وہ يونہي سير کو جا رہے تھے، يہ لڑکياں جو ہور پر ملي تھيں ايک بار
مسکرائيں دوسري بار کہنے پر کار ميں آ بيٹھيں ، کھنہ اکيلا تھا لڑکياں دو تھيں، دو
مہندر کا ساتھ چاہتا تھا، مہند ان کے ساتھ چلا گيا اور آج شام کتني خوبصورتي سے
گزري وہ اداسي نہ جانے کہاں غائب ہو گئي، ايک عورت کے قرب نے دل کي پرمردہ کيفيت کو
دور کرديا تھا، ريشمي کپڑوں کے نيچے اس اس کے جسم کا لمس تھا، اس کے جسم کي حرارت
تھي، ملائيمت تھي کچھ تھا، جس نے اس کي رگوں ميں زندگي مضطراب لہر دوڑا دي تھي،
پچھلي سيٹ پر اس کے ساتھ تہنا تھا اور کار باندرہ کے پل پر اڑ رہي تھي سمندر کا
نيلا پاني، آسمان کي طرح نيلا تھا، دور ايک کشتي اپنے سفيد بادبان پھيلائے جا رہي
تھي ہوا اس پريتي کے بار آر رہے تھے، ساحل پر ناريل کے درخت کھڑے دور سے نظر
آرہے تھے جيسے ابھي اپنے بچپن ميں ہوں، اور کار باندرہ کے پل پر بھاگي جا رہي تھي،
پريتي نے آہستہ سے جھک اس کے کان ميں کہا، آئي لو يو، مجھے تم سے عشق ہے ، مہندر نے
اپنا بازو اسکي کمر کے گرد ڈال ديا، اور پريتي اسکے قريب سمٹ آئي مجھے تم سے عشق
ہے، تمہارے اس جسم نے عشق ہے جس کي حرارت ميري روح ميں جذب ہو رہي ہے، تمہارے اس
فقرے سے جسے کہہ کر تم نے ميرے سينے ميں سوئي ہوئي اس شدت کو جگاديا اور پريتي کے
کمر کے گرد اس کا بازو کا حلقہ تنگ ہوگيا، وہ پريتي پر جھکا اس کے سرخ ہونتوں کو
چوم لينے کيلئے پريتي مسکرائي اور اس نے اپنا چہرہ ہٹاليا، کار ساحل پر رک گئي، وہ
کار سے اتر کر ساحل پر ٹہلنے چلے گئے، آج ساحل پر بھيڑ نہ تھي، سمندر کے وسيع کنارے
پر صرف چند آدمي نظر آرہے تھے، وہ ساحل پر ٹہلتے رہے، سورج غروب ہو چکا تھا، سمندري
افق پر ايک ہلکي سي سرخي کا سايہ باقي تھا اور سمندر کي بسيط پر نھني نھني کشتياں
اپنے بادباں پھيلائے بہہ رہي تھي، پريتي باتيں کر رہي تھي، وہ باتيں کرتے رہے
بے معني باتيں مہندر کو برا لگا جب پريتي نے کہا يہاں سمندر کے کنارے سير کرنے ميں
لطف نہيں۔
وہ کار ميں بيٹھ کر سير کرنا چاہتي تھي، وہ واپس کار ميں آ بيٹھے، گھر سے چلتے ہوئے
کھنہ نے پيڑول ڈلوايا تھا، رات ميں وہ کار ميں بيٹھے سمندر کے کانرے کنارے بمبي کي
سڑکوں پر گھومتے رہے، مہندر خواہش کي آگ ميں تپتا رہا اور پريتي نے اسے ہونٹوں کو
چومنے کا موقع نہيں ديا، انہوں نے کيفے ميں جاکر کھانا کھايا، پريتي اب جانا
چاہتي تھي اس نے کہا ہميں چھوڑ دو جہاں سے ليا تھا، کھنہ نے انہيں جو ہو پر اتار
ديا، پريتي نے اگلے دن ملنےکا وعدہ کيا اور کار سے اتر پھر مہندر کے کام ميں کہا،
آئي لويو اوعر مسکراتي ہوئي چلي گئي۔
گھر آتے ہوئےکھنہ اور مہندر بحث کرتے رہے، يہ لڑکياں کون تھيں کس طبقے سے تعلق
رکھتي تھيں، بہت پڑھي لکھي نہ تھيں، انگريزي کے انہيں چند فقرے ياد تھے،
ہندستاني ٹھيک سے بولتي نہ تھيں، ان کي زبان گجراتي تھي، اپني زبان سے آگے
انہيں کچھ بھي تو نہيں مانگا، پھر کچھ بھي ہو وہ خوبصورت تھيں، ايک شام ان کے
ساتھ رہي تھيں، اور شام کا نشہ اب تک ان کے ذہن پر طاري تھا، اگر وہ طوافيں ہي
ہوئيں، مہندر نے بستر پر ليٹتے ہوئے سوچا کہ تو کم از کم اس کے متعلق تو انہوں
نے ضرور دھوکا کھايا، وہ کھنہ کي کار پر ريجھ گئيں، ليکن اگر وہ اوپر جاتيں
يہاں آکر اس مکان کو ديکھ ليتيں تو پريتي کے ہونٹوں سے آئي لو يو نہ انہوں نے
ضرور دھوکا کھايا، وہ کھنہ کي کار پر ريجھ گئيں ليکن اگر وہ اوپر جاتيں يہاں
آکر اس مکان کو ديکھ ليتيں تو پريتي کے ہونٹو سے آئي لو يو نہيں نکلتا، اگر وہ
طوائفيں نہ ہوتين تب بھي اس مکان کو ديکھ کر بات کرنا گوارہ نہ کرتيں، مہندر نے
دوہرايا، ايک انسان جو نظروں ميں اٹھا ديتي ہے، ايک کار نہ ہو تو انسان انسان
نہيں رہتا، ايک کلرک ايک مزدور ايک سپاہي رہ جاتا ہے، پريتي نے سوچا ہوگا کار
کے مالک کھنہ کا دوسر مفلس نہ ہوگا، اسے کيا معلوم کہ آشيانے کا ہر فرد اپنا
سرمايہ ختم کر چکا ہے، اچھا ہوا وہ آشيانے ميں نہيں آئي، ورنہ اس کا ہاتھ پريتي
کے کمرے کے گرد نہ جاسکتا۔
چھ مہينے پہلے مہندر بمبئي ميں وارد ہوا تھا تو اسے خواب ميں بھي يہ خيال نہ
تھا کہ رنديرے کي آشيانہ بلڈنگ مقابل ماہم پوسٹ آفس ميں يہ حالت ہوگي، يہاں آکر
ديکھا کہ آشيانہ بلڈنگ ميں اس کے پاس ايک کمرہ اور ايک کچن پر مشتمل ايک فليٹ
ہے جس ميں پہلے ہي پانچ آدمي رہتے ہيں، وہ چھٹا آدمي تھا جو آشيانے ميں
رہنے کيلئے آيا۔
آشيانہ ماہم ميں واقع ہے، ماہم شہر ميں بد نام علاقہ ہے، لوگ کہتے ہيں ماہم کے
ہر مکان ميں ايک طوائف ضرور رہتي ہے، ان مکانوں ميں زيادہ تر عيسائيوں کي آبادي
ہے، شروع شروع ميں مکانوں کي بالکوني سے لٹکتي ہوئي ہر عورت کي سانولي کالي يا
بد صورت شکل ديکھ کر مہندر کو اس پر طوائف ہونے کا شبہ ہوتا، بمبئي آکر اسے
محسوس ہوا تھا جيسے وہ طوائفوں کے شہر ميں آگيا ہے اپنے اس احساس اسے
جواز نہ ملتا تھا، وہ خوش تھا، کہ بمبئي نسبتا آزاد خيال شہر ہے، يہاں
عورتون کو گھرون کي چار ديواري ميں گھوٹ گھوٹ کر نہيں رکھا جاتا، يہاں عورتیں
بھي سمندر کے کنارے سير کرنے جاتي ہيں، يہاں عورتیں بسوں ميں ٹراموں ميں، ريلوں
ميں سفر کتي ہيں، ليکن اکثر کسي عورت کو ديکھ کر احساس ہوتا ہے کہ يہ طوائف ہے،
طوائف کي اس کثير تعداد کو ديکھ کراسے خيال آتا ہے کہ انسان جتنا زيادہ مہذب
ہوتا جاتا ہے، طوائفيں بڑھتي جاتي ہيں، اور يونہي بڑھتي جائيں گي اگر عورت کو
مرد اور مرد کو سرمايہ دار کے چنگل سے آزاد نہ کيا گيا۔
آشيانہ بلڈنگ کے ايک عرصے تک مہندر کيلئے ايک طلسم رہي تھي، کچھ ملوم ہي نہيں
ہوتا تھا کہ اس عمارت ميں رہنے والے کيسے رہتے۔ |