Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  قدرت اللہ شہاب
ماہ جي

گلگت ميں عبداللہ صاحب کي بڑي شان و شوکت تھي ۔ خوبصورت بنگلہ وسيع باغ ، نوکر چاکر دروازے پر سپاہيوں کا پہراہ، جب عبداللہ صاحب دورے پر باہر جاتے تھے يا واپس آتے تھے تو سات توپوں کي سلامي دي جاتي تھي۔ يون بھي گلگت کا گورنر خاص سياسي انتظامي اور سماجي اقتدار کا حامل تھا ليکن ماں جي پر اس سارے جاہ و جلال کا ذرہ بھي اثر نہ ہوا۔ کسي قسم کا چھوٹا بڑا ماحول پر اثر انداز نہ ہوتا تھا۔ بلکہ ماں جي اپني سادگي اور خود اعتمادي ہر ماحول پر خاموشي سے چھا جاتي تھي۔ان دنون سرما لکم ہيلي حکومت برطانيہ کي طرف سے گلگت کي روسي اور چيني سرحدوں پر پوليٹيکل ايجنٹ کے طو رپر مامور تھے ۔ ايک روز ليڈي ہيلي اور ان کي بيٹي ماں جي کو ملنے آئيں ۔ انہون نے فراک پہنے ہوئے تھے ۔ اور پنڈلياں کھلي تھين< يہ بے حجابي مان جي کو پسند نہ آئي ۔ انہون نے ليڈي ہيلي سے کہا۔ تمہاري عمر تو جيسے گزرني تھي گزر ہي گئي ہے۔ اب آپ اني بيٹي کي عاقبت کو تو خراب نہ کرو۔ يہ کہہ کر انہوں نے مس ہيلي کو اپنے پاس رکھ ليا ور چند مہينوں ميں اسے کھانا پکانا ، سينا پرونا ، برتن مانجھنا ، کپڑے دھونا سکھا کر ماں باپ کے پاس واپس بھيج ديا۔

جب روس میں انقلاب برپا ہوا تو لارڈ کچر سرحدوں کا معائنہ کرنے گلگت آئے۔ ان کے اعزاز ميں گورنر کي طرف سے ضيافت کا اہتمام ہوا۔ مان جي نے اپنے ہاتھ سے دس بارہ قسم کے کھانے پکائے۔ کھانے لذيز تھے۔ لارد کچر نے اپني تقرير ميں کہا۔ مسٹر گونر جس خانساماں نے يہ کھانے پکائے ہيں۔ براہ مہرباني ميري طرف سے آپ ان کے ہاتھ چوم ليں۔ دعوت کے بد عبداللہ صاحب نے فرحان و شاداں گھر لوٹے تو ديکھا کہ ماں جي باورچي خانے کے ايک کونے میں چٹائي پر بيٹھ نمک اور مرچ کي چٹني کے ساتھ مکئي کي روٹي کھا رہي ہیں۔ ايک چھے گورنر کي طرح عبداللہ صاحب نے مان جي کے ہاتھ چومے اور کہا اگر لارڈ کچر يہ فرمائش کرتا کہ وہ خود خانسامان کے ہاتھ چومنا چاہتا ہے تو پھر تم کيا کرتين؟ ميں ماں جي نے تنک کر بوليں۔ ميں اس کي مونچھيں پکڑ کر جڑے سے اکھاڑ ديتي پھر آپ کيا کرتے؟ ميں عبداللہ صاحب نے ڈرامہ کيا۔ ميں ان مونجھوں کو روئي ميں لپيٹ کر وائسرائے کے پاس بھيج ديتا اور تمہیں ساتھ لے کر کہيں اور بھاگ جاتا جيسے سر سيد کے ہان سے بھاگا تھا۔

ماں جي پر ان مکالمون کا کچھ اثر نہ ہوتا تھا۔ ليکن ايک بار ماں جي رشک و حسد کي اس آگ ميں جل بھن کر کباب ہو گئيں ۔ جو ہر عورت کا ازلي ورثہ ہے۔گلگت ميں ہر قسم کے احکامات گورنري کے نام پر جاري ہوتے تھے۔ جب يہ چرچا ماں جي تک پہنچا تو انہوں نے عبداللہ صاحب سے گلہ کيا۔ بھلا حکومت تو آپ کرتے ہیں ليکن گورنري گورنري کہہ کر مجھ غريب کا نام بيچ میں کيوں لايا جاتا ہے خواہ مخواہ۔عبداللہ صاحب علي گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے ۔ رگ ظرافت پھڑک اٹھي اور بے اعتنائي سے فرمايا۔ بھاگوان يہ تمہارا نام تھوڑا ہے ۔ گورنر تو دراصل تمہاري سوکن ہے جو دن رات ميرا پيچھا کرتي رہتي ہے۔ مذاق کي چوٹ تھي ۔ عبداللہ صاحب نے سمجھا بات آئي گئي ہو گئي ۔ ليکن ماں جي کے دل ميں يہ غم بيٹھ گيا۔ اس غم ميں وہ اندر ہي اندر کڑھنے لگيں۔
کچھ عرصے کے بعد کشمير کا مہاراجہ پرتاب سنگھ اپني مہاراني کے ساتھ گلگت کے دورے پر آيا ۔ مان جي نے مہاراني سے اپنے دل کا حال سنايا۔ مہاراني بھي سادہ عورت تھي۔ جلال ميں آگئي ۔ہائے ہائے ہمارے راج میں ايسا ظلم۔ میں آج ہي مہاراج سے کہوں گي کہ وہ عبداللہ صاحب کي خبر ليں۔
پچھلا صفحہ (5) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu