ايک سائيکل مرمت والا، ايک لانڈري والا دو
پٹواري، ايک بوٹ شاپ والا، اور ايک ڈاکٹر مع اپنے دواخانہ کے آرہے،
ہوتے ہوتے پاس ہي ايک دکان ميں کلال خانہ کھلنے کي اجازر ملي
گئي، فوٹو گرافر کي دکان کے باہر ايک کونے ميں ايک گھڑي ساز آڈيرا
جمالاي اور ہر وقت محب شيشہ آنکھ پر چڑھائے گھڑيوں کا کل پرزوں پر
غلطاں و پچياں رہنے لگا۔
اس کے کچھ ہي دنوں بعد بسي ميں، نل، روشني اور صفائي کا باقاعدہ انتظام کي طرف توجہ
کي جانے لگي، سرکاي کارندے، سرج جھنڈيا، جريبيں اور اونچ نيچ ديکھنے والے لے لے کر
آن پہنچے اور ناپ ناپ کر سڑکوں اور گلي کوچوں کي داغ بيل ڈالنے لگے اور بستي کي کچي
سڑکوں پر سڑک کوٹنے والا انجن چلنے لگا۔
اس واقعہ کو بيس برس گزر چکے ہيں يہ بستي ايک بھرا ہوا شہر بن چکا ہے، جس کا اپنا
ريلوے اسٹيشن اور ٹائون ہال بھي، کچہري بھي اور جيل خانے بھي آباي ڈھائي کے لگ بھگ
شہر ميں ايک کالج دوہائي اسکول ايک لڑکوں کيلئے ايک لڑکيوں کيلئے اور آٹھ پرائمري
اسکول ہيں جن ميں ميونسپلٹي کي طرف مفت تعليم دي جاتي ہے، چھ سنيما ہيں اور چابنک
جن ميں سے دو دنيا کے بڑے بڑے بينکوں کي شاخیں ہيں۔
شہر سے دور روزانہ تين ہفتہ وار دس ماہانہ رسائل و جرائد شاع ہوتے ہيں ان ميں چار
ادبي دو اخلاقي و معاشرتي و مذہبي، ايک صنعتي، ايک طبي ايک زنانہ ايک بچوں کي رسالہ
ہے، شہر کے مختلف حصوں ميں دو مسجديں، پندرہ مندر اور دھرم شالے، چھ يتيم خانے،
پانچ اناتھ آشرم اور تين بڑے سرکاري ہسپتال ہيں جن ميں ايک صرف عورتوں کيلئے مخصوص
ہے۔
شروع شروع ميں کئي سال تک يہ شہر اپنے رہنے والوں کي مناسبت سے حسن آباد، کے نام سے
موسم کيا جاتا رہا مگر بعد ميں اسے نا مناسب سمجھ کر اس ميں تھوڑي
سي ترميم کر دي گئي يعني بجائے حسن آباد کہلانے لگا مگر يہ نام چل نہ سکا کيوں کہ
عوام حسن اور حسن ميں کچھ امتياز نہ کرتے، آخر بڑي بڑي بوسيدہ کتابوں کي ورق گرداني
اور پرانے نوشتوں کي چھان بين کے بعد اس کا اصلي نام دريافت کيا گيا جس سے يہ بستي
آج سے سيکڑوں برس اجڑنے سے پہلے موسوم تھي اور وہ نام ہے آننندي۔
يوں تو سارا شہر بھر صاف ستھرا اور خوشنما ہے مگر سب سے بارونق اور تجارت کا سب سے
بڑا مرکز وہي بازار ہے جس ميں زنان بازاري ہوتي ہے۔
آنندي کے بلديہ کا اجلاس زوروں پر ہے، ہال کھچا کھچ بھرا ہوا ہے اور خلاف معمول ايک
ممبر بھي غير حاضر نہیں بلديہ کے زير بحث مسئلہ يہ ہے کہ زنان بازار شہر بدر
کرديا جائے، کيوں کہ ان کا وجود انسانيت اور شرافت اور تہذيب کے دامن پر بد نما داغ
ہے، ايک فصيح البيان مقرر کر رہے ہيں، معلوم نہيں وہ کيا مصلحت تھي
جس کے زير اثر اس ناپاک طبقے کو ہمارے اس قديمي تاريخي شہر کے عين
بيچوں بيچ رہنے کي اجازت دے دي گئي۔
اس مرتبہ ان عورتوں کے رہنے کيلئے جو علاقہ منتخب کيا گيا وہ شہر
سے بارہ کوس دور تھا۔ |