا ڈاکيہ خاوند پاس ہي پرا خراتے لے رہا ہے۔ پنکھا جھلتے جھلتے
اب صغرا بي بي بھي اونگھنے لگي ہے۔ اب پنکھا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نيچے گر
پڑا ہے ۔ اب کمرے ميں اندھيرا ہے۔ خاموشي ہے۔ چار بچوں کے درميان سوئي ہوئي
مٹي کي مونا ليزا کے ہونٹ نيم وا ہيں۔ چہرہ کھنچ کر بھيانک ہو گيا
ہے۔آنکھوں کے حلقے گہرے ہو گئے ہيں اور رخساروں پر موت کي زردي چھا گئي ہے۔
اس پر کسي ايسے بوسيدہ مقبرے کا گمان ہو رہا ہے ، جس کے گنبد ميں دراڈيں پڑ
گئي ہوں جس کے تعويذ پر اگر کوئي بتي نہ سلگتي ہو اور جس کے صحن ميں کوئي
پھول نہ کھلتا ہو۔
|