Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  حيات اللہ انصاري
آخري کوشش 

ٹکٹ بابو نے گيٹ پر گھسيٹے کو روک کر کہا:
ٹکٹ؟
گھسيٹے نے گھگھا کر بابو کي طرف ديکھا ، انہوں نے ماں کي گالي دے کراسے پھاٹک کے باہر ڈھکيل ديا، ايسے بھک منگوں کے ساتھ جب بلا ٹکٹ سفر کريں اور کيا ہي کيا جاسکتا ہے؟
گھسيٹے نے اسٹيشن سے باہر نکل کر اطمينان کي سانس لي کہ خدا خدا کرکے سفر ختم ہوگيا، راستہ بھر ٹکٹ بابوئوں کي گاليان سنيں، ٹھوکريں سہيں، بيسيوں بار ريل سے اتارا گيا، ايک اسٹيشن سے دوسرے اسٹيشن پيدل بھي چلنا پڑا۔
 ايک دن کے سفر ميں بائين دن لگے مگر ان باتوں سے کيا؟ کسي نہ کسي طرح اپنے وطن پہنچ تو گئے؟وطن پچيس برس کے بعد، ہاں پچيس ہي برس تو ہوئے جب ميں کلکتہ پہنچا تو کالي مل کھلي تھي، اور اب لوگ کہتے ہيں اس کو کھلے پچيس سال سے زيادہ ہو چکے ہيں۔
 آگئے وطن ہاں اب اب فاصلہ ہي کيا ہے، اگر غلطي نہيں کرتي ہے تو وھ کوس کا کچا راستہ اور دو گھنٹہ کي بات ہے، اپنا گھر اپنے لوگ، وہ تعمتيں جن کا پچيس سال سے مزا نہيں چکھا ہے کلکتہ ميں گھر کے نام کو سڑک تھي، يا دکانوں کے تختے يا پھر شہر سے ميلوں دور ٹھيکہ دار کي جھونپڑياں جس کي زمين پر اتنے آدمي ہوتے تھے کہ کروٹ لينے کي جگہ نہ ملتے تھي، رہے اپنے لوگ سو وہاں کون اپنا تھا؟

پچھلا صحفہ (1) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu