|
|
| |
پراني شراب
نئي بوتل |
اگلے روز نمي کو پتہ چلا کہ امجي
شفٹ کر گيا ہے گھر مل گيا ہے يہ جان کر نمي کا دل ڈوب گيا۔ليکن خود
کو سنبھالا۔ اچھا چلا گيا ہے۔ سو واٹ از آل رائيٹ۔
دل کو سمجھانے کے باوجود کئي ايک
مہينے بار بار سوتے جاگتے ان جانے ميں گہرے بھورے بال اڑتے اس کے
چہرے پر ڈھير ہو جاتے ۔ پھر بريسلٹ والا ہاتھ بڑھ کر اسے تھام
ليتا۔ بار بار وہ خود کو جھنجھوڑتي ۔چلا گيا ہے تو گيا۔ سو وہاٹ اٹ
از آل رائٹ۔
ايک سال بعد نمي کي کے جي اويس
سے شادي ہو گئي۔ اور اسے سب کچھ مل گيا۔ سجا سجايا گھر نوکر چاکر۔
ساز و سامان۔ کاريں ۔ سب کچھ۔ اس کا خاوند اويس بڑا کلچرڈ آدمي
تھا۔ اور چونکہ ادھيڑ عمر کا تھا اس کي زندگي کا تمام تر
مقصد نوجوان بيوي کو خوش رکھنا تھا۔بلکہ اسپايل کرنا تھا۔ اويس ميں
بڑي خوبياں تھيں صرف عمر ڈھلي ہوئي تھي۔ بال گر چکے تھے۔ ٹانٹ نکل
آئي تھي ۔ بہر حال نمي خوش تھي بہت خوش ۔
شادي کے دو سال بعد ايک روز اويس
بر سبيل تذکرہ کھنے لگا ۔ ڈارلنگ وہ تيري ايک ڈاکٹر سہيلي تھي کيا
نام تھا اس کا؟
صفو کي بات کر رہے ہو
کہاں ہوتي ہے وہ آج کل؟
پہلے تو پنڈي ميں اس کا کلينک تھا اب پتہ نہيں دو سال سے نہيں ملي
وہ۔
پنڈي ميں کس جگہ کلينک تھا۔؟
شايد لال کرتي کے چوک ميں۔ کيوں کوئي کام ہے صفو سے ؟
نہیں تو اويس بولا ۔ويسے ہي پوچھ رہا تھا۔
دس پندرہ روز کے بعد اچانک صفو آگئي۔
ارے تو صفو ۔نمي خوشي سے چلائي۔
کيسي ہے تو۔ صفو نے پوچھا۔
فرسٹ ريٹ۔
ّآر يو يپي ۔
ہيپي از نو ورڈ فاراٹ ن نمي آنکھيں چمکا کر بولي۔ اچھا صفو سوچ ميں
پڑ گئي۔ بات کيا ہے ؟نمي نے پوچھا کيا اويس ملا تھا تجھے۔ ؟
ہاں ملا تھا ۔صفو نے تھوڑي سي
ہچکچاہٹ کے بعد کہا۔
مذاق نہ کرو صفو۔
آئي ايم ديڈ سيريس۔ اويس کہتا ہے تمہيں ہيلو سي نيشن ہوتے ہيں ۔
مجھے۔
ہاں۔
مثلا۔
کہتا تھا جب اکيلے ميں ميرے ساتھ ہوتي ہے تو کہتي ہے ڈارلنگ تم بال
کيوں نہيں سنبھالتے ميرے منہ پر پڑتے ہيں۔ اور صفو رک گئي۔
نمي چپ ہو گئي۔
اور جانو تم بريسليٹ تو اتارو ديا کرو۔
نانسنس نمي چيخي۔ ايسي بے معني باتيں ميں کرتي ہوں کيا؟
کيا۔۔۔؟
کہ بال سنبھال ليا کرو ميرے منہ پر پڑتے ہيں۔ اور۔۔۔
اور۔۔۔۔اپنا بريسليٹ تو اتار ديا کرو۔۔
مذاق نہ کر ۔ نمي چلائي۔۔۔
تمہيں پتہ نہيں کيا۔۔صفو سنجيدگي سے بولي۔۔ ميري شادي ہو چکي ہے
امجي سے۔ |
|
 |