مسلمانوں کيلئے کينہ رکھتے ہوں گے، اور انتقام لينے کي تاک ميں ہوں گے، ميں
نےبيوي کو تاکيد کردي تھي، کہ بچے ہر گز سر دار جي کے کوارٹر کي طرف نہ جانے
دئيے جائيں، پر بچے تو بچے ہي ہوتے ہے، چند روز کے بعد ميں نے ديکھا کہ سردار
کي چھوٹي لڑکي موہني اور انکے پاتوں کيساتھ کھيل رہے ہيں، يہ بچي جس کي عمر
مشکل سے دس برس ہوگي سچ مچ موہني ہي تھي، گور چٹي، اچھا ناک نقشہ، بڑي خوبصورت
کم بختوں کي عورتين کافي خوبصورت ہوتي ہيں، مجھے ياد آيا، کہ غلام رسول نےکہا
تھا، کہ اگر پنجاب سے سکھ مرد چلے جائيں اور اپني عورتوں کو چھوڑ جائيں تو پھر
حوروں کي تلاش ميں جانے کي ضرورت نہيں، ہاں تو جب ميں نے بچوں کو سردار جي کے
بچوں کے ساتھ کھيلتے تو ميں ان کو گھسٹيتا ہوا اندر لے گيا، اور خوب پٹائي کي،
پھر ميرے سامنے کم از کم ان کي ہمت نہ ہوئي کہ ادھر کا رخ کريں۔
بہت جلد سکھوں کي اصليت پوري ظاہر ہوگئي، روالپنڈي سے تو ڈرپوکو کي طرح پٹ کر
بھاگ آئے تھے، پر مشرقي پنجاب ميں مسلمانوں کو اقليت ميں پاکر ان پر ظلم ڈھانا
شروع کرديا، ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کو جام شہادت پينا پڑا، اسلامي خون کي
ندياں بہہ گئيں، ہزاروں عورتوں کو برہنہ کرکے جلوس نکالاگيا، جب سے مغربي پنجاب
سے بھاگے ہوئے سکھ اتني بڑي تعداد ميں دہلي ميں آنے شروع ہوئے تھے، اس کا وبا
کا يہاں تک پہنچا يقيني ہوگيا تھا، ميرے پاکستان جانے ميں ابھي چند ہفتے کي دير
تھي اس لئے ميں نے اپنے بڑے بھائي کيساتھ اپنے بيوي بچوں کو تو ہوائي جہاز سے
کراچي بھيج ديا، ورکو خدا پر بھروسہ کرکے ٹہرارہا، ہوائي جہاز ميں سامان تو
زيادہ نہيں جاسکتا تھا، اسلئے ميں نے ايک پوري ويگن بک کرالي، مگر جس دن سامان
چڑھانے والے تھا، اس دن سنا کہ پاکستان جانے والي گاڑيوں حملے ہورہے ہيں،
اسلئيے سامان گھر ميں ہي پڑا رہا۔
پندہ اگست کو آزادي کا جشن منايا گيا، مگر مجھے آزادي ميں کيا دلچسپي تھي، مي
نے چھٹي منائي اور دن بھر ليٹا ڈان اور پاکستان ٹائمز کا مطالعہ کرتا رہا دونوں
ميں نام نہاد آزادي کے چھيٹے اڑائے گئے تھے اور ثابت کيا گيا تھا کہ کس طرح
ہندئوں اور انگريزوں نے مل کر مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کي سازش کي تھي، وہ تو
ہمارے قائد اعظم کا اعجاز تھا، کہ پاکستان ليکر ہي رہے، اگر چہ انگريزوں نے
ہندئوں اور سکھوں کے دبائوں ميں آکر امرتسر کو ہندوستان کے حوالے کرديا،
حالانکہ دنيا جانتي ہے، کہ امرتسر خالص اسلامي شہر ہے اور يہاں کي سنہري مسجد
کے نام سے مشہور ہے، نہيں وہتو گوردوارہ ہے، کہلاتا ہے، سنہري مسجد تو دہلي ميں
ہے، سنہري مسجد ہي نہيں جامع مسجد بھي لال قلعہ ہے، نظام الدين اوليا کا مزار
ہمايوں کا مقبرہ صفدر جنگ کا مدرسہ گرض چپے چپے پر اسلامي
حکومت کے نشان پائے جاتے ہيں، پھر بھي آج اسي دہلي بلکہ کہنا چاہئيے
شاہجہان آباد پر ہندو سامراج کا جھنڈ بلند کيا جارہا تھا، رولے اب دل کھول کر
اے ديدہ خونبار اور يہ سوچ کر ميرا دل بھر آيا کہ دہلي جو مسلمانوں کا پايہ تخت
تھا، تہذيب و تمدن کا گہوارہ تھا ہم سے چھين ليا تھا اور ہميں مغربي پنجاب اور
سندھ بلوچستان وغيرہ جيسے اجڈ اور غير متمدن علاقوں ميں زبردسي بھيجا جا رہا
تھا، جہاں کسي کو شتہ اردو زبان بھي بولنا نہيں آتي، جہاں شلوارين جيسا مضحکہ
خيز لباس پہنا جاتا ہے، جہاں ہلکي پہلکي پائو بھر ميں بيس بيس چپاتيوں کے بجائے
دو دوسير کي نانيں کھائي جاتي ہيں پھر ميں نے اپنے دل کو مضبوط کرکے سمجھايا کہ
قائد اعظم اور پاکستان جانے ميں دير کي تھي ابھي گول۔ |