|
|
| احسان علي |
کيسي رنگيلي طبعيت تھي احسان علي کي، محلے ميں کون تھا جو ان کي
باتوں سے محفوظ نہ ہوتا تھا، اگر وہ محلے کي ڈيورہي ميں جاپہنچے،
جہاں بوڑھوں کي محفل لگي ہوتي تو کھانسي کے بجائے قہقہے گونجنے
لگتے، چوگان ميں بيٹھي عورتوں کے پاس سے گزرے تو دبي دبي کھي کھي
کا شور بلند ہوتا محلے کے کنويں کے پاس جا کر کھڑے ہوتے تو لڑکوں
کے کھيل ميں نئي روح دور جاتي۔
جوان لڑکياں انہيں ديکھ کر گھونگھٹ تلے آنکھوں ہي آنکھوں ميں
مسکراتيں، اور پھر ايک طرف سے نکل جانے کي کوشش کرتيں، مٹيار
عورتيں ديکھ پاتيں تو ان کے گالوں ميں گھڑے پڑجاتے خواہ مخواہ جي
چاہتا کہ کوئي بات کريں، بوڑھي عورتین قہقہ مار کر ہنس پڑتيں مثلا
اس روز احسان علي کو چوگان ميں کھڑا ديکھ کر ايک بولي، يہاں کھڑے
ہو کر کسے تاڑ رہے ہو، احسان علي، يہ سامنے عورتوں کا جو جھرمٹ لگا
ہے، نہ جانے کس محلے سے آئي ہيں، دوسري نے دور کھڑي عورتوں
کي طرف اشارہ کيا، اے ہے اب تو اپنے حيمد کيلئے ديکھا کرو، بھابي
کہنے لگي، اللہ رکھے جوان ہوگيا، اور تو کيا اپنے لئے ديکھ رہا
ہوں، بھابھي احسان علي مسکرايا، اس بات پر ايک معني خيز طنزيہ قہقہ
بلند ہوا، احسان علي ہنس کر بولا دنيا کسي صورت ميں راضي نہيں ہوتي
ہے چاچي اپنے لئے ديکھو تو لوگ گھورتے ہيں، کسي کيلئے ديکھو تو
طعنہ ديتے ہيں مذاق اڑاتے ہيں، جواب دينے ميں احسان علي کو کمال
حاصل تھا، ايسا جواب ديتے کہ سن کر مزہ آجاتا، شادان نے يہ سن کر
چاچي کو اشارہ کيا اور مصنوعي سنجيدگي سے کہنے لگي، چاہے اس عمر
ميں اوروں کيلئے ديکھنا ہي رہ جاتا ہے، احسان علي نے آہ بھري بولے
کاش تم ہي سمجھتيں شاداں، اتني عمر ہوچکي ہے چچا پر تمہيں سمجھ نہ
آئي، شاداں مسکرائي ابھي ديکھنے کي حوس نہيں مٹي۔
اچھا شاداں ايمان سے کہنا سنجيدگي سے بولے کبھي تمہیں ميلي آنکھ سے
ديکھا ہے؟
بائيں چچا شاداں ہونٹ پر انگلي رکھ کر بيٹھ گئي، ميں تو تمہاري
بيٹي کي طرح ہوں، يہ بھي ٹھيک ہے وہ ہنسے جب جواني ڈھل گئي تو چچا
جي سلام کہتي ہوں، ليکن جب جوان تھي توبہ جي پاس نہ بھٹکتي
تھي کبھي کيوں بھابھي جھوٹ کہتا ہوں ميں؟ اس بات پر سب ہنس پڑے اور
احسان علي وہاں سے سرک گئے، ان کے جانے کے بعد بھابھي نے کہا، تو
بہ بہن شاداں نے مسکراتے ہوئے کہا ابکون سا حاجي بن گيا ہے، اب بھي
تو عورت کو ديکھ کر منہ سے رال ٹپکٹتي ہے، ليکن شادان بھابھي نے
کہا شاباش ہے اس کو کبھي محلے کي لڑکي کو ميلي آنکھ سے نہيں ديکھا،
يہ تو ميں مانتي ہوں شاداں نے ان جانے ميں آہ بھري، يہ صفت بھي کسي
کسي ميں ہوتي ہے، چاچي نے کہا، جب محلے واليوں کي يہ بات احسان علي
نے پہلي بار سن پائي بولے اتنا بھروسہ بھي نہ کرو مجھ پر۔
کيوں چاچي نےہنس کر کہا، يہ کيا جھوٹ ہے تمہاري يہ صفت واقعي خوب
ہے تو منہ پر کہوں گي، احسان علي، لو چاچي يہ صفت نہ ہوتي ان ميں
تو ہمارے محلے ميں رہنا مشکل ہو جاتا ہے، شاداں بولي۔
احسان علي کھلکھلا کر ہنس پڑے بولے چاچي کہتے ہيں
ايک دفعہ بلي کنويں ميں گر گئي، باہر نکلنے کيلئےبہتر يہ ہاتھ
پائوں مارے پھر بولي آج رات يہيں بسر کريں گے، يہ بلي کا واقعہ کيا
ہے چاچي نے مسکراتے ہوئے پوچھا، ہماري سمجھ ميں تو نہيں آيا، شاداں
بولي، بس تو چھوڑو اس بات کو، بھابھي نےکہا، احسان علي کي بات
کريدنے سے نکلے گا کيا؟ احسان علي اس دوران ميں ہنستے رہے اور پھر
بولے چاچي يہ ميري صفت نہيں يہ تو محلے واليوں کي خوبي ہے، بے چاري
ايسي بني ہيں کہ خواہ مخواہ ماں بہن کہنے کو جي چاہتا ہے، کيوں
شاداں؟
ہائے اللہ سنا تم نے چاچي شاداں چلائي، سسمجھي بھي ہو اس کي
بات بھابھي مسکرائي، سب سمجھتي ہوں، چچا اگر محلے ميں کوئي ايسي
ويسي ہوتي تو کيا واقعي ريجھي جاتے اس پر؟ تم اس کي بات سنو،
بھابھي نے کہا، توبہ کيسي باتيں بناتا رہتا ہے، چاچي ہنسي، کسي
محلے والي پر ريجھنے تو اک بار مزہ چکھا ديتي تمہيں چچا، شاداں
آنکھيں چمکا کر بولي جوتا دکھا ديتي مياں کو، کيوں بھابھي، واہ
احسان علي مسکرائے، شاداں جس نے جوتا دکھا ديا سمجھو بات پکي کردي،
ہائے مرگئي، شاداں نے دونوں ہاتھوں سے سينہ تھام ليا، احسان علي
تجھ پر خدا کي سنور، چاچي نے ہاتھ ہلايا، اور احسان علي ہنستے
ہنستے آگے نکل گئے، ان کي عادت تھي کہ محفل پر اپنا رنگ جما کر چلے
جايا کرتے، اگر چہ محلے والياں اکيلے ميں احسان علي کي
گذشتہ زندگي پر ناک بھون چڑھايا کرتيں اور ان کي فطري کمزوري پر
مذاق اڑاتيں، ليکن جب وہ سامنے آجتے تو نہ جانے کيوں ان کي آنکھوں
ميں چمک لہرا جاتي اور وہ خواہ مخواہ ہنس پڑتيں۔
|
|
 |