Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  خواجہ احمد عباس
  سردار جي
مارکيٹ کے پاس پہنچا ہي تھا دفتر کا ايک ہندو بابو ملا نے کہا يہ کيا کرہے ہو واپس جائو،  باہر نہ نکلنا، کناٹ پيس ميں بلوائي مسلمانوں کو مار رہے ہيں، ميں واپس بھاگ آيا۔
انے اسکوائر ميں پہنچا ہي تھا کہ سردار جي سے مد بھيڑ ہوگئي، کہنے لگے شیخ جي فکر نہ کرنا جب تک ہم سلامت ہيں تمہيں کوئي ہاتھ نہيں لگائے گا، ميں نےسوچا اس کي داڑھي کے يچھے کتان مکر چھپا ہوا ہے دل ميں خوشي ہے چلو اچھا ہوا مسلمانوں کا صفايا ہو رہا ہے، مگر زباني ہمدري جتا کر مجھ پر احسان کر رہا ہے، بلکہ شايد مجھے چڑانے کيلئے يہ کہہ رہا ہے کيونکہ سارے اسکوائر ميں بلکہ اس سڑ ک پر ميں تن تہنا مسلمان تھا، مجھے ان کافروں کا رحم و کرم نہيں چاہيے، ميں سوچ کر اپنے کوارٹر ميں آگيا، ميں مارا بھي جائو گا تو دس بيس کو مار کر سيدھا اپنے کمرے ميں گيا جہاں پلنگ کے نيچے ميري دو نالي بندوق رکھي تھي، جب سے فساد شروع ہوئے تھے، ميں نے کارتوس اور گوليوں کا بھي کافي ذجيرہ جمع کر رکھا تھا، پر وہاں بندوق نہ ملي سارا گھر چھان مارا اس کا کہيں پتہ نہيں چلا۔
کيوں حضور کيا ڈھونڈ رہے ہيں آپ؟ يہ ميرا وفا دار ملازم تھا، ميري بندوق کا کيا ہوا ؟ ميں نے پوچھا۔
اس نے کوئي جواب نہيں ديا، مگر اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ اسے معلوم ہے ، شايد اس نے کہيں چھائي ہے يا چرائي ہے،  بولتا کيوں نہيں ميں نے ڈانٹ کر پوچھا، تب حقيقت معلوم ہوئي کہ ممدو نے ميري بندوق چرا کر اپنے چند دوستوں کو دے دي تھي، جو دريا گنج ميں مسلمانوں کي حفاظت کيلئے ہتھياروں کا ذخيرہ جمع کر رہے تھے، کئي سو بندوقيں ہيں سرکار ہمارے پاس سات مشين گن، دس ريوالور اور ايک توپ کافروں کو بھون کر رکھ ديں، بھون کر۔
ميں نےکہا دريا گنج ميں ميري بندوق سے کافروں کو بھون ديا گيا تو اس ميں ميري حفاظت کيسے ہوگي، ميں تو يہاں نہتا کافروں کے نرغے ميں پھنسا ہوا ہوں، يہاں مجھے بھون ديا گيا تو کون ذمے دار ہوگا؟ ميں نے ممدو سے کہا۔
پھر يہ طےہوا کہ وہ دريا گنج جائے اور ميري بندوق اور سودا کار توس لے آئے وہ چلا گيا مگر مجھے يقين تھا کہ وہ اب لوٹ کر نہيں آئے گا، اب ميں گھر ميں بالکل اکيلا تھا، سامنے کارنس پر ميري بيوي اور بچوں کي تصوير خاموشي سے مجھے گھور رہي تھي، يہ سوچ کر ميري آنکھوں ميں آنسو آگئے، کہ اب ان سے کبھي ملاقات ہوگي بھي يا نہيں، ليکن پھر يہ خيال کرکے اطمينان بھي ہوا کہ کم سے کم وہ خريت سے پاکستان پہنچ گئے تھے، کاش ميں نے پرويڈيٹ فنڈ کا لالچ نہ کيا ہوا، اور پہلے ہي چلا گيا ہوتا، پر اب پچھتانے سے کيا ہوتا ہے۔
سست سري اکال۔۔۔ہر ہر مہاديو دور سے آوازيں آرہي تھي، اور ميري موت قريب آرہي تھي، اتنے ميں دروازے پر دستک ہوئي، سردار جي داخل ہوئے شيخ جي تم ہمارے کوارٹر ميں آجائو جلدي کرو بغير سوچے سمجھے اگلے لمحے ميں سردار جي کے برآمدے کي چکوں کے پيچھے تھا، موت کي گولي سن سے ميرے سر پر سے گزرگئي، کيونکہ ميں ہوہاں داخل ہي ہوا تھا کہ ايک لاري آکر رکي اور اس ميں سے دس پندرہ نوجوان اترے، ان کے ليڈر کےہاتھ مین ايک ٹائپ کي ہوئي فہرست تھي، کوارٹر نمبر 8 شیخ برہان الدين اس نے کاغذ پر نظر ڈالتے ہوئے حکم ديا، اور يہ غول کا غول ميرے کواٹر ميں ٹوٹ پڑے مير گرہستي کي دنيا ميري آنکھوں کے سامنے اجڑ گئي، لت گئي کرسياں، ميزيں، صندوق، تصويريں، کتابيں درياں قالين، يہاں تک کہ يہ ميلے کپڑے ہر چيز لاري ميں پہنچا دي گئي۔
ڈاکو۔۔۔۔۔۔
لٹيرے۔۔۔۔۔۔
قزاق۔۔۔۔۔
اور يہ سردار جي جو ظاہر ہمدردي جتا کر مجھے يہاں لے آئے تھے، يہ کون سےکم لٹيرے تھے، باہر جاکر بلوائيوں سےکہنے لگے، ٹھرئيے صاحب اس گھر پر ہمارا حق زيادہ ہے، ہميں بھي اس لوٹ ميں سے حصہ ملنا چاہئيے، اور يہ کہہ کر انہوں نے اپنے بيٹے اور بيٹي کو اشارہ کيا، اور وہ بھي لوٹ ميں شامل ہوگئے کوئي ميري پتلون اٹھائے چلا آرہا تھا، کوئي سوٹ کيس، کوئي ميري بيوي اور بچوں کي تصوريريں بھي لارہا تھا، اور يہ سب مال غنيمت سيدھا انسر کے کمرے ميں جا رہا تھا، اچھا رے سردار  زندہ رہا تو تجھ سے بھي سمجھوں گا پر اس وقت ميں چوں بھي نہيں کرسکتا تھا، کيوں کہ فسادي جو سب کے سب مصلح تھے، مجھے سے چند گز کے فاصلے پر تھے، اگر نہيں کہيں معلوم ہوگيا کہ ميں يہاں ہو، ارے اندر آئو جي تسي۔
دفعتا ميں نے ديکھا کہ سردار جي ننگے پان ہاتھ ميں لئے مجھے اندر بلا رہے ہيں ميں ايک بار اس دڑھيل چہرے کو ديکھا جو لوٹ مارکي بھاگ دوڑ سے اور بھي خوفناک ہوگيا، اور پھر کرپان کو جس کي چمکيلي دھار مجھے دعوت موت دے ري تھي، بحث کرنے کا موقع نہيں تھا۔
پچھلا صحفہ (4) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu