چارہ گر آج ستاروں کي قسم
کھا کے بتا
کس نے انسانوں کو تبسم کے لئے ترساينذر کرتا رہا ميں پھول سے جذبات اسے
جس نے پتھرکے کھلونوں سے مجھے بہلاديميري تخليق۔۔۔۔۔ميري بچي ۔۔۔۔۔۔۔ميرے جسم کا
ايک حصہ۔۔۔۔۔۔۔۔
مريم کا دل ايک نئےاہساس سے دوچار تھا، بچي کو بازؤں ميں ليتےہي وھ دنيا کے سب
سے اونچے مينار پر پہنچ گئي، اسے اپنا مرتبہ آج بہت بلند معلوم ھورہا تھا، اس
نے تخليق کائنات ميں ہاتھ بٹايا تھا اور ثبوت کے طور پر اس کي گود ميں ايک بچي
آگئي تھي، اسے محسوس ہو در حقيقت اب وہ تنہائي ذمہ دار اور مد برعورت بني
ہے، وھ ايک ماں ہے۔
ماں۔۔۔۔۔۔دنيا کي ايک اٹل حقيقت۔۔۔۔۔شفقت و محبت کي تصوير۔۔۔۔۔قربانيوں کي آماج
گاہ۔۔۔۔۔۔بچے کے مستقبل کي معمار۔۔۔۔۔۔بے لوث اور جاں نثار ہستي، ماح ۔۔۔۔۔کتنا
ميٹھا لفظ ہےماں۔۔۔۔۔اس نے اپبي مان کو بار ہاں پکارا تھا مگر يہ تو اب ہي
تجربہ ھوا کہ مان بن کر احساسات کس قدر مختلف ھوجاتے ہيں۔۔۔۔۔يہ مختصر سا لفظ
اپنے اندر دنيا جہاں کي وسعت اور ہمہ گير رکھتا ہے، اور ساري حقيقتيں اس کے
سامنے باطل نظر آتي ہيں، جس اس نے بچي کو گود ميں لٹايا تھا، اس کي يوں محسوس
ہو رہا تھا جيسے کوئي اس کے دل پر سفيد سفيد ۔۔۔۔۔گلابي گلابي پھولوں کي
بارش کررہا تھا۔
وھ دونوں محويت سے بچي کو ديکھ رھے تھے، شايد بچي ان کے اس طرح ديکھنے سے
گھبراگئي تھي، چونک کر اس نے آنکھيں کھول ديں، اور پھر بلکنا شروع کرديا، مريم
ايک دم گھبراگئي، اسے بچي کو چپ کرانا نہيں آتا تھا، شايد قدرت اسے سب کچھ سکھا
ديتي ليکن فصيح کے سامنے اسئ صرم آگئي ، دونوں اس وقت پحتہ عمر ميں تھے، ليکن
دونوں کا تجربہ تو پہلا تھا، مريم سچ مچ نئي نويلي دلہنوں کے طرح شرما رھي تھي۔
اس کو بھوک لگي ہے، فلورنس نے معني خيز نظروں سے مريم کي طرف ديکھا۔
مريم اس کي نظروں کا مطلب پا کر بوکھلا سي گئي، ، اور فصيح الزمان نے مصلحت اس
ميں سمجہي کہ ذرا سي دير کو باہر چلے جائيں، انہوں نے سگريٹ سلگا کر منہ ميں
رکھا اور اٹھ کر باہر چلے گئے، دھوئيں کے مرغولوں کے ساتھ کئي قسم کي سوچوں نے
ان کو گھير ليا، وھ برآمدے کے ايک ستون کے ساتھ ٹيک لگا کر کھڑے ھوگئے۔۔۔۔بچي
کو ديکھنے سے پيشتر انہيں بچي کو ديکھنے کا بڑا اشتياق تھا، مگر جب انہوں
نے اس کے چہرے پر سے کپڑا ھتايا تو ان کے دل ميں ايسي کوئي گد گدي نہيں
ھوئي،کسے پدرانہ شفقت کہتے ھيں، نہ معلوم کيوں۔۔۔۔۔۔۔؟ ان کے خون ميں
ہلچل پيدا نہ ھوئي، انہوں نے بچي کا يوں جائزہ ليا جيسے وھ ان کے دل کا ٹکڑا
نہيں ہے۔۔۔۔بس ايک نومولود بچي ہے۔۔۔۔۔جس کے آنے سے ان کے گھر ميں ايک فرد کا
اضافہ ھوگيا تھا۔
انہيں يہ احساس نہيں کيوں پيدا ہوا۔۔۔۔۔؟وھ يہ سوچ کر شرمندہ ھوئے، يہ بچي ان
کي اپني مريم نے تو جنم دي ہے، جس کي آمد کي خبر سن کر انہيں بے انتہا خوشي
ھوئي تھي، پھر انہوں نے يہ کہہ کر دل کو تسلي دي، کہ شايد ان کي عمر کا تقاضا
ہے ، کہ وہ بچي کي آمد پر عام نوجوانوں کے سے جذبات کا اظہار نہيں کرسکے، يا
شايد لاشعوري طور پر وہ لڑکي کي پيدائش کو قبول نہيں کرسکے، رفتہ رفتہ وھ اس سے
ضرور مانوس ھوجائيح گے، اور وہ اسے کماحقہ، اتني شفقت و مہبت ديں گے، جتني کي
وہ مستحق ھوگي۔
ليکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے، کہ تقدير نے ان کي ايک چھوٹي سي
بھول۔۔۔۔۔۔۔معصوم سي لغزش کي انہیں بہت بڑي سزا دينے کي ٹھان لي ہے، اب انہيں
کيا معلوم کہ تقدير تو انجان لوگوں کو سبق پڑہانے اور سزا دينے کے بہانے
ڈھونڈتي ہے، ادھر کسي کے منہ سے کوئي بات نکلي۔۔۔۔۔۔۔۔ادھر اس نے اپني متلون
مزاجي کا نيا شوشہ چھوڑا۔۔۔۔۔۔۔اور بعض اوقات تو يہ کسي قصور کے بغير ہي لوگوں
کو وھ تکني کا ناچ نچاتي ہے، کہ اس کي ستم ظرفيوں کا قائل ھونا ہي پڑا ہے۔
فصيح الزمان کا صرف اتنا ہي تو قصور تھا، کہ کچھ عرصہ پہلے وہ چلتے چلتے بھٹک
گئے تھے اور ايک ايسي راھ پر نکل پڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔جہاں ان کي منزل کي حديں عمودي
ھوگئي تھيں،حقيقت کا انکشاف ھوتے ہي وہ الٹے پاؤں لوٹ آئے تھے، پھر ان کے لئے
يہ سزا کيوں تجويز کي جارہي تھي؟ اس بات سے کون باخبر تھا؟۔۔۔۔۔۔۔
يہ منصوبہ تو صرف نيلم کے غليظ دماغ ميں پروان چڑھا ۔۔۔۔۔۔سراج نے اس کو تقويت
دي تھي۔۔۔۔اور يوں نيلم بيگم اپنے انتقامي منصوبے کي پہلي کامياب کوشش ميں
سرخرو ھوگئي تھي۔
نرس نے باہر آکر فصيح الزمان کواندر جانے کا اشارہ کيا۔۔۔۔۔۔کرفيو ختم اب آپ
اپني نور چشم کے پاس جاسکتے ھيں۔۔۔۔فلورنس ھنستي ھوئي ان کے پاس سے نکل گئي،
ايک نرس کے لئے زندہ دل ھونا بھي کتنا ضروري ہے، وھ يہ سوچتے ھوئے کمرے ميں
داخل ھوئے بچي اپنے پالنے ميں چو رہي تھي، ميريم کے چہرے پر ايک عجيب سا نور
تھا، ايک پو نور رونق جونہوں نے اس سے پيشتر اس ستے ھوئے چہرے پر نہيں ديکھي
تھي، ماںبن کر عورت کتني مقدس اور کتني مکمل ھوجاتيہے، وہ مريم کے قريب پلنگ پر
بيٹھ گئے۔
اب تو تمہاري طبعيت ٹھيک ہے نا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے پيار سے پوچھا۔
اور جواب ميں مريم نے اپني نکھري نکھري آنکھوں ان کي طرف اٹھا ديں جن ميں محبت
پيار، عقيدت ۔۔۔۔۔۔۔اعتماد۔۔۔۔۔جانے کيا کيا کچھ گڈ مڈ ھو کر ان تک پہنچنے کو
بے قرار تھا، مريم کي اگر کوئي اداانہيں پسند تھي تو يہي۔۔۔۔۔وھ جب بھي پيار يا
ہمدردي ميں ڈوب کر اپني گہرائي مين پيار کے احساس کو چھوليتي تو اپنے بے رونق
چہرے کي تاثير سے لبريز ۔۔۔۔نکھري نکھري معصوم سي آنکھيں اٹھا کر ان کي طرف
ديکھتي ، جيسے کہہ رہي ھو ۔۔۔۔۔
جذبے گويائي کے مرہون منت نہيں ھوتے۔۔۔۔۔مجھ ميں نطق کي سو خوبياں نہ سہي
۔۔۔۔۔مگر آپ کے دل کا حال تو خوب جانتي ھوں۔۔۔۔۔
يہ بولتي ھوئي۔۔۔۔۔۔محبت کرتي ھوئي۔۔۔۔والہانہ انداز نثار ھوتي ھوئي آنکھيں
انہيں بہت پسند تھيں۔۔۔۔۔پھر اچانک انہيں سوچ کر تکليف سي ھوئي کہ ان کي بچي کي
آنکہيں مريم پر نہيں تھيں، اپني ماں کي يہي ايک چيز اچھي تھي جو اس نے نہيں لي
تھي۔
آپ کيا سوچ رہے ہيں۔۔۔۔۔۔؟ مريم ان کے سکوت بامعني کو توڑنے کے خاطر کہا کچہ
نہيں۔۔۔۔۔بس يہي کہ۔۔۔۔۔بچي کے آجانے سے تمہارا جي بہل گيا ھوگا، اب تم
ضرور اچھي ھوجاؤ گي، پہلے تو تم نے مفت کے روگ پال رکھے تھے۔۔۔۔۔اب فضول سوچ
بچار کا وقت ہي نہ ہوگا۔
مريم ہنسنے لگي، يہ خيال آپ کو کيوں آيا۔۔۔۔۔؟
اس لئے کہ جب تم مان بني ھو، ايک خوبصورت سي مسکراہٹ تمہارے چہرے پر پھيل کرجذب
ھوگئي ہے، تم سنجيدہ ھو تو مسکراہٹ کي روشني تمہارے چہرے کو منور کرتي رھتي ہے،نرس
نے ايک نگاہ سب بچوں پر ڈالي، اور ہاتھ والي بچي کو بستر پر لٹا کر ابھي اس نے
اس کے گلے ميں پڑي ھوئي چٹ اتار نے کو ہاتھ بڑھايا ہي تھا کہ فلونس اندر داخل
ھوئي۔
ارے يہ بچوں نے کيا کہرام مچارکھا ہے، يوں معلوم ھوتا ہے بچہ پارٹي ميں بغاوت
ھوگئي ہے، وہ حسب معمول ہنستي ھوئي اندر داخل ھوئي۔
نرس کے ہاتھ جہاں تھے وھيں رک گئے، گرہ کھولتے کھولتے اس نے گرہ باندہني شروع
کردي، مگر اس نے فلورنس کي بات کا کوئي جواب نہ ديا،ارے ہاں۔۔۔۔۔فاخرہ۔۔۔۔۔۔تم
يہاں کيا کررہي ھو؟تمہاري ڈيوٹي تو اس عشوہ طراز رورت کے کمرے ميں تھي، اس کے
نخروں کا کيا حال ہے، ديکھوں اس کي بچي بھي اس کے طرح سراپا ادا ہے، اور کيا
ترنم ميں روتي ہے۔۔۔۔۔
باوجود اتني گبہراہٹ اور سرايمگي کے فاخرہ کو ھنسي آگئي، مگر جلد ہي مسکراہٹ کي
جگہ ايک مہوم سے اندہيرے نے لے لي۔
ميں ادہر سے گزر رہي تھي بچوں کئ رونے کي آواز سن کر ادھر آگئي۔۔۔۔سناؤ
تمہاری مريضہ کا ابکيا حال ہے؟ فاخرہ نے گہبرائے ھوئے لہجے ميں کہا۔
مريضہ نے تو کل سے اپني بچيکو ديکہنے کي رٹ لگا رکھي ہے، آج تو کچھ ٹھيک ہے، اس
کابيرسٹر بھي وہيں براجمان ہے، اور کرنل صاحب نے اجازت دے دي ہے کہ آج بچي کو
ماں کے پاس بھيج دياجائے۔۔۔۔۔
کہاں ہے اس کي لاڈو۔۔۔۔؟ يہ کہہ کر فلورنس جونہي چھ نمبر کي کاٹ کي طرف بڑہي،
فاخرہ کا دل يکبار گي دھڑک کر حلق تک آگيا۔۔۔۔جيسے ابھي منہ کے راستے باہر
آجائے گا، اور اس کے منہپر رسوائي کي کالک مل دے گا، بظاہر وہ بچي کو لٹانے ميں
مگن رہي، فلورنس تھوڑي دير تو کاٹکے پاس کھڑي ھو کر چھ نمبر بچي کو ديکہتي رھي،
پھر اس نے مڑ کر فاخرہ کي طرف ديکھا کچھ پوچھنے کے لئے لب ہلائے۔۔۔مگر پھر رک
گئي۔۔۔پلٹ کر بستر سے بچي کو اٹھايا، اسے کمبل ميں اچھي طرح لپيٹ کر دروازے کي
طرف بڑھي۔۔۔۔۔
چل جان جہان۔۔۔۔تيري ماں تيرے لئے تڑپ رھي ہے اور اب تو ذرا اپني ماں کي محبت
اور لاڈ کے مذے لوٹ۔۔۔۔۔تاکہ دنيا ميں آنے کا لطف اٹھائے۔۔۔۔۔يہ کہہ کر فلورنس
نے حسب عادت ايک قہقہ لگايا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئي۔
فاخرہ کا دل جو ابھي ابھي بڑي تيزي سے دھڑک رہا تھا، اب ايکدم ڈوبنا شروع
ہوگيا،دل کي آواز اتني مدہم ھوگئي تھي، جيسے اس کا وجود اس آواز ميں ڈوب گيا
ھو۔۔۔۔۔اور ڈوبنے والے کے لئے تنکے کا کوئي سہارا نہ رہاہو۔
وہ اپنا سر پکڑ کر بچي کے پلنگ کے کنارے پر بيٹھ گئي، اس کے ساتھ پاؤن بالکل
سرد تھے، بچي اب گہري نيند سوگئي تھي، اس کے لبوں سے ھلکي ھلکي سسکي کسي وقت
نکل جاتي اور کسي وقت وھ نيند ميں رونے والا برا سامنہ بناتي، جيسے اس نے کوئي
ڈراؤنا خواب ديکھا ھو مگر اس عمر ميں جب شعور سرا سر لا شعور ھوتا ہے، اندھيري
کوٹھري کے کے سوا ذہن ميں کوئي تصور نہيں ھوتا کوئي خواب کيسے آسکتاہے؟۔۔۔۔
سنا ہے فرشتے بچوں کو کبھي گدگدي کرکے ہنساتے ھيح، اور کبھي ڈرا کے رلا تے ھيں،
يعني انسان کے پيدا ھوتے ہي اس کے ساتھ رلانے، ہنسانے کا کھيل شروع ھوجاتا ہے،
پہلے پہل تو يہ کام فرشتے انجام ديتے ھيں، بعد ازاں اس فرض کي ادائيگي کے لئے
ايکدم انسان فرشتہ بن جاتا ہے۔۔۔۔
فاخرہ کا جب ذرا دمميں دم آيا تو سے بچي کي حالت پر بڑا رحم آيا، دوسري بچي تو
اس کي ماں اپني ہي بچي سمجھ کر پيار سے پال لے گي، مگر اس کي نام نہاد ماں کو
کيا علم ہوگا، کہ يہ بچي اس کي نہيں ۔۔۔۔چناچہ اس بد نصيب بچي کے ساتھ ابھي سے
ہنسانے اور رلانے والا کھيل شروع ھوچکا تھا۔
|