خزاں کا ايک زرد پتا درخت سے ٹوٹ کر اس کي ويران گود ميں آگرا، اور وہ سوچنے
لگي کدھر گئے، وہ خوابناک دن اور کہا چھپ گئيں وہ عيش کي راتيں؟ وہ صبح شام وہ
دمہ و سال وہ بہاريں اور خزائيں؟اور خزاں کي اس گہرے زرد رنگ کي ويران دوپہر
ميں اس کا سانس گہرا ہوتا چلا گيا جيسے غم داندہ وہ کے بوجھ تلے کچلا جارہا ہو۔
اسے يوں معلوم ہونے لگا کہ يہ زندگي، وقت کے طوفان ميں ايک کھلي کتاب کي طرح
پڑي ہے، جس کے ورق نہايت تيزي سے الٹتے چلے جارہے ہيں اور بہت جلد اختتام کو جا
پہنچيں گے، اختتام اس کا کائنات کا سب سے عظيم الميہ اختتام خواہ کسي چيز کا ہو
کس قدر ناقابل برداشت ہوتا ہے، شمع کے گل ہوجانے ميں کسي ياس انگيز کا کانپتے
لگتي ہے اور نغمے کے بند ہوتے ہي فضا پر کتنا ہولناک سناٹا طاري ہوجاتا ہے تو
يہ اختتام۔
اس کا سانس اور بھي گہرا ہوتا چلا گيا اور اس کي آنکھوں پر بھي غم وحرماں کي
لمبے لمبے سائے يوں کانپنے لگے جيسے متقل کي طرف جانے والے قيدي کے قدم، آہ تو
يہ ہے وقت جس کے پر نہيں ہوتے اور پھر بھي کس تيزي سے نامعلوم دنيائوں کي طرف
پرواز کرجاتا ہے پھر اس کي نيم آنکھوں نے کھلي حقيقتيں ديکھ ليں، وہاں کے
وہ سر سبز لہلہاتے ہوئے کھيت جب پر ہوائے جنوب کبھي آہين بھرا کرتي تھيں، گرجنے
والے نيلے سمندر کي وہ سفيد فلک بوس موجيں جن کے نيل ميں وہ کبھي جل پريوں کي
طرح نہايا کرتي تھي، اور گرمي کي وہ طويل اور گہري گلابي، ايشيائي دوپہريں جن
پر وہ کوئي خاص توجہ نہ ديا کرتي تھي، کيونکہ عہد ماضي ميں يہ ساري چيزيں روز
مرہ کي تھيں، معمولي اور حسن سے خالي مگر اب يہ سب باتيں اور ساري چيزيں اور
باديں افق کے اس پار وہاں پہنچ چکي تھي، جہاں سے اب سانئس بھي انہيں واپسي لانے
سے قاصر تھا، ظالم وقت نے انہيں بڑي تيزي سے ماضي کے قبرستان ميں دفنا ديا تھا،
اور اسکي آنکھيں اب کھلي تھيں اور اب اسے معلوم ہوا تھا، کہ اس کا حال جواب
ماضي بن چکا کس درجہ حسين اور کس قدر سکون بخش تھا۔
وہ اس معمے کو سمجھنے سے قاصر کہ انساني ذہن کيلئے اس کا حال اتنا بے کيف اور
غير دلچسپ کيوں ہوتا ہے اور ماضي ميں جاکر يہي چيز اتني دلکش اور اتني جميل
کيوں کر بن جاتي ہے؟
خزاں کي اس زرد رنگ ويران دوپہر ميں اسے ايک لخت ماضي اسي نھنھ شاما کا نغمہ
ياد آگيا، جو کبھي ساري ساري دوپہر اس کے کمرے کے آگے بيري کي شاخ پر بيٹھي
الايا کرتي تھي، مگر عہد رفتہ ميں اس پر بھي خاص توجہ نہ کي تھي، اور کرتي بھي
کيوں؟ يہ بڑ جيسے معمولات زندگي ميں سے ايک بن گئي تھي، ليکن اس نھني شاما کا
مادھ پرانا نغمہ اسے شوپاں کيدھيوں سے زيادہ سامعہ نواز معلوم ہورہا تھا، اور
اسے يوں معلوم ہو رہا تھا جيسے اس نغمے کي ياد کے ساتھ اس کي روح بھي کچھي کھلي
جارہي ہے، کيونکہ نغمے کي گونج ماضي کي مرادہ واديوں سے آہي تھي چيا چيا
چي چي چي چيا چيا چي چي چي۔
پھر آہستہ حافظے نے ماضي کے مٹے ہوئے نقوش ميں رنگ آميز شروع کردي، گلياں جن
ميں اس کا بچپن کٹا، وہ درخت جن کي چھائوں ميں اس کي جواني کي دوپہر بيتيں، وہ
دريچے جن کے رومان پر ورسايوں ميں بيٹھ کر اس نے حسن و عشق کے رسيلے گيت گائے،
يہ چيزيں جب حال تھيں تو ذروں سے بھي زيادہ بے حقيقت تھيں، اور اب ماضي ميں بڑے
بڑے پہاڑ معلوم ہونے لگي تھيں، جن کے بوجھ تلے وہ بولي جارہي تھي، پھر ماضي کے
پردوں ميں سے ساون کي ايک گني گذري سہاني رات اسکے حافظے ميں جلوہ گر ہونے لگي،
يہ برسوں پہلے کي بات تھي، آسمان پر برسات کي گھٹائيں آنکھ مچولي کھيل رہي
تھيں، بادلوں کي گرج اور ہلکي ہلکي پھوارنے فضا ميں شرعيت پھيلا رکھي تھي، دور
پڑي کے ساتھ ايک فلم ديکھ کر سينما گھر سے باہر نکلتي تھي، وہ دونوں اپني کار
ميں آبيٹھے، ريزي کار چلا رہا تھا، اور وہ اس کے پہلوں کي سيٹ پر چپ چاپ بيٹھي
ساون کے ولولے کو محسوس کرہي تھي، تھوڑي دير ميں کار بارش کے قطروں کو چيرتي
پھاڑتي تيزي سے پل پر چڑھنے لگي، اس نے شيشيوں ميں سے جھانک کر باہر ديکھا، شہر
کي روشنياں ہلکي ہلکي پھوار کي وجہ سے مدہم نظر آرہي تھي، اور دور بادل گرج رہے
تھے، برسات کے موسم اور ساون کي رت کي خوشگواريت نے اسے بے چين کرديا، وہ چاہتي
تھي کہ کوئي اس سے بات کرے، يا کم از کم خود ہي کسي سے مخاطب ہو، مگر کس سے؟
اور کيوں کر؟ ابھي بھي فلم ديکھنے کے دوران ميں اس کي اور ريزي کي کسي بہت
معمولي بات پر حسب معمول بے معني سي بحث ہوگئي تھي، اس لئے
|