ابھي گائوں ميں نہيں پہنچنے پايا تھا کہ گھٹانے ايک دم اپنا
دامن نچوڑ ديا، يوں معلوم ہوتا تھا جيسے آسمانوں سے سمندر انڈيل دئيے گئے ہيں،
بوندوں کي جگہ آبشار گرنے لگے۔
بابا عمر کو پھلجڑيوں کي اتني فکر تھي کہ بدن پر صرف تہمد کو رہنے ديا اور باقي
سب کپڑوں ميں پھلجڑيوں کو لپيٹ ليا، کبھي بغل ميں دباتا، کبھي مٹھي میں جکڑ
ليتا، پھسلتا تو پھلجڑيوں والا ہاتھ اوپر ہي رکھتا، جب وہ گائوں ميں پہنچا تو
چوپال کے دروازے پر بيٹھے ہوئے لوگوں نے زور زور سے قہقہے لگائے اور بولے، بڈھا
ويسے ہي گھنائونا ہے، پر جب بھيگ جاتا تو توبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالکل بھوت۔۔۔!
بابا عمرو کوئي جواب دينے کيلئے ٹھٹکا مگر فورا اس کے دماغ ميں
پھلجڑياں چھوٹنے لگيں، قدم بڑھائے او جب وليتو کے گھر پہنچا تو دہليز الانگتے
ہي پوچھا کيسي ہے نھنو؟
اور پھر وليتو کو مسکراتا ديکھ کر اس نے پھلجڑياں پر لپيٹے ہوئے کپڑے کو کھولہ،
سولہ پھلجڑياں کا انبار سا وليتو کے سامنے رکھ ديا، داڑھي سے پاني نچوڑ
کر بولا، چھوڑوں ايک پھلجڑي؟۔۔۔۔۔۔۔۔ديا سلائي دينا بھيا!
وليتو کے ماں باپ بڈھے کي حالت ديکھ کر بھونچکا سے رہ
گئے، اس کے اردگرد نھني نھني ندياں بل کھاتي فرش کے چاروں طرف رينگي جا رہي
تھيں، سر کے بچے کچے بالوں کا پاني اکھٹا ہو کر اس کي ناک کے بانسے پر سے چاندي
کا ايک تار بناتا اس کے کپکپاتے ہوئے سينے پر گر رہا تھا، وليتو کي ماں نے بڑھ
کي ديا سلائي کي ڈبيا اٹھادي، باپ نے بابا عمرو کے قريب آکر کہا، پر بابا تم تو
آگ تو سينک لو، ٹھٹھر رہے ہو، نيلے پڑ رہے ہو۔
کون ٹھٹھر رہا ہے؟کون نيلا پڑا رہا ہے؟ بابا عمرو ديا سلائي
جلا کر بولا، واہ کيوں ري نھنو؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کانپتے ہاتھ بڑي مشکل سے ديا سلائي
اور پھلجڑي کو ايک دوسرے کے قريب لاسکے اور جب پھلجڑي چھوٹي تو بابا عمرو کو وہ
ہنسي چھوٹي، وہ ہنسي چھوٹي کہ چہکتي ہوئي وليتو کے ہاتھ سے پھلجڑياں تھما کر
زمين پر بيٹھ گيا اور جب ہنسي نے گونجيلي کھانسي کي شکل اخيتار کرلي، تو وہ
سينےکو دونوں ہاتھوں سے دباتا اٹھا اور بولا، وليتو بيٹا مجھے تو کھانسي آنے
لگي، کل صبح پھر آئوں۔۔۔۔۔گا ہيں نھنو؟
بابا عمرو بڑا اچھا ہے، وليتو بستر پر اٹھ بيٹھي، بابا عمرو ايک پھلجڑي تم بھي
لے لو۔
ہنستا کنپتا، کھانستا وہ وليتو کے قرب آيا، پھلجڑي لے کر مٹھي ميں دبائي اور
اپني جھونپڑي کو چل ديا جہاں شکري اپنے نکيلے پنجوں سے دروازے کو لگاتا کھرچ
رہي تھي۔
آدھي رات تک وليتو کا بخار بھي اتر گيا اور درد بھي رک گيا اور جب صبح کو اٹھي
تو بابا عمرو کے ہاں جانے کو مچل پڑي، باپ نے اسے اٹھايا اور بابا عمرو کے پاس
لے چلا۔
جھونپڑے کا دروازہ کھلا تھا، دونوں بابا عمرو کے قريب پہنچے تو ايک عجيب سي
مکھي باب عمرو کے ادھ کھلے منہ سے نکلي اور اس کے چہرے کا طواف کرتي وليتو کے
سر سے ٹکراتي دروازے سے باہر نکل گئي، بابا عمرو کے پيٹ پر بيٹھي ہوئي بلي نے
زور س ميائوں کي اور پنجہ مار کر بابا عمرو کي داڑھي ميں پھنس ہوئي پھلجڑي کو
نيچے گرا ديا۔ |