ہمارے گھر يعني دائو جي کے گھر کي ڈيوڑھي ميں ايک بيل بندھا
تھا اور اسکے پيچھے بوري کا پردہ لٹک رہا تھا ميں نے گھر آکر بتايا کہ دائو جي
اپنےگھر چھوڑ کر چلے گئے ہيں، اور يہ کہتے ہوئے ميرا گلا رندھ گيا اور اس دن
مجھے يوں لگا جيسے دائو جي ہميشہ ہميشہ کيلئے چلے گئے ہيں اور اب لوٹ کر نہ
آئيں گے، دائو جي ايسے بے وفا تھے۔۔۔۔۔۔
کوئي تيسرے روز غروب آفتاب کے بہت بعد جب ميں مسجد ميں نئے پناہ گزينوں کے نام
نوٹ کرکے کمبل بھجوانے کا وعدہ کرکے اس گلي سے گزارتے تو کھلے ميدان ميں سو دو
سو آدميوں کي بھيڑ جمع تھي، مہاجر لڑکےلاٹھياں پکڑے نعرے لگارہے تھے، اور
گالياں دے رہے تھے، ميں نے تماشائيوں کو پھاڑ کر مرکز ميں گھسنے کي کوشش کي مگر
مہاجرين کي خونخوار آنکھيں ديکھ کر سہم گيا، ايک لرکاکسي بزرگ سے کہہ رہا تھا۔
ساتھ کے گائوں ميں گيا ہوا تھا، جب لوٹا تو اپنے گھر ميں گھستا چلا گيا۔
کون سے گھر ميں؟بزرگ نے پوچھا۔
پھر کيا انھوں نے پکڑليا، ديکھا تو ہندو نکلا۔
اتنےميں بھيڑ ميں سے کسي نے چلاکر کہا اوے رانو جلدي آ وے جلدي آ۔۔۔۔۔تيرے
سامي۔۔۔۔۔پنڈت۔۔۔۔۔تيري سامي۔
رانو بکريوں کا ريوڑ باڑے کي طرف لے جارہا تھا، انہيں روککر اور ايک لاٹھي والے
لڑکے کو ان کے آگے کھڑا کر کے وہ بھيڑ ميں گھس گيا، ميرے دل کو ايک دھکا سا
لگا، جيسے انھوں نے دائو جي کو پکڑ ليا، ميں نے ملزم کو ديکھے بغير اپنے قريبي
لوگوں سے کہا۔
يہ بڑا اچھا آدمي ہے، بڑا نيک آدمي ہے۔۔۔۔۔۔۔اسے کچھ مت کہو۔۔۔۔۔ يہ تو۔۔۔۔خون
ميں نہائي ہوئي چند آنکھوں نے ميري طرف ديکھا اور ايک نوجوان گنڈاسي تول کر
بولا۔
بتائوں تجھے بھي۔۔۔۔۔ آگيا بڑا حمائتي بن کر۔۔۔۔تيرے ساتھ کچھ ہوا نہيں، اور
لوگوں نے گالياں بک کرکہا انصار ہوگا شايد۔
ميں ڈر کر دوسري جانب بھيڑ ميں گھس گيا رانو کي قيادت ميں اسکے دوست دائو جي کو
گھيرے کھڑے تھے، اور رانو دائو جي کي ٹھوڑي پکڑ کر ہلا رہا تھا اور کہہ رہا تھا
اب بول بيٹا اب بول، اور دائو جي خاموش کھڑے رہے، ايک لرکے نے پگڑي اتار کر کہا
پہلے بودي کاٹو بودي، اور رانو نے مسواکيں کاٹنے والي درانتي سے دائو جي کي
بودي کاٹ دي، وہي لڑکا پھر بولا بلاديں گے جي؟
اور رانو نے کہا، جانے دو بڑھا ہے ميرے ساتھ بکرياں چرائے گا، پھر اس نے دائو
جي کي ٹھوڑي اوپر اٹھاتے ہوئے کہا، کلمہ پڑھ پنڈتا، اور دائو جي آہستہ سے بولے۔
کون سا؟
رانو نے ان کے ننگے سر پر ايسا تھپڑ مارا کہ وہ گرتے گرتے بچے اور بولا سالے
کلمے بھي کوئي پانچ سات ہيں کيا۔
جب کلمہ پڑھ چکےتو رانو نے اپني لاٹھي ان کے ہاتھ ميں تھما کر کہا۔
چل بکرياں تيرا انتظار کر رہي ہيں۔
اور ننگے سر دائو جي بکريوں کے پيچھے يوں چلے جيسے لمبے لمبے بالوں والا فريد
چلا رہا ہ۔ |