جائو ميري بہن بي آپا نے اسے جگايا اور وہ جونگ کر کراوڑھني کے آنچل سےآنسو
پونچھتي ہوئي ڈيوڑھي کي طرف بڑھي، يہ مليدہ اس نے اچھلتے ہوئے دل کو قابو ميں
رکھتے ہوئے کہا اس کے پير لزر رہے تھے وہ سانپ کي بابني ميں گھس آئي ہو، اور
پھر پہاڑ کھسکا اور منہ کھول ديا، وہ ايک دم پيچھے ہٹ گئي مگر دور کہيں بارات
کي شہانيوں نے چيخ لگائي جيسے کوئي انکا گلا گھونٹ رہا ہو، کانپتے ہاتھوں سے
مقدس مليدے کو نوالہ بناکر اس نے راحت کے منہ کي طرف بڑھا ديا، ايک جھٹکے سے اس
کا ہاتھ پہاڑ کي کھوہ ميں ڈوبتا چلا گيا نيچے تعفن اور تاريکي کے اٹھاہ غار کي
گہرائيوں ميں اور ايک بڑي سي چٹان نے اس کي چيخ کو گھونٹ ديا، نياز کے مليدے کي
رکابي ہاتھ سے چھوٹ کر لالٹين کے اوپر گري اور لالٹين نے زمين پر گر کر دو چار
سسکياں بھريں اور گل ہوگئيں۔
باہر آنگن ميں محلے کي بہو بيٹياں مشکل کشا کي شان ميں گيت گا رہي تھي۔
صبح کي گاڑي سے راحت مہمان نوازي کا شکريہ ادا کرتا ہوا روانہ ہوگيا، اس کي
شادي کي تاريخ طے ہو چکي تھي اور اسے جلدي تھي، اس کے بعد اس گھر ميں کبھي انڈے
نہ تلے گئے پراٹھے نہ سکے اور سوئٹر نہ بننے گئے، دق نے جو ايک عرصے سے بي آپي
کي تاک ميں بھاگي پيچھے پيچھے آرہي تھي، ايک ہي جست ميں انہيں دبوچ ليا اور
انہوں نے چپ چاپ اپنا مردار وجود اس کي آغوش ميں سونپ ديا، اور پھر اس سہ دري
ميں چوکي پر صاف ستھري جازم بچھائي گئي محلے کے بہو بيٹيان جڑيں کفن کا سفيد
لٹھا موت کے آنچل کي طرح بي اماں کے سامنے پھيل گيا ہے۔
تحمل کے بوجھ سے ان کا چہرہ لرز رہا تھا لال ٹول پر سفيد گزي کا نشان اس کے
سرخي ميں نہ جانے کتني معصوم دلہنوں کا سہاگ رچا ہے، اور سفيدي ميں کتني نامراد
کنواريوں کي سفيدي ڈوب کر ابھري ہے پھر سب ايک دم خاموش ہوگئے، بي اماں نے آخري
ٹانکا بھر کے ڈور توڑليا، دو موٹے موٹے آنسو ان کے روئي جيسے نرم گالوں پر
دھيرے دھيرے رينگنے لگے، ان کے چہرے کي شکنوں ميں سے روشني کي کرنيں پھوٹ نکلي
اور وہ مسکراديں، جيسے آج انہيں اطمينان ہو گيا کہ کبري کا سوہاجوڑا بن کر تيار
ہوگيا ہے، ہوا اور کوئي دم ميں شہنائياں بج اٹھيں گي۔ |