مہندي آخر آدمي تھا، جو رات آشيانہ ميں لوٹا، رندھير اس رات
کو گھر نہيں آيا تھا، وہ اکثر رات کو گھر نہيں آتا تھا، مہندر نے اندھيرے ميں ٹٹول
کر بجلي کا بٹن دبايا ليکن روشني نہيں ہوئي شايد آج پھر فيوز اڑگيا تھا، آشيانہ ميں
اندھيرا تھا مہندر نے کسي کو آواز دي اسے معلوم تھا کہ باقي سب چھت پر سوئے ہوں گے،
درميان کے دروازے سے گزر کر وہ اندر کمرے ميں چلاگيا، جہاں گلي کے ليمپ پوسٹ کي
روشني آتي تھي، آشيانہ بلڈنگ کا يہ فليٹ ايک کمرے اور کچن پر مشتمل تھا اور اس ميں
پانچ نوجوان رہتے تھے مہندر جس وقت بھي مکان کے اندر آتا تھا يہاں کي بے ترتيبي اور
سامان کي بھيڑ کو ديکھ کر اسے جگہ کي قلت کي ايک گھٹا ہوا احساس ہوتا تھا چھ مہينے
يہاں رہنے کے باوجود يہ احساس زائل نہ ہوا تھا وہ اس کا عادي نہ ہوا تھا۔
گلي سي آتي ہوئي ليمپ پوسٹ کي روشني ميں وہ کپڑے بدلنے لگا کمرے ميں ايک ہلکي سي
روشني تھي جس سے سامان کي زيادتي کا احساس ہوتا تھا کواڑوں پر کھوٹيوں پر زمين پر
پڑے ہوئے ميلے کپڑے بے ترتيبي سے بکھرا ہوا سامان جوتے، کتابيں، ٹرنگ، سب اس طرح
پھيلے ہوئے تھےجيسے کسي کو ان کي پروہ نہ تھي ايک عجيب سي بے پروائي اس فليٹ
کے رہنے والوں پر چھائي ہوئي تھي، جسے مہندراب آہستہ آہستہ سمجھنے لگا تھا، اس فليٹ
کے رہنے والے پانچوں نوجوان اپني زندگي کي بہتري کيلئے ايک بھيانک کشمکش ميں مبتلا
تھے اپنے گھروں کو چھوڑ کر بمبئي آئے تھے، اس چھوٹے سے مکان ميں رہتے تھے جو صرف
ايک جوڑے کيلئے بنايا گيا تھا، پے در پے ناکاميوں نے انہيں بے پرواہ بناديا تھا
انہيں ذمہ داري سے نفرت ہوگئي تھي سليقے سے نفرت ہوگئي تھي انہيں اب نہ صفائي
کي چاہ رہي تھي نہ ترتيب کي، مہندران لوگوں ميں ابھي نيا تھا اور اس ماحول
ميں ايک گھٹن سي محسوس کرتا تھا وہ اديب تھا اور فلم ميں نوکري کرنے آيا تھا، ليکن
پچھلے چھ مہينے کي کوشش کرنے کے باوجود کسي پروڈيوسر نے اسے موقع نہ ديا تھا، آج وہ
خوش تھا آج ايک دوست نے اسے وعدہ کيا تھا کہ وہ اسکے لئيے کچھ کرے گا، اور آج اسے
ايک لڑکي ملي تھي، کپڑے بدل کر اس نے سوچا کہ اب جاکر اوپر چھت پر سو رہے ہيں، ليکن
اس وقت وہ اکيلا رہنا چاہتا تھا، اکيلا رہ کر سوچنا چاہتا تھا، مستقبل کے بے پاياں
اندھيرے ميں جو ايک چراغ کي لو اٹھي تھي اس سے محفوظ ہونا چاہتا تھا، بستر کو جھاڑ
کر اس نے کھڑکي کے سامنے کھينچا اور ليٹ گيا، باہر ناريل کے اونچے اونچے درخت ہوا
ميں بل رہے تھے، اور ان کے عقب ميں آسمان پر ايک ہلکي سي سفيدي پھيلي ہوئي
تھي، ناريل کے درختوں کو ديکھ کر اسے خوبصورتي کا احساس ہوا آج اسے
کئي ملي تھي۔
شام وہ اداس تھا آشيانے کے دوست باہر گئے ہوئے تھے، وہ اکيلا تھا، تنہائي ميں
اکثر اس کے دل ميں اداسي کا بے ذائقہ تيزاب پھيل جاتا تھا، زندگي کي ناکامراني
ايک مغموم دھند بن کر چھا چکتي تھي، اس وقت وہ اکثر سمندر کے کنارے ٹہلنے چلا
جاتا تھا، ليکن جب اداس ہو نہ ہو تو سمندر کي بے چين لہريں خوبصورت ہوتي ہيں،
نہ شفق کے زريں حسن ميں، وہ جاں بخش تازگي اور سمندري افق پر چھايا ہوا دھند
لگا، اسے ايک بے پناہ ويست ميں لپيٹ ديتا، اسے محسوس ہوتا کہ تمام کائنات ماتم
ميں ہے، يہ انسان کي دنيا دکھي ہے، اور رگ وپے ميں کرب و اضطراب کي ايک دير پا
لہر دوڑ جاتي ، زندگي سے مايوس ہو جاتي۔
شام وہ بہت اداس تھا، يہ کيوں ہوتا ہے کہ انسان ناکاميوں سے ٹکرا کر جان دے
ديتا ہے، يہ کيوں ہوتا ہے کہ انہيں زندگي ميں کبھي خوشي نہيں ملتي اور مسرت کي
ايک نوکرز کرن ديکھنے سے پہلے موت کے بيکراں اندھيرے ميں ڈوب جاتے ہيں؟ يہ
زندگي موت سے بد تر ہے نہ روپيہ پاس نہ عورت ہے نہ محبت ہے، نہ خوشي ہے، سمندر
کا يہ حسن بيکار ہے، لہروں کا مسلسل شور بے معني ہے، شفق کي سرخي بيسود ہے اس
تہذيب کي دنيا ميں روپيہ چاہئيے، روپے کے بغير خوبصورتي متاثر نہيں ہوتي، حسن
اثر نہيں کرتا، يہ چيزيں تمہارے لئے نہيں ہيں، نادار ہو کر تم دنيا کے دکھ کي
طرف سے آنکھيں بند نہيں کرسکتے، تما انسانيت کا دکھ تمہارے سينے ميں سمٹ آتا
ہے، آج وہ بہت اداس تھا اور سوچتا رہا اور اندھيرے کے زرات فضا ميں بھرتے گئے
ناريل کے درختوں پر تاريکي چھاتي گئي، اور کمرہ ايک اداس بے مصروف سنسان
اندھيرے ميں معمور ہوتا گيا۔
اچانک اس نے ايک آواز سني، کھنہ اسے نيچے گلي ميں بلا رہا تھا، مہندر نے جھانک
کر بالکني سے ديکھا، کھنہ کے ساتھ کار ميں دو خوبصورت لڑکيا بيٹھي تھيں، لڑکيوں
نے شوخ رنگ کے فراک پہنے ہوئے تھے کھنہ اوپر گيا تھا، اس نے مہندر کو ساتھ چلنے
کي دعوت دي۔ |