ورنہ گلاب چند ہوتا تو باہر آجاتا، يہ ہچکچاہٹ کسي میں وہي بيٹھے
بيٹھے مصنوعي طور پر کھانس پڑا، دوازہ آہستہ سے بند ہوگيا۔
اب ميں سب سمجھ گيا کہ يہ نيچے سيٹيا کون بجا رہا ہے اور کون کھکھارتا ہے گلاب چند
سو رہا ہے اس لئے بسنتو کي دل کي امنگين جاگ پڑي ہيں، سيٹيوں کي آواز پر بين کي
متوالي ناگن کي طرح مست ہورہي ہے۔
ميں سگريٹ سگريت اڑاتا وہي بيٹھا رہا اسي طرح آدھا گھنٹہ گزر گيا، پھر گلاب
کے کمرے کا دروازہ کھلا اور ميں اندر کي طرف دبک گيا اب ميں نے بسنتو کا باہر
جھانکتا ہوا سر بھي ديکھا اور عمدہ شرارت ميں کھانس پڑا ساتھ ہي ميں نے بسنتو کي
ہلکي ہلکي آوازيں سنيں، ناتھ۔۔۔۔ذرا جاگو۔۔۔اٹھو۔۔۔اٹھو۔۔۔
کيا ہے بسنتو ۔۔۔۔يہ گلاب کي آواز تھي۔
ناتھ ۔۔۔۔۔اب يہاں ہمارا گزارہ نہيں ہو گا يہ جگہ شريفوں کي نہيں ہے۔
بسنتو کي ہلکي ہلکي سسکيوں کي آواز ميں نے سني چند لمحوں کے بعد گلاب چند کے کمرے
کا دروازہ کھلا اور گلاب چند گاليان بکتا ہوا باہر نکلا، اس کے ايک ہاتھ ميں لمبي
لکڑي اور ايک ہاتھ ميں لالٹين تھا، ميں دروازہ پر ہي کھڑا تھا اس نے ميري طرف ديکھا
اور کہا، کيوں بے کمينے اپنے آپ کو بڑا پارسا بتاتا ہے اب کہاں گئي تيري پارسائي اس
لکڑي سے تيرا سر نہ پھوڑ دونگا تو گلاب چند نام نہيں۔
ميں يکا يک پريسان ہوگيا، اور اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بولا۔
ديکھو گلاب چند آخر ميں نے تمہارا کيا بگارا ہے جو گاليان بک رہے ہو، تمہارا يہ
طريقہ ٹھيک نہيں۔
گلاب چند چيخنے لگا، کيا بگاڑا ہے بدمعاش ميري عورت ذرا سنڈاس تک جاري تھي تو نے اس
کا ہاتھ پکڑ ليا اور پھر کہتا ہے کيا بگاڑا ہے۔
اسي اثنا ميں ہريش چندر اور دوسرے کرايہ دار بھي جمع ہوگئے پہلي منزل سے صرف گنپت
دوڑتا ہوا آيا ميں نے گلاب چند سے کہا، ميں پرماتما کي قسم کھا کر کہتا ہو گلاب چند
ميں نے تمہاري عورت کو کبھي بري نظرسے نہيں ديکھا تم کيا کہتےہو۔
گلاب چند بھپر گيا۔پرماتما کي قسم کھانا ہوتو کيا بسنتو جھوٹ بول رہي ہے، تيرا سر
پھاڑ دونگا کمينے۔
سوئے ہريش چندر کے سب کرايہ مجھ پر لعنت ملامت کرنے لگے اور گنپت اپني ابلتي
ہوئي لال لال آنکھيں نکالتے ہوئے بولا، سر بھ جاديوں پر بري نجر ڈالتے ہوئے شرم
نہيں آتي ہے، عورت کا ايسا ہي سوک ہے تو ايک اٹھني کيوں نہيں خرچ کرتے، ميں اس
کا جواب دينا چاہتا تھا کہ ہريش چندر مجھے زبردستي اپنے کمرے ميں گھسيٹ کر لے
گيا اور اندر سے کواٹر بند کر لئے باہر گلاب چند چيختا رہا۔
کل سيٹھ ہري داس کو يہ کہہ کر ان کمينوں کو يہاں سے نکلواتا ہوں۔
گنپت نے نہلے پر دہلا مارا جروربابو۔۔۔۔جرور ان بدمعاشوں کو جرور سزا ملني
چاہئے۔
دوسرے دن مجھے کمرہ چھوڑنے کا نوٹس ملا، ميں نے اسباب کمرے سے نکالتے ہوئے
بسنتو کي طرف ديکھا جس کے چہرے کي طرف ايک لمبا گھونگھٹ لہرا رہا تھا۔ |