لگتي کہوں گا مراد۔۔۔۔دادا بولا۔۔۔مولوي جي کي بات جچ رہي ہے، نفل پڑھو شکرانے
کے کہ بچ کرآ ئے ہو۔۔۔۔نہيں وہ چڑيل نہيں، مراد کي آواز ميں اعتماد تھا، اگر وہ
چڑيليں ايسي ہيں تو ميں ابھي کالي ڈھيري پر جانے کيلئے تيار ہوں۔۔۔ مگر
دادا۔۔۔۔ميرا دل کہتا کہ وہ چڑيل نہيں۔
تو پھر کون ہے آخر؟ دادا نے لوگوں کي آنکھوں ميں دبکے ہوئے سوالوں کو
زبان سے ادا کرديا، ہوگئي کوئي مراد بوالا مگر ميں سچ کہتا ہو کہ ايران ميں بھي
ديکھا اور عراق ميں اور مصر ميں بھي کہيں کشمير سيب کي سي رنگت تھي تو کہيں
چنبيلي کي سي ليکن گندم کا ساندي کنارے ريت کا سا، سنہري سنہري، يہ ہمارے
ہندوستا ميں ہي ملتا ہے۔
ہندوستان ميں اور بھي تو بہت کچھ ہے، نمبر دار کا بيٹا رحيم جو لاہور کے
ايک کالج ميں پڑھتا تھا، اور ايسٹر کي چھٹياں گزرانے گائوں ميں آيا تھا، بھاري
بھاري کتابوں کي اوٹ سے بولا، يہاں بنگلا کے گلے سڑے ڈھانچے بھي ہيں اور بہادر
کے يتيم اور سارے ہندوستان کي وہ بيوائيں بھي ہيں جب کے آبرو کے راکھوالوں پر
مشرق و مغرب کے ميدانوں ميں گدھوں، مچھليوں اور کيڑو نے ضيافتيں اڑائيں اور جن
کے لہو کي پھوانے فاشزم کا فانسو بھجايا اور جن کے خون کي حددت نے کئي اور
کافور شميعيں روشن کيں اور پھر ہندوستان ميں تمہارا امر تسر روالپنڈي اور ملتان
بھي تو ہيں، جہاں صرف اس لئے عورتوں کي آبرو ريزي کي جار ہي ہے کہ ان کے
ماتھے پر نيلي سے بندياں ہے اور جہاں بچوں کو۔۔۔۔۔۔ نہيں نہيں بھئي دادا بوکے
بچوں کو نہيں بچوں کو ابھي تک کيس نےکچھ نہيں کہا۔ |