اگر ميں کچھ بھي بولا اور بلوائيوں نے سن ليا تو ايک گولي ميرے سينے کے پار ہوگي،
کرپان اور بندرق ميں سے ايک کو پسند کرنا تھا، ميں نے سوچا
ان دس بندوق باز بلوائيوں سے کرپان والا بڈھا بہتر ہے، ميں کمرے
ميں چلا گيا جھجکتا ہوا خاموش، اچھے جي اوس اند آئو۔
ميں اور اندر کے کمرے ميں چلا گيا، جيسے بکرا قصائي کے ساتھ ذبح خانے ميں داجل ہوتا
ہے ميري آنکھيں کر پان کي دھار سے چندہاتي جارہي تھي، يہ لوجي اپني چيزيں سنبھال
لو، يہ کہہ کر سردار جي نے وہ تمام سامان ميرے سامنے رکھ ديا، جو انہوں نے ان
کے بچوں نے جھوٹ موٹ کي لوٹ ميں حاصل کيا تھا، سردارني بوليں، بيٹا ہم تو تيرا کچھ
بھي سامان نہيں بچا سکے، ميں کوئي جواب نہ دے سکا، اتنے ميں باہر سے کچھ آوازيں
سنائي ديں، بلوائي لونے کي الماري کو باہر نکال رہے تھے اور اس کو توڑنے کي کوشش
کررہے تھے، اس کي چابياں مل جاتيں تو سب معاملہ آسان ہوجاتا، چابياں تو اس کي
پاکستان ميں مليں گي، بھاگ گيانا ڈر پوک کہيں کا مسلمان کا بچہ تھا تو مقابلہ کرنا،
نھني موہني ميري بيوي کے چند ريشمي قميش اور غرارے نے جانے کس سے چھين کر لا رہي
تھي، کہ اس نے يہ سنا وہ بولي تم بڑے بہادر ہو شيخ جي ڈر پوک کيوں ہونے لگے وہ تو
کوئي بھي پاکستان نہيں گئے، گيا تو يہاں سے کيوں منہ کالا کر گيا، منہ کالا کيوں
کرتے وہ تو ہمارے ہاں۔۔۔۔۔
ميرے دل کي حرکت ايک لمحے کيلئے رک گئي، بچي اپني غلطي کا احساس کرتے ہي خاموش
ہوگئي، مگر ان بلوائيوں کيلئے يہي کافي تھا، سردار جي پر جيسے خون سوار ہوگيا تھا،
انہوں نے مجھے اندر کمرے ميں بند کرکے کنڈي لگادي اور اپنے بيٹے کے ہاتھ ميں کرپان
دي اور خود بارہ نکل گئے، باہر کيا ہوا مجھے ٹھيک طرح سے معلوم نہ ہوا تھپڑوں کي
آوازيں پھر موہني کي رونے کي آواز، اور اس کے بعد سردار جي آواز، پنجابي ميں گالياں
کچھ سمجھ ميں نہيں آرہا تھا، کہ کسے گالياں دے رہے ہيں، اور کيوں، ميں چاروں طرف سے
بند تھا اس لئے ٹھيک سنائي نہيں ديتا تھا، اور پھر گولي چلنےکي آواز اور سر دارني
کي چيخ لاري روانہ ہونے کي کڑ کڑاہٹ اور تمام اسکوائر پر جيسے سناٹا چھا گيا ہو، جب
مجھے کمرے کي قيد سے نکالا گيا تو سردار جي پلنگ پر پڑے تھے، اور ان کے سينے کے
قريب سفيد قميض خون سے سرخ ہو رہي تھي، ان کا لڑکا ہماسائے کے گھر سے ڈاکڑ کو فون
کر رہا تھا، سردار جي يہ تم نے کيا کيا؟ ميري زبان سے نہ جانے يہ الفاظ کيسے نکلے
مہبوت تھا، ميري برسوں کي دنيا، خيالات، محسوسات، تعصبات کي دنيا کھنڈر ہوچکي ہے،
سردار جي يہ تم نے کيا کيا؟
مجھ پر کرجہ اتار نا تھا بيٹا۔
قرضہ۔
ہاں راولپنڈي ميں تمہارے جيسے مسلمان نے اپني جان دے کر ميري اور ميرے گھر والوں کي
جان اور اجت بچائي تھي، کيا نام تھا اس کا سردار جي؟
غلام رسول
غلام رسول
غلام رسول اور مجھے ايسا معلوم ہوا جيسے ميرے ساتھ قسمے نے دھوکا کيا ہو۔
ديوار پر لٹکے ہوئے گھنٹے نے بارہ بجانے شروع کئے ايک دو تين چار پانچ۔۔۔۔
سردار جي کي نگاہيں گھنٹے کي طرف گئيں، جيسے مسکرارہے ہوں اور مجھے اپنے داد ياد
آئے،جن کي کئي فٹ لمبي داڑھي تھي، سردار جي کي شکل ان سے کتني ملتي تھي، چھ سات آٹھ
نو۔
جيسے وہ ہنس رہے ہوں ان کي سفيد داڑھي اور سر کے کھلے ہوئے بالوں نے چہرے کے گرد
ايک نواراني بالہ سا بنايا ہوا تھا، دس گيارہ بارہ جيسے وہ کہہ رہے ہوں جي اساں دے
ہاں تو 24 گھنٹے بارہ بجے رہتے ہيں، اورپھر ميرے کانوں ميں غلام رسول کي آواز سے
بہت دور آئي، ميں کہتا تھا، کہ بارہ بجے ان سکھو کي عقل غائب ہوجاتي ہے، اور کوئي
نہ کوئي حماقت کر بيٹھتے ہيں، اب ان سردار جي کو ديکھو نا، ايک مسلمان کي خاطر
اپني جان دے دي۔
پر يہ سردار جي مرے نہيں تھے، ميں مرا تھا۔ |