چارہ گر آج ستاروں کي قسم
کھا کے بتا
کس نے انسانوں کو تبسم کے لئے ترساينذر کرتا رہا ميں پھول سے جذبات اسے
جس نے پتھرکے کھلونوں سے مجھے بہلادياس نے اپنے دل ميں فيلصہ کرليا تھا مگر آدھي
رات کو بچي بلک بلک کر روئي اور اس کا تازہ تازہ دودہ ممتا کي دہائي ديتا
ہوابہنے لگا تو اسے بچي کو دادہ پلاتے ہي بني۔۔۔۔صبح تک بچي کي طبعيت خراب
ھوچکي تھي، ڈاکڑ نے بتايا کہ اس کو ماں کا دودہ محالف پڑا ہے، عجيب بات ہے، ماں
جو بچے کو نو مہينے پيٹ ميں رکھ کر اپنے گوشت پوست سے جنم ديتي ہے، بعض اوقات
اس کا اپنا دودہ زہر بن کر بچے کو ڈسنے لگتا ہے، اس بچي کو اسے ہر حالت ميں
زندہ رکھنا تھا، چناچہ ڈاکڑ کي ھدايت پر اس نے بچي کوخشک دودہ دينا شروع کرديا۔
گيارھويں دن ڈاکڑ نے اسے گھر جانے کي اجازت دے دي، اس سے ايک پہلے فاضلي اسے
لينے کے لئے آگيا تھا، اتنے دن اسے چھٹی نہ مل سکي تھي، اپني خوبصورت سي بچي کو
ديکہ کر وھ بہت خوش تھا اور رنجيدہ بھي ۔۔۔۔بچي اس کي تھي۔۔۔۔اس کي رضا سے پيدا
ھوئي تھي۔۔۔مگر کاش يہ شادي کے بعد پيدا ھوتي، شادي سے پہلے اس کي بے تاب
امنگوں کا اعلان بن کر نہ چلي آتي ، مگر يہاں اسے نيلم کو کن جانتا تھا، سب
انہيں مياں بيوي سمجھتے تھے، اگر اب مياں بيوي نہيں ھيں تو کيا ھوا۔۔۔۔۔؟اگلے
مہينے تو انہوں نے باقاعدہ طور پر شادي کرليني تھي، سو اس کے دل کا سارا رنج
جاتا رہا۔
کيا سوچ رہے ھو۔۔۔۔۔۔؟نيلم نے اسے بچي کو اتني محويت سے گود ميں لتائے ھوئے
ديکھا کر کہا،
سوچ رہا ھوں کتني پياري بچي ہے، بالکل تمہاري طرح ۔۔۔۔۔
بالکل ميري طرح ۔۔۔۔۔؟ نيلم کي آنکھوں ميں زہر آلودہ تنز ابھرا کتني غلط بات ہے
تمہاري پہچان۔۔۔۔۔بالکل ميري طرح ۔۔۔۔نيلم نے اس کي نقل اتاري اور پھر قہقہہ
لگا کر ہنسنے لگي، مرد اپنے پہلے بچے کي تعريف اسي انداز ميں کرتا ہے، گويا وہ
بچے کو نہيں ماں کو سراھ رہا ہو ہا پھر اسے ايسے اور کارنامے انجام دينے پر
اکسا رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔
ابھي منيسے تو ہے، بڑی ہوگي تو ديکھ لينا بالکل تمہاري طرح ھوجائے گي۔
بڑي ہوکر ۔۔۔۔۔کون جانے کس طرح کي ھوگي۔۔۔۔؟يہ کہتے کہتے نيلم کي آنکھيں دور
مستقبل کي چرف اٹھ گئيں، خدا کرے کہ ميري طرح ہي ہو جائے، اس کي عيار آنکھوں
ميں ايک خطرناک ارادہ تير رہا تھا، اور اس ارادے کے ارد گرد عزم راسخ اور
انتقام کے شعلے بھڑک رہے تھے۔
تم نے اس کا کوئي نام سوچا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ فاضلي نے نيلم کو يوں سوچ ميں گم ديکھ کر
پوچھا۔
ہوں ۔۔۔۔اوں۔۔۔۔نيلم ايک ٹھنڈي سانس لے کر جيسے لوٹ آئي، نام۔۔۔۔۔اس کا نہيں
۔۔۔۔۔۔ابھي سے نام سوچنے کي جلدي کيا ہے، گھر چل کر ديکھا جائے گا۔
تمہيں نہيں معلوم نيلم چھٹہے دن بچے کا نام ضرور رکھ لينا چاہئيے، سنا ہے کہ
چھٹے دن آسمان پر اس کي قسمت کا فيصلہ ہوجاتا ہے،اور کوئي مبارک گہڑي ديکھ کر
کوئي مبارک نام رکھنا چاہئيے۔
تو پھر اس کي قسمت کا فيصلہ تو بہت دنوں سے ہوگيا۔۔۔؟يہ کہہ کر نيلم نے بڑي ذو
معني نظروں سے فاضلي کو ديکھا، ان نظروں ميں فتح مندي کے سارے عکس جھلملا رہے
تھے، مامتا کا کہيں نام نہ تھا، فاضلي اس کے ايسے کڑوے اور زود معني فقرے سن کر
بڑا گھبراگيا، اس کا خيال تھاشايد نيلم کو يقين نہيں آرہا ميں يہاں سے جاتے ہي
اس کے ساتھ نکاح کرلوں گا، غالبا اس لے وہ بچي ميں زيادہ دلچسپي نہيں لے رہي
اور مجھے زک دينے کو ايسے جملے کہہ رہي ہے۔
اچھا توميں نے ايک نام سوچا ہے، تمہيں پسند آئے تو رکھ لينا۔۔۔۔۔۔۔پھر بات بدل
کر اسے خوشگورار موضوع پر لے آئي۔
بڑي جلدي ہے تمہيں اپني لحت جگر کا نام رکھنے کي۔۔۔۔۔؟فاضلي ھنسنے لگا۔
اچھا تو بتاؤ کونسا نام ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔
فاضلي محجوب جو ھوتے ھيں بولا اس کانام شبنم رکھ ديں، چھوٹا سا۔۔۔۔۔۔پيارا
سانام ہے اور تمہارے نام سے ملتا جلتا بھي ہے۔
اچھا تو گيارہ دن چھٹي نہ ملنے پر کيا تم يہ ہي سوچتے رہے ہوں، يہ کہہ کر نيلم
نے ايک بھر پور مگر کھوکھلا قہقہہ لگايا اور جب ہنستے ہنستے اس کي آنکھيں بھيگ
گئيں، تو فاضلي کے شرمندہ چہرے کو ديکھ کر بولي۔
ميں کب انکار کررھي ھوں۔۔۔۔۔۔رکھ لو يہي نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نام رکھ کر تم اپني
حسرتيں پوري کرتے ہو۔۔۔۔۔جب ميري باري آئے گي تو ميں اپني ساري حسرتيں نکال لوں
گي۔
اسي دن سے شبنم کي مہر اس مظلوم اور معصوم بچي کي پيشاني پر لگ گئي، اور اسي
روز يہ چھوٹا سا خاندان ۔۔۔۔جو بظاہر ايک دوسرے سے وابستہ تھا، مگر باطني طور
پر کسي کا سلسلہ کسي سے نہ ملتا تھا، اپنے قصبہ کي طرف روانہ ہوگيا۔
بيرسٹر فصيح الزماں نے ايک کھاتے پيتے گھرانے ميں پرورش پائي تھي، تعليم کے
اخراجات والدين بڑي خوش اسلوبي سے برداشت کرتےتھے، ايک دن پڑھتے پڑھتے وہ وکيل
بن بيٹھےاور پھر باہر جا کر بار ، ايٹ لاء کي ڈگري لے آئے، ذہانت قابل ديد
پائي تھي، اس لئے دنوں ميں انکے گرد ضرورت مندوں کا ہجوم نظر آنے لگا، اور ہجوم
کے بيچوں بيچ انہوں نے اپني ايک شاندار سي کوٹھي بنالي تھي، ان کي ڈاتي موٹر
تھي اور بڑے ٹھاٹھ سے رہ رہے تھے۔
کوئي نہ کوئي محرومي ۔۔۔۔ايک خلش بن کر ہر انسان کے دل ميں جاگزير رہتي ہے،جو
اسے زندگي کے تلخ حقائق کا سامنا کرنے کے قابل بناتي ہے، اگر يہي خلش مٹ جائے
تو انسان کو جنت سمجھ کر ھميشہ کے لئے يہاں رہنے کا تمنائي بن بيٹھے، يہي
مايوسياں انسان کو دنيا کي حقيقت سے آگاہ کرتي ہيں، اور وہ عام انسان کي مانند
جينے کا تہہ کرليتا ہے، پھر کبھي کبھي مايوسياں اسے زندگي سے بيزار کرکے بالکل
ناکارہ بناديتي ہيں۔
بيرسٹر فصيح الزمان کي زندگي ميں ايسے ہيايک خلش ضرور تھي، مگر وہ جينے سے
بےراز نہيں ہوئے تھےوہ دل کے بڑے اچھے تھے، اور بڑے بااصول آدمي تھے، وہ زندگي
کے اصولوں کے بڑے قدر دان تھے، اور ايک بھر پور زندگي گزارنے کے قائل تھے، ان
کي شريک حيات ان کي آرزؤں کا ھلکا سا عکس بھي نہ تھي، والدين کي اس پسند کو
پہلے تو انہوں نے بحالت مجبوري قبول کيا، بعد ميں وہ اسي سے مانوس ہوگئے تھے،
ہر دم بيمار رہنے والي۔۔۔۔۔۔۔۔۔رزد رد ۔۔۔۔۔خاموش اور حساس مريم۔۔۔۔جس کے نقوش
بڑے دلکش تھے مگر کوئي نہ کوئي بيماري اسے اپني گرفت ميں لئے رکھتي جس سے اس کے
نقوش کبھي ابھر کر اپنا حق وصول نہ کرسکے، زرديوں نے اس کے رنگ کو سنولاديا
تھا، اور سياہ حلقوں نے اس کي آنکھوں کي جاذبت کے اوپر لکير پھير دي تھي، اور
سب سے بڑي بات يہ کہ اس کي کوکھ ابھي تک بنجر اور ويران تھي، شادي کو بارہ سال
ہوگئے تھے، طرح طرح کي بيمارياں ہي اس کا پہيچا نہ چھوڑتي تھيں، بھلا فصيح
الزمان کو اولاد کا خيال کيونکر آتا۔۔۔؟اگر آتا بھي تو مريم کے سونے اور بے نور
آنکھوں کو ديکھ کر وھ اس ذکر کو تال جاتے،اس معاملئ ميں بڑے متوکل اللہ تھے، يہ
جذبہ خدا جانے صرف ہمدردي تھا ياانہيں صيح معنوں ميں مريم سے محبت تھي،
البتہ مريم ان پر والہانہ جان چہڑکتي تھي، اسے خدا نے صرف جان چہڑکنے کي ہي ہمت
دي تھي، ورنہ کيا کيا اس کا دل تڑپتا کہ وھ جي جان سے فصيح الزمان کي خدمت
کرے۔۔۔۔وقت بے قوت ان کے حضور کھڑي رہے۔۔۔۔ان کے لئے نوع بنوع پکوان پکائے۔۔۔ان
کي تما ضروريات کا خيال رکھے۔۔۔۔انہيں لجہائے۔۔۔۔وغيرہ وغيرہ۔
اور سب سے بڑا ستم يہ تھا کہ وہ مردانہ خوبصورتي کا مکمل نمونہ تھے۔۔۔۔صحت
مند۔۔۔باوقار اور خوبرو نوجوان۔۔۔۔۔۔۔جواني کا زمانہاب چپکے چپکے خوابوں ميں
شامل ھورہا تھا۔۔۔کہ اچانک خدا نے ان کے ويرانے ميں باد ستر کو بھيجا، جو
مرجھائے ھوئے غنچوں اور شگوفوں کو بہار کا پيام دينے لگي، بچے کي آمد کي خوشبو
پاکر مريم خود بخود صحت مند ھونے لگي تھي، اور مريم کے ؛لبوں پر جوان مسکراہٹيں
ديکھ کر فصيح الزمان اپني کن پٹي کے سفيد بال بھول گئے تھے۔
فصيح الزمان نے پورے نو ماہ مريم کو ہر طرح کا آرام پہيچاياتھا، ان کي بھي يہي
تمنا تھي، کہ وھ بخير و عافيت بچے ک وجنم دے کر فارغ ھوجائے، ان کے لئے ايک بچہ
ہي کافيتھا، وھ لڑکي ھو يا لڑکا ۔۔۔۔انہيں اس کا بالکل خيال نہيں تھا، بہر حال
ان کا عکس لئے۔۔۔۔۔کوئي تو ان کا نام ليوا آئے گا۔۔۔۔
مريم کا کيس بڑا نازک تھا، يہ ڈاکڑوں نے انہيں پہلے ہي بتا ديا تھا، اس لئے وھ
بڑے فکر مند تھے، اس دائم الميرض، کم گو اور چپکے چپکے چاہنے والي بيوي کا ساتھ
چھوڑنا انہيں کسي صورت بھي گواانہ تھا۔
اس لئے انہوں نے مريم کومناسب وقت پر ہي اسپتال ميں داخل کرواديا تھا، شہر کا
يہ سب سے بڑا اسپتال تھا، انہوں نے پرائيوٹ وارڈ ميں کمرہ لے رکھا تھا، جہاں ان
کي ايک بہن ، نوکراني اور مريم رھتي تھيں۔
مريم کے ہاں لڑکي پيدا ھونے کي خبر نے انہيں ايک عجيب چرح کي مست دي، خبر نہيں
لڑکے کي پيدائش پر کس قسم کي خوشي ھوتي ہے، انہيں تو لڑکي کي پيدائش ۔۔۔۔اور
مريم کي خيريت کي خبر سن کر يوں محسوس ھوا جيسے وہ بڑے طوفانوں سے کشتي بچا
لائے ھوں۔۔۔۔۔يہ بچي انہيں واقعيبڑي مبارک قدم لگ رہي تھي، کہ ايسے خطرناک کيس
کے باوجود ان کي مريم سيح حالت ميں ہے۔
فلورنس جب بچي کو کمبل ميں لپيٹ کر کمرے ميں داخل ھوئي تو فصيح الزمان کے لبوں
پر ايک خوبصورت سي مسکراہٹ کھيلنے لگي، لاغر سي مريم کي آنکھوں ميں ان گنت چراغ
روشن ھوگئے، وھ اٹھ بيٹھي ايک فاتحانہ اور محبوبان۔۔۔۔۔مسکراہٹ کے ساتھ اس نے
فصيح الزمان کو ديکھا، جو فلورنس کے بازؤں ميں سوئي ھوئي بچي کو غور سے ديکھ
رھے تھے۔
فلورنس نے اگلے ہي لمحے بچي کو مريم کي گود ميں ڈال ديا۔۔۔۔۔
|