Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | افسانے |  قدرت اللہ شہاب
ماہ جي

جب يہ مقدمہ مہاراج پرتاپ سنگھ تک پہنچا تو انہون نے عبداللہ صاحؤ کو بلا کر پوچھ گچھ گي۔ عبداللہ صاحب بھي حيران تھے کہ بيٹھے بٹھائے يہ کيا افتاد آ پڑي۔ ليکن جب معاملے کي تہہ تک پہنچے تو دونون خوب ہنسے ۔ آدمي دونون ہي وضع دار تھے۔ چنانچہ مہاراجہ نے حکم نکالا کہ آئندہ سے گلگت کي گورنري کو وزارت اور گورنر کو وزير وزارت کے نام سے پکارا جائے۔ 1947 کي جنگ آزادي تک گلگت ميں يہي سرکاري اصطلاحات تائج تھيں۔ يہ حکم نامہ سن کر مہاراني نے مان جي کو بلا کر خوشخبري سنائي کہ مہاراج نے گورنري کو ديس نکال دے ديا ہے۔ اب تم دودھوں نہائو پوتون پھلو۔ مہاراني نے کہا کبھي ہمارے لئے بھي دعا کرنا۔

مہاراني ار مہاراجہ کي کوئي اولاد نہ تھي۔ اس لئے وہ اکثر ماں جي سے دعا کي فرمائش کرتے تھے۔ اولاد کے معاملے میں ماں جي کيا واقعي خوش نصيب تھيں۔؟ يہ ايک ايسا ساليہ نشان ہے جس کا جواب آساني سے نہیں سوجھتا۔ ماں جي خود ہي تو کہا کرتي تھيں کہ ان جيسي خوش نصيب ماں دنيا میں کم ہي ہوتي حین۔ ليکن اگر صبر و شکر ، تسليم و رضا کي عينک اتار کر ديکھا جائے تو اس خوش نصيب کے پردے ميں کتنے دکھ ، کتنے غم ، کتنے صدمے نظر آتے ہيں۔

اللہ ميان نے ماں جي کو تين بيٹيان اور تين بيٹے عطا کئے۔ دو بيٹياں شادي کے کچھ عرصے بعد يکے بعد ديگر ے فوت ہو گئيں۔ سب سے بڑا عين عالم شباب ميں انگلستان جا کر گزر گيا ۔ کہنے کو تو ماں جي نے کہہ ديا کہ اللہ کا مال تھا اللہ نے لے ليا۔ ليکن کيا وہ اکيلے ميں چھپ چھپ کر خون کے آننسو رويا نہ کرتي ہون گي۔ جب عبداللہ صاحب کا انتقال ہوا تو ان کي عمر باسٹھ سال اور ماں جي کي عمر پچپن سال تھي ۔ سہ پہر کا وقت تھا ۔ عبداللہ صاہؤ بان کي کھردري چارپائي پر حسب معمول گائو تکيہ لگا کر نيم دراز تھے۔ ماں جي پائنتي پر بيٹھ چاقوں سے گنا چھيل چھيل کر ان کو دے رہي تھيں۔ وہ مزے مزے دے گنا چوس رہے تھے اور مذاق کر رہے تھے۔ پھر يکايک وہ سنجيدہ ہو گئے اور کہنے لگے۔ بھاگوان شادي سے پہلے ميلے ميں ، ميں نے تمہیں گيارہ پيسے ديئے تھے۔ کيا ان کو واپس کرنے کا وقت نہیں آيا؟

ماں جي نے نئي دلہنوں کي طرح سر جھکا ليا اور گنا چھيلنے میں مصروف ہو گئيں۔ ان کے سينے میں بيک وقت بہت خيال امڈ آئے۔ ابھي وقت کہاں آيا ہے۔ سر تاج شادي کے پہلے گيارہ پيسون کي تو بڑي بات ہے۔ ليکن شادي کے بعد جس طرح تم نے ميرے ساتھ نباہ کيا ہے۔ اس پر ميں نے تمہارے پائوں دھو کر پينے ہيں۔ اپني کھال کي جوتياں تمہیں پہناني ہيں۔ ابھي وقت کہاں آيا ہے ميرے سر تاج۔

ليکن قضا و قدر کے بہي کھاتے میں وقت آچکا تھا۔ جب ماں جي نے سر اٹھايا تو عبداللہ صاحب گنے کي قاش منہ ميں لئے گائو تکيہ پر سورہے تھے۔ مان جي نے بہتيرا بلايا، ہلايا، چمکارا ليکن عبداللہ صاحب ايسي نيند سو گئے تھے جس سے بيداري قيامت سے پہلے ہيں نہيں۔ ماں جي نے اپنے باقي ماندہ دو بيٹوں اور ايک بيٹي کو سينے سے لگا لگا کر تلقين کي۔ بچہ رونا مت۔ تمہارا ابا جي جس آرام سے رہے تھے اسي آرام سے چلے گئے۔ اب رونا مت۔ ان کي روح کو تکليف پہنچے گي۔

کہنے کو تو ماں جي نے کہہ ديا کہ اپنے ابا کي ياد میں نہ رونا، ورنہ ان کو تکليف پہنچے گي۔ ليکن کيا وہ خود چوري چھپے اس خاوند کي ياد میں نہ روئي ہوں گي جس نے باسٹھ سال کي عمر تک انہیں ايک الڑ دلہن سمجھا اور جس نےگورنري کے علاوہ اور کوئي سوکن اس کے سر پر لا کر نہيں بھٹائي۔ جب وہ خود چل ديں تو اپنے بچون کے لئے ايک سواليہ نشان چھوڑ گئيں۔ جو قيامت تک انہیں عقيدت کے بيابان ميں سرگرداں رکھے گا۔

اگر مان جي کے نام پر خيرات کي جائے تو گيارہ پيسے سے زيادہ ہمت نہيں ہوتي۔ ليکن مسجد کا ملا پريشان ہے کہ بجلي کا ريٹ بڑھ گيا ہے اور تيل کي قيمت گراں ہو گئي ہے ۔ ماں جي کے نام پر فاتحہ دي جائے تو مکئي کي روتي اور نمک مرچ کي چٹني سامنے آتي ہے ليکن کھانے والا درويش کہتا ہے فاتحہ درود ميں پلائو اور زردے کا اہتمام لازم ہے۔ ماں جي کا نام آتا ہے تو بے اختيار رونے کو جي چاہتا ہے ۔ ليکن اگر رويا جائے تو ڈر لگتا ہے کہ ان کي روح کو تکليف نہ پہنچے اور اگر ضبط کيا جائے تو خدا کي قسم ضبط نہيں ہوتا؛۔
پچھلا صفحہ (6) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu