Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  قدرت اللہ شہاب
ماہ جي
ان چند آنو ں کے علاوہ ماں جي کے پاس نہ کچھ اور رقم تھي اور نہ کوئي زيور۔ اسباب دنيا ميں ان کے پاس گنتي کي چند چيزيں تھيں۔ تين جوڑے سوتي کپڑوں کے ، ايک جوڑا ديسي جوتا، ايک جوڑا ربڑ کے چپل، ايک عينک، ايک انگوٹھي جس میں تين چھوٹے چھوٹے فيروزے جڑے ہوئے تھے ۔ ايک جائے نماز ، ايک تسبيح اور باقي اللہ اللہ۔
پہننے کے تين جوروں کو وہ خاص اہتمام سے رکھتي تھيں۔ ايک زيب تن ، دوسرا اپنے ہاتھوں سے دھو کر تکيے کے نيچے رکھا رہتا تھا۔ تاکہ استري ہو جائے ۔ تيسرا دھونے کے لئے تيار۔ ان کے علاوہ اگر چوتھا کپڑا ان کے پاس آتا تھا تو وہ چپکے سے ايک جوڑا کسي کو دے ديتي تھيں۔ اسي وجہ سے ساري عمر انہیں سوٹ کيس رکھنے کي حاجت محسوس نہ ہوئي۔ لمبے سے لمبے سفر پر روانہ ہونے کے لئے انہیں تياري ميں چند منٹ سے زيادہ نہ لگتے تھے۔ کپڑوں کي پوٹلي کي بکل ماري اور جہاں کہے چلنے کو تيار۔ سفر آخرت بھي انہوں نے اس سادگي سے اختيار کيا۔ ميلے کپڑے اپنے ہاتھوں سے دھو کر تکيے کے نيچے رکھے ۔ نہا دھو کر بال سکھائے اور چند ہي منٹوں ميں زندگي کے سب سے لمبے سفر پر روانہ ہو گئيں۔ جس خاموشي سے تقبي سدھار گئيں۔ غالبا اسي موقع کے لئے وہ اکثر يہ دعا مانگا کرتي تھيں کہ اللہ تعالي ہاتھ چلتے چلاتے اٹھا لے۔ اللہ کبھي کسي کا محتاج نہ کرے۔

کھانے پينے ميں وہ کپڑے لتے سے بھي زيادہ سادہ اور غريب مزاج تھيں۔ ان کي مرغوب تين غذا مکئي کي روٹي ، دھنے پودينے کي چٹني کے ساتھ تھي۔ باقي چيزيں خوشي سے تو کھا ليتي تھيں، ليکن شوق نہیں ، تقريبا ہر نوالے پر اللہ کا شکر ادا کرتي تھيں۔ پھلوں ميں کبھي بہت ہي مجبور کيا جائے تو کبھي کبھار کيلے کي فرمائش کرتي تھيں۔ البتہ ناشتے میں چائے کے دو پيالے اور تيسرے پہر سادہ چائے کا ايک پيالہ ضرور پيتي تھيں۔ کھانا صرف ايک وقت کھاتي تھيں اکثر و بيشتر دوپہر کا۔ شاذ و نادر رات کا۔ گرميون میں عموما مکھن نکالي ہوئي پتلي نمکين لسي کے ساتھ ايک آدھ سادہ چپاتي ان کي محبوب خوراک تھي۔ دوسروں کو کوئي چيز رغبت سے کھاتے ديکھ کر خوش ہوتي تھيں اور ہميشہ دعا کرتي تھيں۔ سب کا بھلا خاص اپنے يا اپنے بچوں کے لئے انہون نے براہ راست کبھي کچھ نہ مانگا پہلے دوسروں کے لئے دعا مانگتي تھيں اور اس کے بعد مخلوق خدا کي حاجت روائي کے طفيل اپنے بچوں يا عزيزوں کا بھلا چاہتي تھيں۔ اپنے بيٹوں يا بيٹيوں کو انہوں نے اپني زبان سے کبھي ميرے بيٹے يا ميري بيٹي کہنے کا دعوي نہيں ۔ ہميشہ ان کو اللہ کا مال کہا کرتي تھيں۔

کسي سے کوئي کام لينا ماں جي پر ں گزرتا تھا۔ اپنے سب کام وہ اپنے ہاتھوں خود انجام ديتي تھيں۔ اگر کوئي ملازم زبردستي ان کا کائي کام کر ديتا تو انہیں ايک عجيب قسم کي شرمندگي کا احساس ہونے لگتا تھا اور وہ احسان مندي سے سارا دن اسے دعائيں ديتي رہتي تھيں۔ سادگي اور درويشي کا يہ رکھ رکھائو کچھ تو قدرت نے مان جي کي سر شت میں پيدا کيا تھا۔ کچھ يقينا زندگي کے زيرو بم نے سکھايا تھا۔
جڑا نوالہ میں کچھ عرصہ قيام کے بعد جب وہ اپنے والدين اور خور سال بھائيون کے ساتھ زمين کي تلاش میں لائل پور کي کالوني کي طرف روانہ ہوئيں تو انہيں معلوم نہ تھا کہ انہی کس مقام پر جانا ہے اور زمين حاصل کرنے کے لئے کيا قدم اٹھانا ہے۔ ماں جي بتايا کرتي تھيں کہ اس زمانے ميں ان کے ذہن میں کالوني کا تصور ايک فرشتہ سيرت بزرگ کا تھا جو کہيں سر راہ بيٹھا زمين کے پروانے تقسيم کر رہا ہوگا۔ کئي ہفتے يہ چھوٹا سا قافلہ لائل پور کے علاقے میں پاپيادہ بھٹکتا رہا۔ ليکن کسي راہ گزر پر انہیں کالوني کا خضر صورت رہنما نہ مل سکا ۔ آخر تنگ آکر انہون نے چک نمبر ٥٠٦ جو ان دنون نيا نيا آباد ہو رہا تھا ڈيرے ڈال ديئے۔لوگ جود در جوق وہاں آ کر آباد ہو رہے تھے۔ نانا جي نے اپني سادگي ميں يہ سمجھا کہ کالوني میں آباد ہونے کا شايد يہي ايک طريقہ ہوگا ۔ چناچہ انہون نے ايک چھوٹا سا احاطہ گھير کر گھاس پھونس کي جھونپڑي بنائي اور بجر اراضي کا ايک قطعہ تلاش کر کے کاشت کي تياري کرنے لگے۔ انہي دنوں محکمہ مال کا عملہ پڑتا کے لئے آيا۔ نانا جي کے پاس الاٹ منٹ کے کاغذات نہ تھے چنانچہ انہيں چک سے نکال ديا گيا۔ اور سرکاري زمين پر ناجائز جھونپڑا بنانے کي پداش ميں ان کے برتن اور بستر قرق کر لئے گئے۔ عملے کے ايک آدمي نے چاندي کي دو بالياں بھي ماں جي کے کانوں سے اترواليں۔ ايک بالي اتارنے ميں ذرا دير ہوئي تو اس نے زور سے کھينچ ليا۔ جس سے ماں جي کے کان کا زيريں حصہ بري طرح سے پھٹ گيا۔

چک نمبر 506 سے نکل کر جو راستہ سامنے آيا اس پر چل کھڑے ہوئے۔گرميون کے دن تھے۔ دن بھر لو چلتي تھي۔ پاني رکھنے کے لئے مٹي کا پيالہ بھي پس نہ تھا۔ جہاں کہیں کوئي کنواں نظر آيا ماں جي اپنا دوپٹہ بھگو ليتيں تا کہ پياس لگنے سے اپنے چھوٹے بھائيوں کو چساتي جائیں۔ اس طرح وہ چلتے چلتے چک نمبر 507 ميں پہنچے جہان ايک جان پہچان کے آباد کر نے نانا جي کو اپنا مزارع رکھ ليا۔ نانا جي ہل چلاتے تھے۔ ناني مويشي چرانے لے جاتي تھيں۔ ماں جي کھيتوں سے گھاس اور چارہ کاٹ کر زميندار کي بھينسوں اور گايوں کے لئے لايا کرتي تھيں۔ ان دنون انہیں اتنا مقرور بھي نہ تھا کہ ايک وقت کي روٹي بھي پوري طرح کھا سکيں۔ کسي وقت جنگلي بيرون پر گزارا ہوتا تھا۔ کبھي خربوزے کے چھلکے ابال کر کھا ليتے تھے۔ کبھي کسي کھيت ميں کچي انبيان گري ہوئي مل گئيں تو ان کي چٹني بنا ليتے تھے اور کنٹھے کا ملا جلا ساگ باتہ آگيا ۔ ناني محنت مزدوري ميں صروف تھيں۔ ماں جي نے ساگ چولہے پر چڑھايا۔ جب پک کر تيار ہو گيا اور ساگ کو الن لگا کر گھوٹنے کا وقت آيا تو ماں جي نے ڈوئي ايسے زور سے چلائي کہ ہنڈيا کا پيندا ٹوٹ گيا۔ اور سارا ساگ بہہ کر چولہے ميں آ پڑا ۔ ماں جي کو ناني سے ڈانٹ پڑي اور مار بھي۔ رات کو سارے خاندان نے چولہے پکي لکڑيوں پر گرا ہوا ساگ انگليوں سے چاٹ چاٹ کر کسي قد پيٹ بھرا۔
پچھلا صفحہ (2) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu