Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  حجاب اميتاز علي
  وہ بہاريں
سلسلہ گفتگو تھوڑي دير سے بالکل منقطع تھا، اب تجويد گفتگو کون کرے اس کيلئے ہمت چاہئيے اور تحمل جس کا اس ميں فقدان تھا۔
شايد ريزي کا دل بھي يہي چاہتا تھا کہ ايسي حسين رات ميں کوئي پيار کي نہ سہي معمولي بات ہي کرے، شايد وہ اسي لئے کار غير معمولي تيزي سے چلا رہا تھا، کہ وہ اسے روکے اور تجديد گفتگو ہوجائے، مگر ہ کار تيزي سے چلاتا رہا، اور يہ گونگي کا گڑکھا کر چپ سے سادھے بيٹھي رہي،دونوں اپني اپني جگہ ڈھيٹ تھے، اسے آسمان کے رنگ کي آنکھوں والي ريزي سے کس قدر عشق تھا مگر اس کا خيال تھا کہ ريزي کو نيرہ کي طرح آگ لگا کر فيڈل بجانے ميں لطف آتا ہے، اس کي عادت کي بدولت وہ اکثر پريشان ہو جايا کرتي تھي، کار اور تيزي سے چلنے لگي، چلانے والوں ہونٹوں کا خفيف سا تبسم اسے بے ظبط کر رہا تھا، چاہتي تھي اسے جھڑ کے ڈانٹ کر کہہ دے بے ہودگي ہے؟ مگر نہيں اس طرح تو گفتگو کي ابتدا ميري طرف سے ہوگي اور اس کي عادتيں اور بگر جائے گي، کچھ نہ کہوں گي بلا سے کار کا حادثہ ہوتا ہے تو ہو جائے، دونوں زخمي ہوں گے، يہ سوچ کر اسنے بے تعلقي سے شيشے ميں سے باہر اندھيري رات کو ديکھنا شروع کرديا، کار کي رفتار اور بھي تيز ہوگئي، وہ بے چين ہو کر کن انکھيوں سے ريزي کي طرف ديکھنے لگي، وہ ايک تجاہل عارفانہ کے ساتھ مسکراتا ہوا کار چلاتا رہا تھا، اب اس سے نہ رہا گيا، وہ بولي عہد گزشتہ  ميں ايک مردم آزاد گزر تھا جس کا نام ساد، مجھے سے کہہ رہي ہو يہ کہاني؟ ريزي نے جلدي سے پوچھا، نہيں اسے مخلوق خدا کو ايذا پہنچا کر لذت حاصل ہوتي تھي، وہ بولي، مجھے سے مخاطب ہو؟نہيں اس وقت ان تمام ظالم لوگوں کو سادي کہا جائے جو دوسروں کو اذيت پہنچا کر خود لطف اندوز ہوتے اور تسکين حاصل کرتے ہيں، جيسے اپنے آپ سے کہہ رہي تھي، نجانے اب يہ کہاني مجھے کيوں سنائي جارہي ہے، ريزي نے اپنے آپ سے سوال کيا اور کار کي رفتار تيز کردي۔
مگر واضع رہے کہ يہ انداز خالص سادي نہيں، اسے کود آزادي بھي کہا جاسکتا ہے، کار کا حادثہ ہوگيا تو وہ جانيں تلف ہوں گي، يہ کہہ کر وہ دوسري طرف بے تعلقي سے ديھکنے لگي، ريزي خفيہ طو رپر مسکرايا اس کے بعد کار تيزي سے مچل کے نيچے سے مچل کے نيچے اتر گئي، اور ايک موٹر پر پہنچ کر يک لخت يوں رک گئي جيسے دم نکل گيا ہو، اس نے حيران ہوکر کن آنکھيوں سے ريزي کو ديکھا وہ اسرنگ پر کہنيا ٹيکے چپ چاپ اس بات کا منتظر تھا کہ وہ اس سے کار روکھنے کي وجہ دريافت کرے، پانچ منٹ گزر گئے کوئي بھي ٹس سے مس نہ ہوا، وہ دراصل طبعاباتوني تھي، اس کيلئے چپ رہنا سزا ہے کچھ کم نہ تھا، اس لئے ايک لذيذ آہ بھر کر اپنے آپ سے مخاطب ہوگئي، کيسي عجيب رات ہے؟ مجھے سے کہہ رہي ہو؟ ريزي نے جلدي سے سامنے فضا ميں تکتے ہوئے پوچھا، نہيں بادلوں کي گرج اور يہ بجلي کي چمک کتني عجيب لگتي ہے، ريزي نے مسکرا کر ايک سگريٹ سلگايا، ہونٹوں ہي ہونٹوں ميں بولا عجيب بات ہے کہ عورتيں عجيب کا لفظ اس قدر استعمال کرتي ہيں، کہ واقعي عجيب معلوم ہوتا ہے، جاوے جا، مجھے سے کہہ رہو؟ وہ جلدي سے دوسري طرف ديکھتے ہوئے بولي، ارے نہيں کسي سے محبت ہوجائے، تو کہتي ہيں کيسا عجيب آدمي ہے، کسي بد نصيب کي مونچھيں دو بالشت کي ہوں تب بھي يہي کہتي ہيں کيسا عجيب آدمي ہے، تو اس ميں خرابي کيا ہے؟ اس چلا کر پوچھا، ريزي ہسن پڑا، مجھ سے پوچھتي ہو؟ مجھے کيا ضرورت پوچھنے کي کسي سے؟اس نے کار کے، شيشو ميں سے باہر جھانک کر بادلوں کو ديکھتے ہوئے دوبارہ کہے، ميں پوچھتي ہو؟ مجھے کيا ضرورت پوچھنے کي کسي سے؟ اس نے کار کے شيشو ميں سے باہر جھانک کر بادلوں کو ديکھتے ہوئے دوبارہ کہا، ميں پوچھتي ہوں اس ميں خرابي کيا ہے، اس ميں خرابي ميري جان يہ ہے، مجھ سے مخطاب ہو؟ ميں بے حد خوش ہو کر بولي، ميں کيوں ہوتا کسي سے مخاطب؟ وہ کار کے شيشوں ميں سے باہر ديکھتےہوئے بولا، اس ميں خرابي ميري جان صرف اتني ہے کہ عقيل يہ سمجھنے سے قاصر رہ جاتي ہے ، کہ يہ لفظ تعريفي طور پر استعمال ہو رہا ہے يا تحقيق طور تحقيري يا تنقيدي طور پر؟ يہ قصور عقل کا ہے لفظ تو نہيں اتنا نہيں سمجھتے؟ ہو تم وہ بھول کر اس مخاطب ہوگئي۔
ديکھا وہ ہنس پڑا، عجيب ہوں ميں؟ تم نے پھر وہي لفظ اب ميرے لئے استعمال کيا، اب ميري عقل کہتي ہے، کہ تمہيں مجھ سے عشق ہے عشق۔
وہ مجھے کيوں ہوتا عشق ون منہ پھلا کر بولي، کيونکہ ميں عجيب ہوں، ريزي کي اس بات پر اس نے ايک لذيذ درد بھري آہ کھينچي، اور اس کمينہ سے نکلا، تم مير نظروں ميں عجيب نہ ہوتے جب بھي مجھے تم سے عشق ہونا، وہ بات اس تيزي سے کہہ گئي کہ ريزي نے اسے بھي بحث کا ايک حصہ سمجھا، اور احمقوں کي طرح پوچھنے لگا کيا کہا؟ مجھے سے پوچھتے ہو؟ نہيں ۔۔۔۔نہ پوچھو۔۔مگر بات مزے کي وہ بولي۔۔۔۔تو بتادو ششي، ميں پوچھ رہي تھي، کار کيوں رک گئي ہے؟ کاريں کيوں رکتي ہيں؟ وہ پھر کج بشي پر اتر آيا، کيونکہ اس کے چلانے والے اناڑي ہوتے ہيں، اس نے فورا جواب ديا، وہ ہنس پڑا، خوب خوب، ہم تماہرے اس جواب سے کافي محفوظ اور لطف اندوز ہوئے، حاضر دماغی کي داد ديتے ہيں، ذہين معلوم ہوتي ہو؟ ايں؟
اسے ريزي کے اس مريبانہ لہجے سےآگ سي لگ گئي، اس نے دل ميں سوچا خود اس کي آنکھيں آسمان جيسي نيلي ہوں اور اس کے ہونٹ دہکتے انگاروں کي سي کشش رکھتے ہوں مگر اس کے لہجے اتنے بيباک اور اسکے انداز سرکش ہوتے ہيں کہ مجھے اکثر اپني کوداري سے
پچھلا صحفہ (2) اگلاصفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu