Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  خواجہ احمد عباس
  آشيانہ
روپوں کو پريتي پر صرف کرکے وہ ہميشہ خود کو مجرم سمجھتا رہے گا، يہ نہيں ہوگا اور اس کے پاس روپيہ نہيں ہے، وہ پريتي سے نہيں ملے گا، اور اس کے دل ميں پھر وہي غير محدود گہرا اندھيرا چھا جائے گا، بالکن ميں کھڑا ہوا اور وہ سوچتا رہا، باہر اندھيرا ہوا گيا تھا، اور بونديں پڑ رہي تھيں، ليمپ پوسٹ کي دھيمي روشني ميں گل بے رونق پڑي تھي اور بارش کي بونديں متواتر گليلي زمين پر پڑ رہي تھيں، کيچڑ کي چھينٹيں اڑاتي ہوئي مالک مکان کي کار گلي ميں داخل ہوئي اور آشيانے کے آگے رک گئي، آج ہفتے کي رات تھي، مالک مکان کار سے اترا پر اس نے عورت کو ہاتھ پکڑ کر نيچے اتارا يہ پريتي تھي۔۔۔۔ايک لمحے کيلئے مہندر کو يقين نہيں آيا، يہ عورت جو مالک مکان کا ہاتھ پکڑ کر کار سے اتري تھي؟ پھر اسےيقين آگيا، پريتي مالک مکان کے ساتھ اندر چلي گئي، مہندر بالکني ميں کھڑا رہا، کار سڑک پر کھڑي رہي، ايک پہيم تسلسل سے بارش کي بونديں نيلي کار پر پڑ رہي تھيں، جسيے آنسو برس رہے ہوں۔
پچھلا صحفہ (11) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu