Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  بانو قدسيہ
  توبہ شکن
اس خاموش خوبصورت آدمي کو بي بي نے اپنے نکاح سے آدھ گھنٹہ پہلے پہلي بار ديکھا اور اس کي ايک نظر نے اسے اپنے اندر اس طرح جذب کر ليا جيسے سياہي چوس سياہي کو جذب کر تا ہے ۔
ميں آپ کو مبارکباد پيش کر سکتا ہوں؟ اس نے مضطرب نظروں سے بي بي کو ديکھ کر پوچھا۔
وہ بالکل چپ رہي۔
لڑکياں خاص کر آپ جيسي لڑکيوں کو ايک بڑا زعم ہوتا ہے اور اسي ايک زعم کے ہاتھوں وہ ايک بہت بڑي غلطي کر بيٹھتي ہيں۔

نقلي پلکوں والے بوجھل پپوٹے اٹھا کر بي بي پوچھا۔ کيسي غلطي۔ ؟
کچھ لڑکياں محض رشي سادھوئوں کي تپسياں توڑنے کي خوشي کي معراج سمجھتي ہيں۔

وہ سمجتھي ہيں کہ کسي بے نياز کي ڈھال میں سوراخ کر کے وہ سکون کي معراج کو پا ليں گي۔ کسے کے تقوي کو برباد کرنا خوشي کے مترارف نہیں ہے۔ کسي کے ذہد کو عجز و انکساري ميں بدل دينا کچھ اپني راحت کا باعث نہیں۔ ہاں دوسروں کے لئے احساس شکست کا باعث ہو سکتي ہے يہ بات۔

چابياں ہاتھ ميں گھوم پھر رہي تھي۔ ذہانت اور فصاحت نادريا رواں تھا۔
يہ عزم ۔۔عورتوں ميں لڑکيوں ميں کب ختم ہوگا۔؟ اپ بھي توبہ شکن بننا چاہتي ہیں۔

مجھے پروفيسر فخر سے محبت ہے۔
محبت ؟ آپ پروفيسر فخر کو يہ بتانا چاہتي ہیں کہ اندر سے وہ بھي گوشت پوست کے بنے ہوئے ہیں۔ اپنے تمام آئيڈيلز کے باوجود وہ بھي کھانا کھاتے ہيں۔ سوتے ہيں ۔ اور محبت کرتے ہيں ۔ ان کا کورٹ آف آرمر اتنا سخت نہيں جس قدر وہ سمجتھے ہيں۔

وہ چاہتي تھي کہ جمالي ملک سے کہے کہ تم کون ہوتے ہو مجھے پروفيسر کے متعلق کچھ بتانے والے۔ تمہیں کيا حق پہنچتا ہے کہ يہاں ليدر کے صوفے سے پشت لگا کر سارے ہوٹل کي ماسٹر چابياں ہاتھ میں لے کر اتنے بڑے ادمي پر تبصرہ کرو۔ ليکن وہ بے بس سنے جا رہي تھي اور کچھ کہہ نہیں سکتي تھي۔

ميں پروفيسر صاحب سے واقف نہین ہوں ليکن جو کچھ سنا ہے اس سے يہي اندازہ لگايا ہے کہ ۔ وہ اگر مجرو رہتے تو بہتر ہوتا۔ عورت تو خواہ مخواہ توقعات وابستہ کر لينے والي شے ہے۔ وہ بھلا اس صنف کو کيا سمجھ پائيں گے؟
جمالي صاحب۔۔ اس نے التجاکي۔
آپ سي لڑکياں اپنے رفيق حيات کو اس طرح چنتي ہیں جس طرح مينو ميں سے کوئي اجنبي نام کي ڈش آرڈر کر دي جائے۔ محض تجربے کي خاطر ۔۔ محض تجسس کے لئے۔
وہ پھر بھي چپ رہي۔

اتنے سارے حسن کا پروفيسر صاہب کو کيا فائدہ ہوگا بھلا۔ مني پلاٹ پاني کے بغير سوکھ جاتا ہے۔ عورت کا حسن پر ستش اور ستائش کے بغير مرجھا جاتا ہے۔ کسي ذہن مرد کو بھلا کسي خوبصورت عورت کي کب ضرورت ہوتي ہے۔ اس کے لئے تو کتابو ں کا حسن بہت کافي ہے۔

شمعدان اپني پانچ موم بتيون سميت دم سادھے جل رہا تاھ اور وہ کيوٹيکس لگے ہاتھوں کو بغور ديکھ رہي تھي۔

مجھ سے بہتر قصيدہ گو آپ کو کبھي نہيں مل سکتا قمر۔ مجھ سا گھر آپ کو نہیں مل سکتا کيونکہ ميرا گھر اس ہوٹل میں ہے اور ہوٹل سروس سے بہتر کوئي سروس نہیں ہوتي اور مجھے يہ بھي يقين ہے کہ ميري باتوں پر آپ کو اس وقت يقين آئے گا جب آپ کے چہرے پر چھائياں پڑ جائيں گي۔ ہاتھ کيکر کي چھال جيسے ہو جائيں گے اور پيٹ چھاگل ميں بدل جائے گا۔ ميں تو چاہتا تھا۔ ميري تو تمنا تھي کہ جب ہم اس ہوٹل کيلابي ميں اکھٹے پہنتے ۔ جب اس کي بار مین ہم دونوں کا گزر ہوتا۔ جب اس کي گيلريون ميں ہم چلتے نطر آتے تو امريکن ٹورسٹ سے لے کر پاکستاني پيٹي بوذو تک سب ہماري خوشي نصيبي پر رشک کرتے ليکن آپ آئيڈيلسٹ بننے کي کوشس کرتي ہیں۔ يہ حسن کے لئے گرھا ہے بربادي ہے۔

ساون کي رات جيسا گہرا نيلا سوٹ، کارنيشن کا سرخ پھول اور آفٹر شيو لوشن سے بسا ہوا چہرہ بالاخر دروازے کي طرف بڑھا اور بڑھتے ہوئے بولا۔ کسي سے آئيڈيلز مستعار لے کر زندگي بسر نہیں ہو سکتي محترمہ۔۔ آدرش جب تک اپنے ذاتي نہ ہون ہميشہ منتشر ہو جاتے ہيں ۔ پہاڑوں کا پودا ريگستانوں ميں نہیں لگايا کرتا۔

اس میں تو اتنا ہوصلہ بھي باقي نہ رہا تھا کہ آخري نظر جمالي ملک پر ہي ڈال ليتي۔ دروازے کے مدر و ہينڈل پر ہاتھ ڈال کر جمالي ملک نے تھوڑا سا پٹ کھول ديا۔ گيلري سے لڑکيون کے ہنسنے کي آوازيں آنے لگي۔
ميں بھي کس قدر احمق ہون اس سے اپنا کيس کر رہا ہوں جو کبھي کا فيصلہ کر چکي ہے۔ اچھا جي مبارک ہو آپ کو۔
دروازہ کھلا اور پھر بند ہو گيا۔
جاتے ہوئے وجيجہ منيجر کو ايک نظر بي بي نے ديکھا اور اپنے آپ پر لعنت بھيجتي ہوئي اس نے بظريں جھکاليں۔

چند لمحو ں بعد دروازہ پھر کھلا اور ادھ کھلے پٹ سے جمالي ملک نے چہرہ اندر کر کے ديکھا۔ اس کي ہلکي برائون آنکھوں ميں نمي اور شراب کي ملي جلي چمک تھي جيسے گلابي شيشے پر آہوں کي بھاپ اکھٹي ہو گئي ہو۔

مجھ سے بہتر آدمي تو آپ کو مل رہا ہے۔ ليکن مجھ سے بہتر گھر نہ ملے گا آپ کو مغربي پاکستان ميں ۔

اسي طرح سنتو جمعدارني کے جانے پر بي بي نے سوچا تھا۔ ہم سے بہتر گھر کہاں ملے گا کملوہي کو۔
اسي طرح خورشيد کے چلے جانے پر وہ دل کو سمجھاتي تھي کہ اس بد بخت کو اس سے اھچا گھر کہاں ملے گا اور ساتھ ساتھ بي يہ بھي جانتي تھي کہ اس سے بہتر گھر چاہے نہ ملے وہ لوٹ کر آنے واليوں ميں سے نہیں تھيں۔ اتنے برس گزرنے کے بعد آج ايک پل تعمير ہو گيا۔ آپي آپ ماضي سے جوڑنے وال۔ وہ دل برداشتہ انار کلي چلي گئي۔ اس خيال تھا کہ وہ چار گھنٹے کي غير موجودگي ميں سب کچھ ٹھيک کر دے گي۔ سنتو جمعدارني اور خورشيد تک کو آتے دال کا بھائو معلوم ہو جائے گا۔

ليکن ہوا يوں کہ جب وہ اپنے اکلوتے دس روپے کے نوٹ کو ہاتھ میں لئے بازار ميں کھڑي تھي اور سامنے ربڑ کي چپلو ں والے سے بھائو کر رہي تھي اور نہ چپلوں والے پونے تين سے نيچے اترتا تھا اور نہ وہ ڈھائي روپے سے اوپر چڑھتي تھي عين اس وقت ايک سياد کار اس کے پاس آکر رکي۔

اپنے بوائے پھٹے پيروں کو نئي چپل ميں پھنسا تے ہوئے اس نے ايک نظر کار والے پر ڈالي۔
وہ اپالو کي بت کي طرح وجيہہ تھا۔
کنپٹيوں کے قريب پہلے چند سفيد بالوں نے اس کي وجاہت پر رعب حسن کي مہر بھي لگا دي تھي۔ وقت نے اس سينٹ کا کچھ نہ بگاڑا تھا۔ وہ اسي طرح محفوظ تھا جيسے ابھي ابھي کولڈ اسٹوريج سے نکلا ہو۔
بي بي نے اپنے کيکر کے چھال جيسے ہاتھ ديکھے۔
پيٹ پر نظر ڈالي جو چھاگل ميں بدل چکا تھا۔
اور ان نظروں کو جھکا ليا جن میں اب کنيزہ گوند کي بجھي بجھي سي چمک تھي۔
جمالي ملک اس کے پاس سے گزرا ليکن اس کي نظروں ميں پہچان کي گرمي نہ سلگي۔
واپسي پو وہ پروفيسر صاحب سے انکھيں چرا کر بستر پر ليٹ گئي اور آنسوئوں کا رکا ہوا سيلاب اس کي آنکھوں سے بہہ نکلا۔
پروفيسر صاحب نے بہت پوچھا ليکن وہ انہین کيا بتاتي کہ درخت چاہے کتنا ہي اونچا کيوں نہ چلا جائے اس کي جڑيں ہميشہ زمين کو ہوس سے کريدتي رہتي ہیں ۔ وہ انہین کيا سمجھاتي کہ آئيڈيلز کچھ مانگے کا کپڑا نہيں جو پہن ليا جائے۔
وہ انہیں کيا کہتي کہ عورت کيسے توقعات وابستہ کرتي ہے۔
اور۔۔۔۔
يہ توقعات کا محل کيونکر ٹوٹتا ہے؟
وہ غريب پروفيسر صاحب کو کيا سمجھاتي ۔
ايسي باتيں تو غالبا اب جمالي ملک بھي بھول چکا تھا۔
پچھلا صحفہ (8) اگلاصفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu