خضائل ان کي نسلي خصوصيات اور اجتماعي کريکٹر کا بجوبي علم ہو گيا
تھا، بقول غلام رسول کے سکھ تمام بے وقوف اور بدھو ہوتے ہيں، بارہ بجے تو ان
کي عقل بالکل بند ہوجاتي ہے، اس کے شبوت ميں کتنے ہي واقعات بيان کئے جاسکتے ہيں،
مثلا، سردار جي دن کے بارہ بجے سائيکل پر سوار مرمت سر کے بال بازار سے گزرتے تھے
چوراہے پر ايک سکھ کانسٹيبل نے روکا پوچھا تمہارے سائيکل کا لائٹ کہاں ہے، سائيکل
سوار سردار جي گڑ گڑا کر بولے جمعدار صاحب ابھي بجھ گئي ہے گھر جلا کر تو چلا تھا،
اس پر سپاہي نے چالان کرنے کي دھمکي دي، ايک راہ چلتے سفيد داڑھي والے سردار جي نے
بيچ بچائو کرايا، چلو بھئي کوئي بات نہيں لائٹ بجھ گئي تو اب جلا لو، اور اسي قسم
کے سيکڑوں قصے غلام رسول کو ياد تھے اور نہيں جب وہ پنجابي مکالموں کے ساتھ سناتا
تھ اتو سننےوالوں کے پيٹ ميں بل پڑ جاتے تھے، اصل ميں انکو سننے کا مزہ ہي پنجابي
ميں تھا سکھ نہ صرف بيوہ قوف اور بدھو بلکہ گندے تھے، جيسا ايک ثبوت تو غلام رسول
نے يہ کہا کہ وہ بال نہيں منڈواتے تھے اس کے علاوہ بر خلاف ہم صاف ستھرے غازي
مسلمانوں کے جوہر اٹھواڑے جمعے کے جمعے غسل کرتے ہيں يہ سکھ کچھا باندھ سب کے سامنے
نل کے نيچے بيٹھ کر نہاتے تو روز ہيں مگر اپنے بالوں اور داڑھي ميں نے جانے کيا کيا
گندي اور غلط چيزيں ملتے ہيں، مثلا وہي ويسے سر ميں بھي لائم جيوس گليسرين لگاتا
ہوں جو کسي قدر گاڑھے گاڑھے دودھ سے مشابہ ہوتي ہے مگر اس کي بات اور ہے، وہ ولايت
کي مشہور پرفريم فيکڑي سے نہايت خوبصورت شيشي ميں آتي ہے اور دہي گندے سندے حلوائي
کي دکان سے۔
خير جي ہميں دوسروں کے رہنے سہنے کے طريقوں سے کيا لينا مگر سکھون کا سب سے بڑا
قصور تھا يہ لوگ اکھڑ پن بد تميزي اور ماردھاڑ ميں مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کي جرات
کرتے تھے، اب تو دنيا جانتي تھي کہ ايک اکيلا مسلمان دس ہندئوں يا سکھوں پر بھاري
ہوتا ہے، مگر پھر يہ سکھ مسلمانوں کے رعب کو نہيں مانتے تھے، کر پانين لڑکائے
اکڑائے اکاکر مونچھوں پر بلکہ داڑھي پر بھي تائو ديتے چکتے تھے، غلام رسول کہتا، ان
کي ہيکڑي ايک دن ہم ايسي نکاليں گےکہ خالصہ ياد ہي تو کريں گے۔
کالج چھوڑے کئي سال گزر گئے طالبعلم سے ميں کلرک اور کلرک سے ہيڈ کلرک بن گيا، علي
گڑھ ہوسٹل چھوڑ کرنئي دہلي ميں ايک سرکاري کواٹر ميں رہنا سہنا اختيار کرليا، شادي
ہوگئي، بچے ہوگئے، مگر کتني ہي مدت کے بعد غلام رسول کا وہ کہنا ياد آيا، جب
ايک سردار صاحب ميرے برابر کے کواٹر رہنے آئے، يہ رولپنڈي کے ضلع ميں غلام رسول کي
پيشنگوئي کے بمو صاحب سرداروں کي ہيکڑي اچھي طرح سے نکالي سے نکالي گئي
تھي، مجاہدوں نے ان کا صفايا کرديا تھا، بے سور مابنتے تھے، کرپانيں لئے پھرتے
تھے، بہادر مسلمانوں کے سامنے ان کي ايک نہ بني ان کي داڑھياں کر مونڈ کر ان
مسلمان بنايا گيا تھا، زبردستي ان کا ختنہ کيا تھا، ہندو پريس حسب عادت
مسلمانوں کو بدنام کرنے کيلئے لکھ رہا تھا کہ سکھ عورتوں اور بچوں کو بھي
مسلمانوں نے قتل کيا ہے، حالانکہ يہ اسلامي روايات کے خلات ہے، کوئي مسلمان
مجاہد کبھي کسي عورت يا بچے پر ہاتھ نہيں اٹھاتا رہيں اور بچوں کي لاشوں کي
تصويريں جو چھاپي جا رہي تھيں، وہ يا تو جعلي تھيں، اور يا سکھوں نے مسلمانوں
کو بدنام کرنے کيلئے خود اپني عورتوں اور بچوں کو قتل کيا ہوگا، رولپنڈي اور
مغربي پنجاب کے مسلمانوں پر يہ بھي الزام لگايا گيا تھا کہ انہوں نے ہندو اور
سکھ لڑکيوں کو بھگايا، حالانکہ واقعہ صرف اتنا تھا کہ مسلمانوں کي جوانمردي کي
دھاک بيٹھي ہے اور اگر نوجوان مسلمان پر ہندو اور سکھ لڑکياں کو ہي لٹو ہوجائيں
تو انکا قصور ہے، کہ وہ تبليغ اسلام کے سلسلے ميں ان لڑکيوں کو اپني پناہ ميں
لے ليں ہاں تو سکھوں کي نام نہاد بہادري کا بھانڈہ پھوٹ گيا تھا، بھلا اب تو
ماسٹر تارا سنگھ لاہور ميں کرپان نکال کر مسلمانوں کو دھمکياں دے پنڈي سے بھاگے
ہوئے سردار ان کي خستہ حالي کو ديکھ کر ميرا سينہ عظمت اسلام کي روح سے بھر
گيا، ہمارے پڑوسي سردار جي کي عمر کوئي ساٹھ برس کي ہوگي، داڑھي بالکل سفيد
ہوچکي تھي، حالانکہ موت کے منہ سےبچ کر آئے تھے مگر يہ حضرت ہر وقت دانت نکالے
ہنستے رہتے تھے، جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا، کہ وہ دراصک کتنا بيوقوف اور بے
حس ہے شروع شروع ميں انہوں نے مجھے اپني دوستي کے جال ميں پھنسانا چاہا، آتے
جاتے زبردستي باتيں کرتے، شروع کرديں نہ جانے سکھوں کا کونسا تہوار تھا اس پر
شاد کي مٹھائي بھي بھيجي جو ميري بيوي نے فورا مہتراني کو ديدي، پر ميں نے
زيادہ منہ نہ لگايا، کوئي بات ہوئي سوکھا سا جواب ديديا اور بس جانتا تھا کہ
سيدھے منہ دو چار باتيں کرليں تو يہ پيچھے ہي پڑجائيگا، آج باتيں تو کل گالم
گلفتار، گالياں تو آپ جانتے ہي ہيں سکھوں کي دال روٹي ہوتي ہے، کون اپني زبان
گندي کرے ايسے لوگوں سے تعلقات بڑھا کر، وہاں ايک اتوار کي دوپہر کو ميں اپني
بيوي کو سکھوں کي حماقت کے قصے سنا رہا تھا اور اس کا عملي ثبوت دينے کيلئے
دينے بارہ بجے ميں نے اپنے نوکروں کو سردار جي کے ہاں بھيجا کہ پوچھ آئے کيا
بجا ہے، انہوں کہواديا بارہ بجکر دو منٹ ہوئے ہيں، ميں نے کہا بارہ بجے کا نام
ليتے گھبراتے ہيں، يہ اور اہم خوب ہسنے، اس کے بعد ميں نے کئي بار بيوقوف
بنانے کيلئے سردار جي سے پوچھا، کيوں سردار جي بارہ بج گئے، گويا بڑا مذاق ہوا،
مجھے زيادہ ڈر بچوں کي طرف سے تھا، اول تو کيس سکھ کا اعتبار نہيں، کب بچے کے
گلے پر کر پان چلا دے، پھر يہ لوگ روالپنڈي سے آئے تھے، ضرور دل ميں |