|
شادي کي رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا،
جب چکلي بھابھي نے پھسلا کر مدن کو بيچ والے کمرے ميں دھکيل ديا تو اندر سامنے
شالوں ميں لپٹي اندھيرے کا بھاگ بني جارہي تھي، باہر چکلي بھابھي اور
دريا باد والي پھوپھي اور دوسري عورتوں کي ہنسي، رات کے خاموش پانيوں ميں
مصري دھيرے دھيرے گھل رھي تھي، عورتيں سب يہي سمجھتي تھيں کہ اتنا بڑا ہوجانے
پر بھي مدن کچھ نہيں جانتا، کيونکہ جب اس بيچ رات سے جگايا گيا، تو بڑ بڑا رہا
تھا، کہاں کہاں لے جارہي ہو مجھے؟
ان عورتوں کے اپنے اپنے دن بيت چکے تھے، پہلي رات کے بارے ميں ان کے شرير
شوہروں نے جو کچھ کہا اور مانا تھا، اس کي گونج تک ان کے کانوں ميں باقي نہ رہي
تھي، وہ خود رس بھر چکي تھيں اور اب اپني ايک اور بہن کو بسانے پر تلي ھوئي
تھيں، زمين کي يہ بيٹياں مرد کو تو يوں سمجھتي تھيں، جيسے بادل کا ٹکڑا ہے، جس
کي طرف بارش کے لئے منہ اٹھا کر ديکھنا ہي پڑتا ہے، نہ برسے تو منتيں مانني
پڑتيں ہيں، چڑھاوے چڑھانے پڑتے ہيں، جادو ٹونے کرنے ہوتے ہيں حالانکہ مدن کا
لکاجي کي اس نئي آبادي ميں گھر کےسامنے کي جگہ ميں پڑا اسي وقت کا منتظر تھا،
پھر شامت اعمال پڑوسي سبطے کي بھينس اس کي کھاٹ ہي کے پاس بندھي تھي، جو بار
بار پھنکارتي ہوئي مدن کو سونگھ ليتي تھي، اور وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اسے
دور رکھنے کي کوشش کرتا، ايسے ميں بھلا نيند کا سوال ہي کہاں تھا؟
سمندر کي لہروں اور عورت کو راستہ بتانے والا چاند ايک کھڑکي کے راستے سے اندر
چلا آيا تھا، اور ديکھ رہا تھا، دروازے کے اس طرف کھڑا مدن اگلا قدم کہاں
رکھتا ہے، مدن کے اپنے اندر ايک گھن گرج سي ہورھي تھي اور اسے اپنا آپ يوں
معلوم ہورہا تھا جيسے بجلي کا کھمبا ہے، جيسے کان لگانے سے اس کے اندر سنسناہٹ
سانئي دي جائےگي، کچھ دير يوں ہي کھڑے رہنے کے بعد اس نے آگے بڑھ کر پلنگ
کو کھينچ کر چاندني ميں کرديا تاکہ دلہن کا چہرہ تو نظر آئے، پھر وہ ٹھٹک گيا،
جب اس نے سوچا۔۔۔۔۔اندو ميري بيوي ہے۔
کوئي پراني عورت تو نہيں جسے نہ چھونے کا سبق بچپن ہي سے پڑھتا آيا ہوں، شالوں
ميں لپٹی ھوئي دلہن کو ديکھتے ھوئے اس نے فرض کر ليا، وہاں اندو کا منہ
ہوگا، اور جب ہاتھ بڑھا کر اس نے پاس پڑي گٹھڑي کو چھوا تو وہيں اندو کا
منہ تھا۔۔۔۔مدن نے سوچا تھا، وہ آساني سے مجھے اپنا آپ نہ ديکھنے دے گي،
ليکن اندو نے ايسا نہ کيا، جيسے پچھلے کئي سالوں سے وہ بھي اسي لمحے کي منتظر
تھي، اور کسي خيالي بھينس کے سونگھتے رہنے سے اسے بھي نيند نہ آرہي ہو۔
غائب نيند اور بند آنکھوں کا کرب اندھيرے کے باجود سامنے پھڑ پھڑاتا ہوا نظر
آرہا تھا، ٹھوڑي تک پہنچتے ھوئے عام طور پر چہرہ لمبوترا ہو جاتا ہے، ليکن يہاں
تو سب ہي گول تھا، شايد اس لئے چاندني کي طرف گال اور ہونٹوں کے بيچ ايک
سائے دار کھوہ سي بني ہوئي تھي، جيسي دو سبز اور شاداب ٹيلوں کے بيچ ہوتي
ہے، ماتھا کچھ تنگ تھا ليکن اس پر ايکا ايکي اٹھنے والے گھنگريالے بال۔
|