جو نيلے پيلے تارے برسائيں؟ بابا عمرو وليتو پر جھک گيا۔
ہاں ہاں بابا عمرو۔
جو رات کو دن کرديں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوں۔
جو کر پالو کي دکان جلاديں؟
ہاں ايسي ہي، کرپالو بڑا برا ہے، باب عمرو بڑا اچھا ہے۔
تو ميں ابھي آيا۔
بابا عمرو اٹھا ، شکري اسکے ساتھ ہولي، وليتو کے ماں باپ نے اسے بہتر سمجھايا
مگر وہ بولا، چا ہي تو قدم ہيں، اور اگر وليتو کيلئے ولايت بھي جانا پڑا تو
سمندروں کو چيرتا نکل جائوں گا، ميں ايسا گيا گزرا نہيں ہو، اچھا بھلا ہو،
کھانسي نہ ہوتي تو قرآن مجيد کي قسم لاہور سے ہو آتا ايک دن ميں۔
اور جب وليتو کے باپ نے اسے پھلجھڑيوں کيلئے رقم دينا چاہي تو وہ بے تابانہ
ہاتھ جھٹک کر بولا، ميرے من جو بات آئي ہے وہ کہنے کي نہيں ورنہ کہہ ديتا، ميں
تمہارے لئے غير سہي وليتو کيلئے نہيں۔
جھونپڑے ميں پہنچ کر اپني پونجي سے اٹھني نکالي، شکري کو بڑی مشکل سے اندر
بھٹايا اور دروازہ بند کرکے قصبے کو چل ديا۔
ابھي وہ گائوں سے ايک ہي کوس دو گيا ہوگا کہ تيز ہوا سے درخت انگڑائيان لينے
لگے، خشک پتے کھڑکھراتے ہوئے ٹوٹے اور زمين پر لوٹ پوٹ ہونے لگے، بادل دھاڑا
اور بوندا باندي شروع، مگر بابا عمرو لمبے لمبے ڈنگے بھرتا، عصا ٹيکتا بڑھتا
چلا گيا اور جب قصبے ميں پہنچا تو ٹھٹھرہا تھا اٹھني کي پھلجڑياں خريدکر چادر
ميں لپيٹيں اور تہمد کے کونے ميں اڑس کر پلٹا، يوں چلا جيسے بيس بائيس سال کا
گھبرو اڑا جارہا ہو، گائوں کے قريب برساتي ندي گرج رہي تھي، پھلجھڑيوں کو پگڑي
ميں لپيٹ کر چکراتے ہوئے پاني کو چير گيا۔ |