ہاتھ دھونا پڑتا ہے، چناچہ اس نے ريزي کو ڈانٹنے کا تہہ کرليا اور ذرا اونچي
آواز سے مخاطب ہوئي، ريزي ۔۔۔مجھ سے کچھ کہہ رہي ہو؟ اور وہ جل گئي اور بولي
ہاں۔۔۔۔ميں کہتي ہو تم سے زيادہ اناڑي ڈرائيور ميں نے آج تک نہيں ديکھا، تمہيں
اتني دير ہوگي مجھے سمجھنے ميں؟ وہ ہنسا پھر بولا۔
ميں تو اسي وقت اپنے اناڑي پن سے آگاہ ہوگيا تھا، جب سنيما ہال سے نکلتے وقت
آگاہ ہوگيا تھا جب سنيما ہال سے نکلتے وقت انجن کي ايک معمولي سوں سوں کو بند
نہ کرسکا تھا، تمہارے سامنے ہي تو ايڑي چوٹي کا زور لگايا تھا، پھر بھي تمہاري
سمجھ ميں نہ آيا، اس کي سمجھ ميں واقعي نہيں آيا، کہ اب کيسا
کون سا سخت لفظ استعمال کرے جس سے ريزي کا شيشہ دل چکنا چور ہوجائے، پھر اس نے
سوچ سوچ کر يہ منصوبہ بنايا، کہ آج وہ صاف صاف کہہ دے گي، کہ ہم دونوں کا نباہ
بہت مشکل ہے تم بے حد زبان دراز ہو ميں بے حد زور رنج اس لئے ميں نے تم سے محبت
نہ کرنے کا ارادہ کرليا، لہذا وہ بھنا کر بولي، سنو سنتے ہو؟ ميں تم سے
کچھ کہنا چاہتي ہوں، مجھ سے؟ ميں جانتا ہوں ششي ميں خوب جانتا ہوں، وہ ايک
ادائے دليري کے ساتھ اپنا چہرہ اس کے رخسار کے قريب لاکر کہنے لگا، کيا؟ کيا
جانتے ہو تم؟ اس نے ذرا پرے ہٹ کر پوچھا، جو تم مجھ سے کہنا چاہتي ہو، ميں تم
سے کيا کہنا چاہتي ہوں، بخدا تم نہيں جانتے ريزي، بخدا ميں جانتا ششي، تو پھر
کہو، وہ حيران ہو کر اسے ديکھنے
|