|
|
| آپا |
گڑانے والے ابا، سارے گھع ميں لے دے کہ صرف تصديق بھائي ہي ہنستے
جو دل چپ باتيں کرتے تھے اور جب ابا گھر پر نہ ہوتے تو وہ بھاري آواز ميں گايا بھي
کرتے جانے وہ کون سا شعر تھا۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔
جپ چاپ سے وہ بيٹھے ہيں آنکھوں ميں نمي سي ہے
نازک سي نگاہوں ميں نازک سا فسانہ ہے
آپا انہيں گانا سنا کر کسي نہ کسي بات پر مسکرا ديتي اور کوئي بات نہ ہوتي تو بدو
کو ہلکا سا تھپڑ مار کر کہتي بدو رونا اور پھر آپ ہي آپ بيٹھي مسکرا ديتي۔
تصديق بھائي ميرے پھوپھا کے لڑکے تھے انہيں ہمارے گھر آئے يہي دو ماہ ہوئے ہوں
گےکالج ميں پڑھتے تھے پہلےتو وہ بورڈنگ ميں رہا کرتے تھے پھر ايک دن جب پھوپھي آئي
ہوئي تھيں تو باتوں باتوں ميں انکا ذکر چھڑ گيا، پھوپھ بھي کہنے لگي کہ بورڈنگ ميں
کھانےکا انتظام ٹھيک نہيں ہے لڑکا آئے دن بيمار رہتا ہے، اماں اس بات پر خوب لڑيں
کہنے لگيں کہ اپنا گھر موجود ہوتو بورڈنگ ميں پڑے رہنے کا مطلب؟ پھر ان دونوں ميں
بہت سے باتيں ہوئيں، اماں کي تو يہ عادت ہے کہ اگلي پچھلي تمام باتيں لے بيٹھيتي
ہيں غرض يہ کہ نتيجہ ہوا کہ ايک ہفتہ کے بعد تصديق بھائي بورڈنگ چھوڑ کر ہمارے ہاں
ٹھہر گئے۔
تصديق بھائي مجھ سے اور بدو سے بڑي گپيں ہانکا کرتے تھے، ان کي باتيں بے دلچسپ
ہوتيں، بدو سے تو وہ دن بھر نہ اکتاتے البتہ آپا سے وہ زيادہ باتيں نہ کرتے، کرتے
بھي کيسے، جب کبھي وہ آپا کے سامنے جاتے تو آپا کے دوپٹےکا پلو آپ ہي آپ سرک کر نيم
گھونگھٹ سا بن جاتا اور آپا کي بھيگي بھيگي آنکھيں جيک جاتيں اور وہ نہ کسي کا کام
ميں شدت سے مصروف دکھائي ديتي اب مجھے خيال آتا ہے کہ آپا ان کي باتين غور سے
سنا کرتي تھي گو کہتي کچھ نہ تھي بھائي صاحب بھي بدو سے آپا کے متعلق پوچھتے رہتے
ليکن صرف اسي وقت جب دونوں اکيلئے ہوتے۔
بدو يہ تمہاري آپا کيا کيا کر ہي ہے؟
آپا۔۔۔۔بدو لاپروئي سے دہراتا۔۔۔بيٹھي ہے۔۔۔۔بلائوں؟
بھائي صاحب گھبرا کر کہتے نہيں نہيں اچھا بدو آج تمہيں يہ ديکھو اس طرف تمہيں
دکھائيں۔
اور جب بدو کا دھيان ادھر ادھر ہوجاتا تو وہ مدہم آواز ميں کہتے ارے يار تم
تو مفت کے ڈھنڈوا ہوں، بدو چيخ اٹھتا کيا ہوں ميں؟ اس پر وہ ميز بجانے لگتے۔
جيسے ڈھول بھي کہتے ہيں ڈگمگ ڈگمگ اور آپا اکثر چلتے چلتے انکے دووازے پر ٹہر جاتي
ان کے باتيں سنتي رہتي اور پھر چولہے کے پاس بيٹھ کر آپ ہي مسکراتي،اس وقت اس کے سر
سے دوپتہ سرک جاتا، بالوں کي لٹ پھسل کر گلا پر آکر گرتي اور ہو بھيگي بھيگي آنکھوں
ميں چولہے ناچتے ہوئے شعلوں کي طرح جھومتي، آپا کے ہونٹ يوں ہلتے گويا گارہي ہو مگر
الفاط سنائي نے ديتے اسيے ميں اگر اماں يا ابا جان باورچي خانے ميں آجاتے تو وہ
ٹھٹھک کر يوں اپنا دوپٹہ بال اور آنکھيں سنبھالتي گويا کسي بےت تلکف محفل ميں کوئي
بے گانہ آگھسا ہو۔
ايک دن ميں آپا اور اماں باہر صحن ميں بيٹھي تھي، اس وقت بھائي صاحب اندر
اپنے کمرے ميں بدو سے باتيں کر رہے تھے ميرا خيال ہے کہ بھائي صاحب کو يہ معلوم
نہيں تھا کہ ہم باہر بيٹھے ہوئے ہيں ان کي باتيں سن رہے ہيں، بھائي صاحب بدو سے کہہ
رہے تھے ميرے يار تم تو اس سے بياہ کريں گے جو ہم سے انگريزي ميں باتيں کرسکے
کتابيں پڑھ سکيں، شطرنج، کيرم اور چڑيا کھيل سکے اور سب سے ضروري بات يہ ہے کہ ہميں
مزے دار کھانے پکا کرکھلا سکے سمجھے؟
بدو بولا ہم تو چھا جوباجي سے بياہ کريں گے۔
اونہ بھائي صاحب نے کہا۔
بدو چيخنے لگا ميں جانتا ہو تم آپا سے بياہ کرو گے، ہاں اس وقت اماں نے مسکرا کر آپ
کي طرف ديکھا مگر آپا نے اپنے پائوں کے انگھوٹے کا ناخن توڑنے ميں اس قدر مصروف تھي
جيسے کچھ خبر نہ ہو، اندر بھائي صاحب کہہ رہے تھے، وہ تمہاري آپا فيرني پکاتي ہے تو
اس ميں پوري طرح شکر نہيں ڈالتي، بالکل پيکي، آخ تھو۔
بدو نے کہا ابا جو کہتے فرني ميں کم ميٹھا ہونا چاہئيے۔
تو وہ اپنے ابا کيلئے پکاتي ہيں نا ہمارے لئے تو نہيں
ميں کہو آپا سے؟ بدو چيخا۔
|
|
 |