|
گڈ لارڈ ناٹ مي۔ بھئي مجھ سے يہ
نہيں ہوتا کہ اپنے جذبہ کي بھٹي کو دوں ديتي رہوں ديتي رہوں اور جب
بھانھڑ مچ جائے تو بيٹھ کر روئوں۔آئي ايم ناٹ دي سابنگ اينڈ سائنگ
ٹائپ ۔ميں ہر حد توڑ سکتي ہوں صفو جا سکتي ہوں ليکن اتني دور نہيں
کہ واپسي نا ممکن ہوجائے۔ لو تو لينڈ آف نويد ميں لے جاتي ہے۔ ہيو
گڈ ٹائم۔بٹ لو۔۔نونو۔۔نيور۔ بھئي اس لحاظ سے میں تو ماڈرن نہيں۔
صفو نے کہا۔ پھر وہ نمي کے قريب ہو گئي۔ کچھ پتہ ہے وہ آنکھيں مٹکا
کر بولي۔تيرے پڑوس ميں ڈاکٹر نجمي کے ہاں کون آيا ہوا ہے؟
لگتا ہے گليکسو بے بي ہو۔ گہرے
بھورے بالوں کا اتنا بڑا تاج گول بکھرا رنگ اور آنکھوں ميں لال
ڈورے ۔صفو نے يوں سينہ تھام کر کہا جيسے ہل چل بھي ہو۔ ابھي کي بات
کر رہي ہو؟ صفو نے پوچھا۔تو اسے جانتي ہے۔؟ہاں وہ ايک مہينے ہو گئے
اسے آئے ہوئے۔ملنے ملانے کے لئے آيا ہے کيا؟ انہوں پوسٹنگ ہوئي ہے
يہاں ۔الاٹ منٹ کي انتظار ميں بيٹھا ہے ادھر۔ کوئي ريليٹو ہے ڈاکٹر
نجمي کا؟
کيسا لگتا ہے تمہيں؟ صفو نے پھر
سينہ سنبھالا۔ اچھا خاصا ہے نمي نے بے پروائي سے کہا۔ اب بنو نہيں
نمي۔ ميں تو نہيں بنتي ۔ تہ بنتا ہے پتہ نہيں خود کو کيا سمجھتا
ہے۔ ہے نمي۔ صفو نے پھر سينہ سنبھالا۔پٹ چک شرٹ ۔اورنج سڑا اکيڈ
کوٹ اور شاکنگ۔ گرين ٹائي۔ ميں تو ديکھ کر بھونچکي رہ گئي اسٹينڈ۔
ہاں چارمنگ تو ہے۔ نمي نے کہا۔ مسلي۔ چارمنگ از نو ورڈ فاراٹ ۔کبھي
ملي ہو اس سے ؟روز آ جاتا ہے۔ نمي نے سر چڑ ھا رکھا ہے۔اور تم نے؟
انہوں ؟ تم سے بھي ملتا ہے کيا؟ ہاں۔ پھر صفو کا تنفس تيز ہو گيا۔
پھر نمي آنکھيں بند کر کے پڑ گئي۔ سارا جھگڑا اس پھر ۔کا تھا۔ اسي
پھر کي وجہ سے نمي اس روز بستر ميں پڑي ليز کر رہي تھي۔ ليز تو خير
بہانہ تھا۔ ليز تو اس وقت ہوتا ہے جب امن ہو۔ اندر جھگڑے کي ہنڈيا
پک رہي ہو تو امن کيسا۔ اور امن نہ ہو تو ليز کيسا۔ مانا کہ جھگڑا
دل کي اتھاہ گہرائيوں ميں تھا جہاں کے شور غوغا کي آواز زہن تک
نہيں پہنچتي۔
مشکل يہ ہے کہ ذہن تک آواز نہ
پہنچے تو بات او ر الجھ جاتي ہے خود کو تسلياں دينا بھي ممکن نہيں
رہتا ۔بہر حال سارا جھگڑا اس پھر کا تھا۔ نمي کا دل پوچھ رہا تھا۔
پھر۔ اس کي نحيف آواز سن کر ذہن کہہ رہا تھا پھر ۔کا سوال ہي پيدا
نہيں ہوتا جب سرے سے کوئي بات ہي نہيں تو پھر کيسا؟
نمي ايک ماڈرن لڑکي تھي۔ ماڈرن
گھر ميں پرورش پائي تھي۔ ماڈرن ماحول ميں جوان ہوئي تھي۔ اسے اپنے
ماڈرن ازم سے عشق تھا عشق۔چاہے کچھ ہو جائے ماڈرن ازم ہاتھ سے نہ
جائے۔ اس کا دل پھر۔ پھر کر رہا تھا۔کراہ رہا تھا۔ سسکياں بھر رہا
تھا۔ اس وقت نمي کي زندگي کي ايک واحد پرابلم تھي کہ دل کي آواز نہ
سنے ،سنائي دے تو ان سني کر دے۔ اس صرف ايک حل تھا کہ ذہن سے چپٹ
جائے اور قريب اور قريب جس طرح جونک خون کي رگ سے چمٹ جاتي ہے۔نمي
ميں ذہن اور دل کي کشمکش پہلے کبھي اس شدت سے نہيں ابھري تھي۔ نمي
نے زندگي ميں چند ايک افير چلائے تھے۔
سب سے پہلے سعيد تھا۔ ان دنوں وہ
بي اے ميں پڑھتي تھي۔ وہ ايک دبلا پتلا معنہ لڑکا تھا۔ جب بھي کالج
ميں نمي اس کے سامنے آتي تو اس کي آنکھيں پھٹ جاتيں منہ کھلا کا
کھلا رہ جاتا۔اور وہ گويا پتھر کا بن جاتا ۔پھر حواس گم قياس گم وہ
بٹر بٹر نمي کو ديکھتا رہتا۔ حتي کہ سب کو پتہ چل جاتا کہ وہ ديکھ
رہا ہے ۔لڑکے پھبتياں کستے مذاق اڑاتے ليکن اسے خبر ہي نہ ہوتي۔
پہلے تو نمي کو سعيد پر بڑا طيش آتا رہا کہ يہ کيا ڈرامہ لگا کر
کھڑا ہو جاتا ہے ۔ پھر اسے اس ترس آنے لگا۔ نم کم پوپ ديکھنے کا
سليقہ بھي نہيں آتا ۔ بے شک ديکھے ،کون منع کرتا ہےليکن ديکھنے کا
انداز تو سيکھے۔
دوسرا جے اے اويس تھا۔ ادھيڑ عمر
۔ڈيڈي کا ہم کار۔ اسے ديکھنے کا سليقہ تھا اتنا سليقہ کہ نظر بھر
کر ديکھتا ہي نہ تھا۔ بات ہوئي نا۔ بھلا ديکھنا مقصود ہوتا ہے کيا۔
لورز بھي کتنے احمق ہوتے ہيں ۔بٹر بٹر ديکھنے لگتے ہيں ۔جيسے
ديکھنا مقصود ہو۔ يا شايد اتنا ديکھتے ہيں کہ بھول جاتے ہيں کہ
مقصد کيا تھا۔ ديکھنا خود راستے ميں رکاوٹ بن جاتا ہے ۔چلو مان ليا
کہ ديکھنا تعارف کے لئے ضروري ہے ليکن انٹي ميسي مقصود ہو تو۔
پھر وہ انور تھا ۔کتنا اچھا کم
پينين تھا۔ ليکن اکيلے ميں کبوتر کي سي آنکھيں بنا کر بيٹھ جاتا۔
بھئي کوئي بات کرو جو چھيڑے دے کوئي جوک جو گد گدا دے ہنسا دے۔
کوئي منتر پھونکو کہ کلي کھل کر گلاب بن جائے۔ بھلا گھٹنے ٹيکنے سے
کيا ہوتا ہے۔ خواہ مخواہ کا اسکينڈل ۔محبت ميں يہي تو عيب ہے شور
غوغا مچا ديتي ہے۔ |