|
|
| احسان علي |
چوتھے نے کہا، ورنہ کہاں احسان علي کہاں مسجد، اگر مسجد کا امام
وقت تنگ سمجھ کر کھڑا نہ ہوتا تو نہ جانے کيا کيا باتيں ہوتيں اس وقت۔
رات کو کھانے کے بعد نسرين نے انہيں کے کمرے ميں اپنا بستر جماديا اور پھر آپ چار
پائي پر بيٹھ کر اطميننان سے سوئيٹر بننے لگي، حقہ پتيے ہوئے وہ کچھ سوچنے کي کوشش
کررہے تھے، ليکن بار بار نگائيں ادھر ادھر بھٹکنے لگتيں، شامنے فرش پر نسرين کي
خوبصورت سرخ چپلي ان کي آنکھوں تلے ناچتي، کمرہ خوشبو سے بھرا ہوا تھا، اف وہ
بار بار اپني ناک سکڑاتے کيس واہيات بو تھي، ہاں وہ ميري کتاب، وہ آپ ہي
گنگناتے، کتاب؟ نسرين کي آواز کمرے ميں گونجي ميں ديتي ہوں آپ کي کتاب، نہيں نہيں
وہ چلائے ميں خود لے لوں گا، وہ اٹھ بيٹھے ليکن نسرين پہلے ہي الماري تک جا پہنچي،
لاحول والا قوتھ، بے اختيار ان کے منہ سے نکل گيا، دور ہي رک گئے جيسے آگے بڑھنے سے
ڈرتے ہوں، وہ نيلي وہ بائيں، طرف والي وہ چلائے، وہاں رکھ دوں، انہوں نے دور سے چار
پائي کي طرف اشارہ کيا وہاں، ان کي آنکھوں تلے کتاب کي لفظ ناچے لگے، حاشيہ سرک سرک
کر دائيں سے بائيں طرف جا پہنچا اور پھر بائيں سے دائيں چلنا شروع کرديتا، لفظوں کي
قطاريں لگتيں اور پھر دفعتا ايک جگہ ڈھير جوجاتيں دور محلے والياں ڈھولک بجا رہي
تھي، سامنے نسرين کسي انداز ميں بيٹھي تھي، کيا واہيات طريقے سے بيٹھي تھي، انہوں
نے سوچا کيا نمائشي انداز ہيں، اور پھر چونکے، کيا پھتے نائي کي ماں نہيں آئي، وہ
گويا کتاب سے پوچھنے لگے، کوئي کام نے نسرين نے پوچھا، نہيں نہيں وہ گھبرا گئے ويسے
وہ سونے کو تو آئے گي، اس کي کيا ضرورت ہے ، نسرين بولي۔
ميں جو ہوں اور وہ ازر سر نو گھبراگئے ميں جوں ہوں ميں جو ہوں دور محلے ڈھولک کے
ساتھ گارہي تھيں، وہ گيارہ بج گئے، انہوں نے گھڑي کي طرف ديکھا کر کہا، ابھي تو
گيارہ ہي بجے ہيں، کمرے ميں چھوٹی سے بتي جل رہي تھي چاروں طرف عجيب سي بو
پھيلي ہوئي تھي، دو چھوٹے دو چھوٹے پائوں رضائي سے باہر نکلے ہوئے تھے چيني چيني
کسي نے تمسخر سے ان کے کام ميں کہا، سرہانے پر کالے بالوں کا ڈھير لگا تھا، سرہانے
تلے پتلي تتلي انگلياں پڑيں تھيں، جن پر روغن چمک رہا تھا، فضول انہوں نے منہ
بنايا، اٹھ بيٹھے اور باہر صحن ميں چاندني چھٹکي ہوئي تھي، دور محلے والياں گا رہي
تھيں، بال گوري دے پيچھرے کالے، نہ جانے کيوں انہوں نے محسوس کيا
جيسے ان کي زندگي کي تمام تر رنگيني ختم ہوچکي تھي، اندر آکر وہ
سوچنے لگے، ہوں تو دو بجے ہيں، وقت گزررتا ہيں نہيں گھڑي چلانے
لگي۔
جائے نماز کو ديکھ کر انہوں نے اطمينان کا سانس ليا جو ہونا تھا
ہوگيا، انہوں نے سوچا حميد نے کس قدر فحش غلطي کي ہے بے وقوف انہوں
نے نسرين کي طرف ديکھ کر سوچا اور پھر ان جانے ميں جائے نماز پر
کھڑے ہوگئے، اس وقت انہيں نماز گويا دہي نہ تھي ميرے اللہ ميرے دل
سے آوازيں آرہي تھيں، جي چاہتا تھا، کہ چيخ چيخ کر روئيں،
رکوع کے بغيروہ سجدہ ميں گر گئے، عين اس وقت شاداں چاچي کے ساتھ
کوٹھے سے نيچے اتري، چپ شاداں زير لب بولي، وہ سوچ رہے ہونگے، آج
توچچا احسان سے وہ مذاق کرکے رہوں گي، کہ ياد کريں گے، چاچي ہنس
پڑي بولي، تجھے بھي تو ہر سمے شرارتيں ہي سوجھتي ہيں، اور وہ
کيا لحاظ کرتے ہيں ميرا، شاداں نے کہا، ہائيں انہيں سجدے ميں ديکھ
کر شاداں نے اپنا سينہ سنبھالا، ميں مر گئي يہاں تو تہجد ادا کي
جارہي ہے، نہ جانے بہو نے کيا جادو کيا ہے، سچ چاچي ہونٹ پر انگلي
رکھ لي، اور يہ ديکھ لو دلہن سو رہي ہے جيسے کچھ خبر ہي نہ ہو۔
احسان علي چونک کر اٹھ بيٹھے ان کے گال آنسوئوں سے تر تھے ہاے ميرے
اللہ شادان نے پھر اپنے آپ کو سنبھالا، احسان علي نے انہيں ديکھا
تو دفعتا منہ ڈھيلا پڑ گيا، چہرے پر جھرياں چھاگئيں، جيسے ايک لخت
وہ بوڑھے ہوگئے ہو، احسان علي شاداں نے چیخ سي ماري، احسان علي نے
منہ پھيرا، ايک ہچکي نکل گئي اور وہ سجدے ميں گر پڑے، انہوں نے
محسوس کيا گويا چيني کا نازک کھلونا ريزہ ريزہ ہو کر ڈھير ہوگيا
ہو۔
|
|
 |