Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  انتظار حسين
  آخري آدمي
      اور الياب ابن زبلون کو ديکھ کر ڈرا اور يوں بولا کہ ابے زبلون کے بيٹے تجھے کيا ہوا کہ تيرا چہرہ بگڑ گيا اب زبلون نے اس بات کا برا مانا اور غصے دسے دانت کچکچانے لگا تب الياب مزيد ڈرا اور چلا کر بولا اے زبلون تيري ماں تيرے سوگ ميں بيٹھي ضرور تھے کچھ ہوگيا ہے اس پر ابن زبلون کا منہ غصہ سے لال ہوگيا، اور دانت بھينچ کر الياب پر جھپتا تب الياب پر خوف سے لرزہ طاري ہوا اور ابن زبلون کا چہرہ غصے سے اور الياب خوف سے اپنے آپ سکڑتا اور وہ دونوں ايک مجسم غصہ اور ايک خوف کي پوتھ تھے آپس ميں گھتم گئے، انکے چہرے بگڑتے چلے گئے پھر ان کے اعضا بگڑنے پھر ان کي آوازيں بگڑيں کہ الفاط آپس ميں مد غم ہوتے چلے گئے اور پھر وہ بندر بن گئے، الياسف کہ ان سب ميں عقل مند تھا اور سے آخري آدمي بنا رہا، تشويش سےکہا کہ لوگوں مقرر ہميں کچھ ہوگيا، آئو ہم اس شخص سے رجوع کريں جو ہميں سبت کے دن مچھيلياں پکڑنے سے منع کرتا ہے، پھر الياسف لوگوں کے ہمراہ لے کر اس شخص کے گھر گيا اور حلقہ زن ہو کے دير تک پکارا کيا تب وہ وہاں مايوس پھر اور بڑي آواز سے بولا کہ اے لوگوں وہ شخص جو ہميں سبت کے دن مچھيلياں پکڑنے سے منع کرتا تھا آج۔
            ہمیں چھوڑکر چلا گيا ہے اور اگر سوچون تو اس ميں ہمارے لئے خرابي ہے،لوگوں نے سنا اور دہل گئے ايک بڑے خوف  نے انہيں آليا، دہشت سے صورتين ان کي چپڑي ہونے لگيں اور خدوخال مسخ ہوتے چلے گئے اور الياسف نے گھوم کر ديکھا اور سکتہ ہوگيا اس کے پيچھے چلنے والے بندر بن گئے تب بھي اس نے سامنے ديکھا اور بندرون کے سوا کسي کو نہ پايا، جاننا چاہئيے کہ وہ بستي ايک بستي تھي، سمندو کے کنارےاونچے پر جوں اور بڑے دروازوں والي حويلياں کي بستي بازاروں ميں کھوئے سےکھوا چھلتا تھا کٹورا بجتا تھا، پر دم کے دم ميں بازار ويران اور اونچي ڈيوڑھياں سوني ہوگئيں، اور اونچے برجوں ميں عالي شان چھتون پر بندر ہي نظر آنے لگے۔
اور الياسف نے ہر اس سے نظر دوڑائي اور سوچا ميں اکيلا آدمي ہوں اور اس خيال سے وہ ايسا  ڈرا کہ اس کا خوف جمنے لگا ليکن اسے الياب ياد آيا کہ خوف سے کس طرح اسکا چہرہ بگڑتا چلا گيا تھا، اور عزم باندھ کر معبود کي سوگند آدمي کي جون ميں پيدا ہوا اور آدمي کي جون ميں ہي مروں گا اور الياسف نے اپنے ہم جنسو سے نفرت کي اس نے ان کي لال بھبھو کا صورتوں اور بالوں سے ڈھکے ہوئے جسموں کو ديکھا اور نفرت سے چہرہ اسکا بگڑنے لگا  مگر اسے اچانک زبان کا خيال آيا کہ نفرت کي شدت سے صورت اس کي مسخ ہوگئي تھي، اس نے کہا کہ الياسف نفرت مت کرو کہ نفرت سے آدمي کي کايا بدل جاتي ہے، اور الياسف نے نفرت سے کنارہ کيا، اور کہا بے شک ميں ان ہي ميں سے تھا اور وہ دو دن ياد کئے، جب ون ان ميں سے تھا اور دل اس کا محبت کے جوش سے امنڈنے لگا اسے بنت الاخضر کي ياد آئي کے فرعون کے رتھ کي دودھيا گھوڑيوں ميں سے ايک گھوڑي کي مانند تھي، اور اسکے برے گھر کے در سروکے کڑياں سنوبر کي تھيں اس ياد کے ساتھ الياسف کو بيتے دن ياد آئے کہ وہ سرو کے دروں اور صنوبر کي کڑيوں والے مکان ميں عقب سے گيا تھا اور چھپر کھٹ کيلئے اسے ٹٹولا جس کيلئے اس کا جي چاہتا تھا اور اس نے ديکھا۔
پچھلا صحفہ (2) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu