Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  عصمت چغتائي
  چوتھي کا جوڑہ
دروازے کے آڑ جھانکتي۔
يہي تو مشکل تھي کوئي جوڑ اللہ مارا چين سے نہ سلنے پايا جو کلي الٹي کٹ جائے تو جان لو نائن کي لگائي ہوئي بات ميں ضرور کوئي اڑنگا لگے لگا، يا تو دولہا کي کوئي داشتہ نکل آئے گي يا اس کي ماں ٹھوس کڑوں کا اڑنگا باندھنے گي، جو گوٹ ميں کان آجائے تو سمجھ لو يا تو مہر پر بات ٹوٹے گي يا بھرت کے پايوں کے پلنگ پر جھگڑا ہوگا، چوتھي کے جوڑے کا شگون بڑا نازک ہوتا ہے، بي اماں کي ساري مشتاقي اور سگھڑ پادھرا رہ جاتا نہ جانے عين وقت پر کيا ہوجاتا کہ دھنيا برابر بات طول پکڑ جاتي، بسم اللہ کے زور سے سگھرماں نے جہيز جوڑنا شروع کيا تھا، ذرا سي کترن بھي بچتي تو تيلے داني شيشي کا غلاف سي کردھنگ کو گھروں سے سنوار کر رکھ ديتيں، لڑکي کا کيا ہے کھيرے ککڑي کي طرح بڑھتي ہے جو برات آگئي تو يہي سليقہ کام آئے گا۔
      اور جب سے ابا گزرے سليقہ کا بھي دم پھول گيا ہے، حميدہ کو ايک دم ابا ياد آگئے کتنے دبلے پتلے لمبے جيسے محرم کا علم، ايک بار جھک جاتے تو سيدھے کھڑا ہونا دشوار تھا، صبح ہي صبح اٹھ کع مسواک توڑليتے اور حميدہ کو گھٹنے پر بھٹا کر نہ جانے کيا سوچا کرتے پھر سوچتے سوچتے نيم کي مسواک کا کائي پھونسڑا حلو ميں چلا جاتا اور وہ کھانستے ہي چلے جاتے، حميدہ بغر کر ان کي گود سے اترتي، کھانسي کے دھکوں سے يوں بل بل جاتا اسے قطعي پسند نہ تھا، اس کے نھنے سے غصے پر ہو ہنستے اور کھانسي سينے ميں بے گرح الجھتي گردن کٹے کبوتر پھڑ پھڑا رہے ہوں پھر بي اماں آکر انہيں سہلا ديتيں پيٹھ پر دھپ دھپ ہاتھ مارتيں۔
تو يہ ايسي بھي کيا ہنسي اچھو کے دبائوں سے سرخ آنکھيں اوپر اٹھا کر ابا بے کسي سے مسکراتے، کھانسي تو رک جاتي مگروہ دور تک بيٹھے ہانپہ کرتے۔
بڑے  شفا خانے کا ڈاکٹروں کي صورت پر ايک تو کھانسي  ہے اور اوپر سے چکنائي، بلغم نہ پيدا کردے گي، حکيم کو دکھائوں کسي دکھائوں گا ابا حقہ گڑ گڑاتے اور پھر اچھو لگتا۔
آگے لگے اس موے حقے کو اسي نے تو يہ کھانسي لگائي ہے جو ان بيٹي کي طرف بھي ديکھتے ہو آنکھ  اٹھا کر۔
اور کبري کي جواني کي طرف رحم طلب نگاہوں سے ديکھتے، کبري جوان تھي کون کہتا تھا، جوان تھئ اور وہ تو جيسے بسم اللہ کے دن سے ہي اپني جواني کي آمد کي سنائوني سن کر ٹھٹکھ کر رہ گئي تھي نہ جانے کيسي جواني آئي تھي کہ نہ تو اس کي آنکھوں ميں کرنيں ناچيں نہ اس کے رخساروں پر زلفيں پريشان ہوئيں، نہ اس کي سينے پر طوفان اٹھے اور نہ کبھي ساون بھادوں کي گھٹائوں سے مچل مچل کر پريم يا ساجن مانگے وہ جھکي جھکي سہمي سہمي جواني جو نہ جانے کب دبے پائوں اس پر رينگے آئي، ويسے ہي چپ چاپ نہ جانے کدھر چل دي، ميٹھا برس نمکين ہوا اور پھر کڑوا ہو گيا۔
ابا ايک دن چکھٹ پت اوندے منہ گرے اور انہيں اٹھانے کيلئے کسي حکيم يا ڈاکڑ کا نسخہ کام نہ آسکا اور حميد نے ميٹھي روٹي کيلئے ضد کرني چھوڑدي اور کبري کے پيغام نہ جانے کدھر راستہ بھول گئے، جانو کسي کو معلوم ہي نہيں کہ اس ٹاٹ کے پردے کے پيچھے کسي کي جواني آخري سسکياں لے رہي ہے اور ايک نئي جواني سانپ کے پھن کي طرح اٹھ رہي ہے۔
مگر بي اماں کا دستور نہ ٹوٹا اور وہ اسي طرح روز دوپہر کو سعدي ميں رنگ برنگے کپڑے پھيلا کر گڑيوں کا کھيل کھيلا کرتي ہيں کہيں نہ کہيں سے جوڑ جمع کرکے شبرات کے مہينے ميں کريب کا دوپٹہ ساڑھے سات روپے ميں خريد ہي ڈالا ، بات ہي ايسي تھي کے بغير خريدے گزارا نہ تھا مجلھے ماموں کا تار آي کہ ان کا بڑا لڑکا راہت پوليس کي ٹريننگ کے سلسلے ميں آرہا ہے بي اماں کو تو جيسے دم  گھبراہٹ کا دورہ پڑہ گيا، جانو چوکھٹ پر برات آن کھڑي ہوئي اور انہوں نے ابھي دلہن کي مانگ کي افشاں بھي نہيں کتري، ہول سے تو ان کے چھکے چھوٹ گئے اپني منہ بولي بہن بندو کي ماں کو بلا بھيجا کہ بہن ميرا مري کا منہ ديکھوں جو اسي گھڑي نہ آئو۔
اور پھر دونوں ميں گھسر پسر ہوئي بيچ ميں ايک نظر دونوں کبري پر بھي ڈال ليتيں جو دالان ميں بيٹھي چاول پھٹک رہي تھي وہ اس کانا پھوسي کي زبان کو اچھي طرح سمجھتي تھي۔
اسي وقت بي اماں نے کانوں کي چار ماشہ کي لونگيں اتار کر منہ بہن کے حوالے کيں جيسے تيسے کرکے شام تک تو بھر گو گھر وچھ سلمہ ستارا اور پاوگز نيفے کيلئے ٹول لاديں، باہر کي طرف والا کمرہ بونچھ کر تيار کيا، تھوڑا سا چونا منگا کر کبري نے اپني ہاتھوں سے کمرہ پور ڈالا، کمرہ تو چٹا ہو گيا مگر اس کي ہتھيليوں کي کھال اکھڑ گئي، اور وہ جب شام کو مصالحے پيسنے بيٹھي کو چکر کھاکر دوہري ہوگئي، ساري رات کروٹيں بدلتي گزري، ايک ہتھليوں کي وجہ سے دوسرے صبح کي گاڑي سے راحت آرہے تھے۔
اللہ ميرے اللہ مياں اب کے تو ميري آپا کا نصيبہ کھل جائے، ميرے اللہ ميں سو رکعت نفل تيري درگاہ ميں پڑھوگي، حميدہ نے فجر کي نماز پڑھ کر دعا مانگي صبح راحت بھائي آئے تو کبري سے ہي مچھروں والي کو تھري ميں جا چھپي، جب سيويوں اور پراٹھوں کا ناشتہ کر کے بيٹھک ميں چلے۔
اگلا صفحہ (2) پچھلا صحفہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu